پاکستانی فیس بکی دانشور ڈاکٹروں کے بے مثال نسخے/ڈاکٹر محمد شافع صابر

سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں ٹیلی میڈیسن کا اجراء کیا گیا، جس کے تحت فیس بک پر گروپس بنائے گئے۔ ان گروپس میں ڈاکٹرز کو ایڈ کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کی مدد کر سکیں جنہیں ہسپتال منتقل کرنے کی فوری ضرورت نہیں تھی۔

بعد میں ان گروپس میں پاکستانی عوام کو بھی شامل کر لیا گیا تاکہ وہ ڈاکٹرز سے آن لائن مفت مشورہ لے سکیں—اور یہی ٹیلی میڈیسن کا اصل مقصد تھا۔

لیکن ہوا کچھ یوں کہ پاکستانی قوم اپنی عادت سے مجبور نکلی۔ اگر کوئی مریض اپنا مسئلہ بیان کرتا، تو ڈاکٹر کے جواب دینے سے پہلے ہی قوم اپنے “جدید” مشوروں سے نواز دیتی۔ یوں ٹیلی میڈیسن کا تصور ہی ختم ہو کر رہ گیا۔

اب کورونا کی وبا کو ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے، لیکن فیس بک پر وہ تمام ٹیلی میڈیسن گروپس آج بھی موجود ہیں۔ لوگ اب بھی طبی مسائل پر معلومات لیتے ہیں، مگر ڈاکٹرز کی جگہ اب عوام خود ہی ڈاکٹر بن کر اپنے عزیز ہموطنوں کو علاج کے مشورے دے رہی ہے۔

ذیل میں مریضوں کے سوالات اور پاکستانی قوم کے دلچسپ جوابات ملاحظہ فرمائیں:

سوال: ڈاکٹر صاحب، کھانے کے بعد سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔
جواب: کھانے کے بعد پیٹ میں گیس بنتی ہے، جو خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتی ہے اور سر درد کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے بعد 7Up کی بوتل میں دو چمچ نمک ڈال کر پیو، ٹھیک ہو جاؤ گے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب، مجھے پاخانے کے ساتھ خون آتا ہے۔ سرکاری ہسپتال والوں نے بواسیر بتایا ہے اور اس کا حل آپریشن بتایا ہے۔
جواب: بواسیر تب ہوتی ہے جب معدے کی مکمل صفائی نہ ہو۔ “بواسیر ختم” کیپسول استعمال کریں، معدہ صاف ہوگا تو بواسیر خود بخود ختم ہو جائے گی۔

سوال: جب میں صبح اٹھتا ہوں تو پورے جسم کے جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔
جواب: یورک ایسڈ بڑھا ہوا ہے، موٹا گوشت کھانا بند کر دو۔

سوال: یہ میری گردوں کی رپورٹ ہے، یوریا زیادہ ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ڈائلیسس ضروری ہے۔
جواب: زیادہ پانی پیو۔ زیادہ پیشاب آئے گا تو گردے خود ٹھیک کام کرنا شروع کر دیں گے۔

سوال: میں نے بچپن میں کچھ غلط کام کیے ہیں، چند ماہ بعد شادی ہے، میں پریشان ہوں۔ کیا کروں؟
جواب: ویاگرا کی ایک گولی دودھ کے ساتھ کھاؤ۔ یاد رکھنا، ایک ہی کھانی ہے۔ ساتھ روزانہ Surbex-Z کا ایک کیپسول بھی لیا کرو، مردانہ طاقت بحال ہو جائے گی۔

سوال: ایکسیڈنٹ ہوا تھا، ہڈی ٹوٹ گئی ہے، آپریشن سے ڈر لگتا ہے۔
جواب: نیم کے پتوں کی ٹکور کرو، ہڈی جڑ جائے گی۔

سوال: میرے ہمسائے کو دل کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر نے ایکو ٹیسٹ تجویز کیا ہے، کہاں سے کروائیں؟
جواب: صبح اٹھ کر کھجوریں اور شہد ملا کر کھایا کرو، طاقت آئے گی اور دل خود ٹھیک کام کرنے لگے گا۔

سوال: جب میں چلتا ہوں تو ہڈیوں سے کڑکڑ کی آواز آتی ہے۔
جواب: غلط کام چھوڑ دو۔ دودھ میں وٹامن ڈی کا انجیکشن ملا کر پیا کرو، آواز آنا بند ہو جائے گی۔

سوال: ڈاکٹر صاحب، یہ میری سیمین رپورٹ ہے، موٹیلٹی کم ہے، کیا کروں؟
جواب: سگارے کھایا کرو۔

سوال: کوئی ایسا طریقہ ہے کہ سی سیکشن نہ ہو اور میری بیوی کی نارمل ڈلیوری ہو جائے؟
جواب: فلاں گاؤں کا بابا بہت پہنچا ہوا ہے، وہ ایک تعویذ دیتا ہے۔ وہ تعویذ اپنی بیوی کے پیٹ پر باندھ دو، نارمل ڈلیوری ہی ہوگی۔

ایسے اور بھی کئی “لازوال” جوابات موجود ہیں جو پاکستانی فیس بکی مجاہدین ڈاکٹرز نے ٹیلی میڈیسن گروپس میں دیے—اور مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے ان پر عمل بھی کیا!

پاکستان میں، ڈاکٹروں کے علاوہ تقریباً ہر بندہ خود کو ڈاکٹر سمجھتا ہے۔ اسی خود علاجی (self-medication) کے باعث پاکستان میں تقریباً پچانوے فیصد بیکٹیریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت (resistance) پیدا کر چکے ہیں۔

باقی کسر میڈیکل اسٹور والوں نے پوری کر دی ہے، جو خود بھی “ڈاکٹر” بنے ہوئے ہیں اور فارما کمپنیوں کے نمائندے بھی۔ وہ ہر مریض کو اپنی مرضی کی دوا دیتے ہیں اور اکثر ڈاکٹر کے نسخے میں بھی رد و بدل کر دیتے ہیں۔

اب تو رونا بھی نہیں آتا…
لگے رہو بھائی لوگوں!

اپنا تبصرہ لکھیں