انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے، اتنی ہی قدیم اس کی تلاش بھی ہے، سچ کی تلاش، معنی کی تلاش اور اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش۔ ہر دور میں انسان نے سوال کیے ہیں، کیوں پیدا ہوا، کہاں جانا ہے اور اس زندگی کا مقصد کیا ہے۔ انہی سوالوں کے جواب میں مذاہب سامنے آئے، جنہوں نے انسان کو ایک ضابطۂ حیات دیا، ایک اخلاقی سمت دی اور ایک ایسی بنیاد فراہم کی جس پر معاشرہ کھڑا ہو سکے۔ہر انسان اپنے عقیدے کو سچ مانتا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن آخری کتاب ہے اور اسلام آخری دین۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اپنے عقائد کو درست اور مکمل سمجھتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے یقین کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا دوسروں کے عقائد کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہاں سے وہ دراڑ شروع ہوتی ہے جو آگے چل کر نفرت، تعصب اور تقسیم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اگر ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان لاکھوں سال سے اس زمین پر موجود ہے۔ وقت کے ساتھ اس کی سوچ، اس کا شعور اور اس کی سمجھ بوجھ ترقی کرتی رہی۔ ابتدائی انسان نہ قانون جانتا تھا، نہ ریاست کا تصور رکھتا تھا، نہ کوئی تحریری ضابطہ اس کے پاس تھا۔ ایسے میں ایک اخلاقی نظام کی ضرورت تھی جو اسے صحیح اور غلط کا فرق سکھا سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب نے ایک طاقتور کردار ادا کیا۔ مذہب نے انسان کو بتایا کہ جھوٹ برا ہے، ظلم غلط ہے اور انصاف ضروری ہے، چاہے اس کا فوری نتیجہ نظر آئے یا نہ آئے۔مذہب نے صرف قوانین نہیں دیے بلکہ ایک اندرونی احتساب کا تصور بھی دیا۔ یہ احساس کہ انسان اپنے ہر عمل کے لیے جوابدہ ہے، چاہے دنیا میں کوئی اسے نہ دیکھے۔ یہی تصور آخرت، جزا و سزا اور اللہ کی نگرانی کے ذریعے انسان کے دل میں بٹھایا گیا۔ اس کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ انسان کو ایک ذمہ دار ہستی بنانا تھا۔
لیکن وقت کے ساتھ ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ ہم نے مذہب کی روح کو چھوڑ کر اس کی ظاہری شکلوں کو پکڑ لیا۔ ہم نے اصولوں کی بجائے رسموں کو اہمیت دینا شروع کر دی۔ ہم نے یہ دیکھنا چھوڑ دیا کہ مذہب ہمیں کیا سکھانا چاہتا ہےاور یہ دیکھنا شروع کر دیا کہ ہم دوسروں کو کیسے غلط ثابت کر سکتے ہیں۔اسلام خود ہمیں سکھاتا ہے کہ “دین میں کوئی جبر نہیں”۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ہمیں برداشت، رواداری، اور احترام کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں آپ نے نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی عدل، احسان اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔
آج کا انسان ایک نئے دور میں جی رہا ہے۔ سائنس نے ترقی کی ہے، علم کے ذرائع بڑھ گئے ہیں اور سوالات کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم مذہب کو سمجھنے کا انداز بھی بہتر کریں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مذہب کے بنیادی اصول کیا ہیں اور وہ آج کے مسائل میں ہماری کیسے رہنمائی کر سکتے ہیں۔یہ کہنا آسان ہے کہ “ہم وہی کریں گے جو صدیوں پہلے کیا گیا”، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کی اصل روح کو سمجھ بھی رہے ہیں؟ اگر ہم صرف الفاظ کو دہراتے رہیں اور ان کے مقصد کو نہ سمجھیں تو پھر وہ علم نہیں رہتا محض روایت بن جاتا ہے۔اصل علم وہ ہے جو ہر دور کے سوالوں کا جواب دے سکے، جو انسان کو بہتر انسان بنائے، جو معاشرے میں انصاف، محبت اور بھائی چارہ پیدا کرے۔ اگر ہمارا علم ہمیں دوسروں سے نفرت سکھا رہا ہے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم نے اصل پیغام کو غلط تو نہیں سمجھ لیا۔
اسلام ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن بار بار کہتا ہے کہ “کیا تم عقل نہیں رکھتے؟” یہ سوال ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے ہے، ہمیں سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے ایمان پر شک کریں بلکہ یہ کہ ہم اپنے ایمان کو سمجھیں، اسے شعور کے ساتھ اپنائیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں مختلف مذاہب کا وجود ایک حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن (سورة النحل ،93)میں فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف ایک فطری چیز ہےاور ہمیں اس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔دوسروں کے عقائد کا احترام کرنا ہمارے اپنے ایمان کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اسے مضبوط بناتا ہے۔ جب ہم دوسروں کو سننے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں، تو ہم خود بھی سیکھتے ہیںاور اپنے اندر برداشت پیدا کرتے ہیں۔
آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مذہب کو تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے انسانیت کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مذہب کی بنیاد میں اخلاقیات، محبت اور انسانیت کا درس موجود ہے۔اگر ہم اپنے ایمان کو ایک ہتھیار بنا لیں گے تو ہم دوسروں کو زخمی کریں گے، اور اگر اسے ایک روشنی بنا لیں گے تو ہم دوسروں کے راستے روشن کریں گے۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے، کیا ہمارا مذہب ہمیں بہتر انسان بنا رہا ہے؟ کیا ہم سچ بول رہے ہیں، انصاف کر رہے ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کر رہے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ہم صحیح راستے پر ہیں اور اگر نہیں، تو ہمیں اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔یہی اصل کامیابی ہے، یہی اصل دین ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہمیں نہ صرف ایک بہتر مسلمان بلکہ ایک بہتر انسان بھی بنا سکتا ہے۔


