کیا قانون واقعی انصاف کا ضامن ہوتا ہے؟ یا کبھی کبھی یہی قانون ظلم کو جواز فراہم کرنے کا ہتھیار بن جاتا ہے؟ تاریخ کے اوراق ہمیں بارہا یہ سبق دیتے ہیں کہ جب طاقت اور انصاف کے درمیان توازن بگڑ جائے تو قانون بھی انسانیت کے خلاف استعمال ہونے لگتا ہے۔ آج ایک بار پھر دنیا اسی دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں اسرائیل اور فلسطین کے جاری تنازع نے نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور انسانی بحران کو بھی جنم دے دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت سے متعلق قانون کی منظوری نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بظاہر یہ قانون “سیکیورٹی” کے نام پر پیش کیا گیا، مگر اس کے اثرات اور نتائج ایک ایسے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جسے نظرانداز کرنا انسانیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہ محض ایک قانونی اقدام نہیں، بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کا امتحان ہے۔
اس قانون کے سب سے بڑے حامی اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر ہیں، جو اپنے سخت گیر اور انتہا پسندانہ خیالات کے باعث پہلے ہی متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینا نہ صرف انصاف ہے بلکہ جیلوں میں گنجائش کے مسئلے کا حل بھی، ایک ایسا بیان ہے جو نہ صرف غیر انسانی بلکہ خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا واقعی کسی ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے انتظامی مسائل کے حل کے لیے انسانی جانوں کا خاتمہ کر دے؟
اس نئے قانون کے تحت اسرائیلی فوجی عدالتوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ محض سادہ اکثریت کی بنیاد پر فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سنا سکیں۔ یہ وہی عدالتیں ہیں جہاں پہلے ہی شفاف ٹرائل، وکیل تک رسائی اور منصفانہ سماعت جیسے بنیادی حقوق اکثر نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ان عدالتوں میں سزا کا تناسب 96 فیصد سے زائد ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انصاف کا عمل یکطرفہ اور غیر متوازن ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کو “قانونی دہشت گردی” قرار دیتی ہیں۔ تنظیم “ضمیر” (Addameer) اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون دراصل منظم قتلِ عام کی ایک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک درجنوں فلسطینی قیدی اسرائیلی تحویل میں طبی غفلت، تشدد اور غیر انسانی سلوک کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایسے میں سزائے موت کے قانون کا نفاذ ان اموات کو ایک قانونی پردہ فراہم کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی قانون، خصوصاً جنیوا کنونشن، واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے افراد پر قابض طاقت کے قوانین کا اس انداز میں نفاذ غیر قانونی ہے۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی یا محض بیانات تک محدود ردعمل ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت کئی اداروں نے اس اقدام کی مذمت تو کی، مگر عملی اقدامات کا فقدان اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے دردناک پہلو عام انسان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ وہ ماں جو اپنے بیٹے کی واپسی کی امید میں ہر رات جاگتی ہے، وہ بچے جو اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو کر بڑے ہو رہے ہیں، اور وہ خاندان جو ہر لمحہ خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں—یہ سب اس تنازع کی وہ قیمت ہے جو کسی بھی سرکاری بیان یا سیاسی تجزیے میں مکمل طور پر بیان نہیں کی جا سکتی۔
یہ قانون نہ صرف فلسطینیوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر ایک ریاست کو یہ اجازت مل جائے کہ وہ اپنے زیرِ تسلط افراد کے لیے اس طرح کے قوانین نافذ کرے، تو یہ عالمی نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین دھچکا ہوگا۔ کل کو کوئی اور طاقت بھی اسی مثال کو دہرا سکتی ہے، اور یوں ظلم ایک معمول بن جائے گا۔
دنیا کو اس وقت محض بیانات اور مذمت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ عملی اقدامات، شفاف تحقیقات، اور بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی ہی اس بحران کا حل پیش کر سکتی ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس قانون کا جائزہ لیں بلکہ اس کے اثرات کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی بھی اپنائیں۔
یہ معاملہ صرف فلسطین یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں یا خاموشی اختیار کر کے ظلم کو تقویت دے رہے ہیں؟
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اگر کسی فیصلے پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں نظام میں خرابی ضرور موجود ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کا یہ قانون بھی ایسے ہی سوالات کو جنم دے رہا ہے، جن کے جوابات دینا عالمی برادری کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
کیا ہم ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں قانون انسان کی حفاظت کے بجائے اس کے خاتمے کا ذریعہ بن جائے؟ یا ہم وہ نسل بننا چاہتے ہیں جو ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کا علم بلند کرے؟ آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال پوچھیں گی—اور ہمارا جواب ہی ہماری پہچان بنے گا۔


