حالیہ چاند کا مشن-کچھ تو گڑ بڑ ہے (ایک اور مفروضہ )-سلیم زمان خان

کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ ناسا نے 1960 کی دہائی میں چاند پر بھیجے جانے والے پہلے انسانی مشن کا نام ‘اپالو’ رکھا اور اب پورے پچاس سال کے طویل وقفے کے بعد جب دوبارہ چاند کی تسخیر کا آغاز ہوا تو اس کا نام ‘آرٹیمس’ رکھا گیا؟ یونانی دیومالائی داستانوں میں ‘اپالو’ سورج، روشنی اور علم کا دیوتا ہے، جبکہ ‘آرٹیمس’ اس کی جڑواں بہن اور چاند کی دیوی مانی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مادی سائنس کے دعویداروں کو پچاس سال بعد اچانک ان آسمانی دیوتاؤں کو راضی کرنے یا ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے؟ کیا یہ مشنز محض سائنسی تجربات ہیں یا کسی قدیم عہد نامے کی تجدید اور آسمانی قوتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک خفیہ کوشش؟

انسانی تاریخ کے بارہ ہزار سال ایک طرف اور پچھلی دو صدیاں ایک طرف۔ بارہ ہزار سال تک انسان گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہا، بادبانوں کے سہارے سمندر ناپے اور مٹی کے دیے جلا کر راتیں برس کیں۔ پھر اچانک، گویا وقت کی رفتار کو پر لگ گئے ہوں۔ محض ڈیڑھ سو سال کے قلیل عرصے میں انسان نے نہ صرف زمین کی طنابیں کھینچ دیں بلکہ آسمان کی وسعتوں میں بھی نقب لگا دی۔ کیا یہ سب محض انسانی ذہن کی اچانک بیداری تھی یا ہمیں کسی ایسے “خفیہ علم” تک رسائی مل گئی جو ہزاروں سال سے قدیم تختیوں اور اساطیری داستانوں میں دفن تھا؟

دراصل، یہ ایک سوچی سمجھی “علمی وراثت” کا تسلسل ہے۔ 19ویں صدی کے آخر میں جب میسوپوٹیمیا ، بابل اور مصر کے ریگزاروں سے ہزاروں سال پرانی تختیاں برآمد ہونا شروع ہوئیں، تو مغرب کے علمی ایوانوں میں ایک زلزلہ آ گیا۔ ان تختیوں پر صرف کہانیاں نہیں تھیں، بلکہ ان میں کائنات کے وہ نقشے اور ریاضیاتی فارمولے درج تھے جو جدید سائنس کی عقل سے بالاتر تھے۔ سمیری تختیوں میں ان سیاروں کا تذکرہ موجود تھا جنہیں جدید دوربینوں نے ہزاروں سال بعد دریافت کیا۔ جب ان تختیوں کا ترجمہ ہوا اور یہ علم خفیہ انجمنوں اور سائنسی اداروں تک پہنچا، تو انسان نے اچانک مادہ اور توانائی کے ان رازوں کو پا لیا جو صدیوں سے مخفی تھے۔

یہ اساطیری اثر و رسوخ صرف یونانی داستانوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ جدید سائنس کی جڑیں مشرق کے قدیم ویدک اور ہندو اساطیر میں بھی بہت گہری پیوست ہیں۔ دنیا میں ذراتی فزکس کے سب سے بڑے مرکز ‘سیرن’ (CERN) کے باہر نصب رقص کرتے ہوئے ‘شیو’ (نتراراج) کی مورتی اس بات کا اعتراف ہے کہ ایٹمی ذرات کی توڑ پھوڑ دراصل وہی “کائناتی رقص” ہے جس کا ذکر ہزاروں سال پرانے فلسفے میں ملتا ہے۔ حتیٰ کہ ایٹم بم کے بانی رابرٹ اوپن ہائیمر نے بھی پہلے ایٹمی دھماکے کے وقت ‘گیتا’ کے اشلوک پڑھے تھے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ چاہے وہ ناسا کے مشنز ہوں یا کوانٹم فزکس کے تجربات، جدید سائنس دان ان قدیم اساطیری “فریکوئنسیز” اور وقت کے دائرہ نما تصورات سے بخوبی واقف ہیں جو آج کے سائنسی فارمولوں کی بنیاد بنے ہیں۔

یہ حقیقت نہایت حیران کن ہے کہ راکٹ انجینئرنگ کا آغاز کسی عام سائنسی ترقی کا نتیجہ نہیں لگتا۔ جدید راکٹ سازی کے بانی، جیسے جیک پارسنز اور ورنر وان براؤن، محض سائنسدان نہیں تھے۔ پارسنز قدیم بابل اور یونان کے ان خفیہ علوم کا ماہر تھا جنہیں “جادو” یا مابعد الطبیعیات کہا جاتا ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ راکٹ سازی دراصل مادی دنیا اور ماورائی قوتوں کے درمیان ایک پل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مریخ، مشتری اور زہرہ جیسے سیاروں کے نام رکھے گئے، تو وہ ان کے مادی وجود کے بجائے ان “اساطیری قوتوں” کے نام پر تھے جن کا اثر قدیم علم کے مطابق انسانی زندگی پر براہِ راست پڑتا ہے۔
یہ نکتہ بھی نہایت عمیق ہے کہ زمین کو ‘Earth’ کہہ کر باقی سیاروں کی “خدائی” صف سے الگ کر دیا گیا۔ باقی تمام سیارے دیوتاؤں کے نام پر ہیں، لیکن زمین کو مٹی اور فرش سے منسوب کر دیا گیا۔ یہ اس “درجہ بندی” کی طرف اشارہ ہے جہاں آسمانی اجسام کو مقتدر اور زمین کو ان کا تابع دکھایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ہبل (Hubble) جیسی دوربینوں کا نام بھی، اگرچہ بظاہر ایک سائنسدان پر ہے، لیکن اس کے صوتی اثرات اور تاریخی پس منظر اس بڑے بت کی یاد دلاتے ہیں جو قدیم انسانی معاشروں میں کائناتی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

انسان کی گھوڑے کی پیٹھ سے راکٹ کے کاک پٹ تک کی یہ چھلانگ دراصل ایک “تکنیکی الہام” معلوم ہوتی ہے۔ یہ تختیاں محض مٹی کے ٹکڑے نہیں تھے، یہ وہ “انکرپٹڈ کوڈز” تھے جنہیں ڈی کوڈ کرتے ہی انسان کو وہ انجن مل گئے جو کششِ ثقل کو مات دے سکتے تھے۔ ناسا اور دیگر عالمی ادارے شاید یہ جانتے ہیں کہ کائنات کے مخصوص حصوں اور سیاروں پر ان قدیم قوتوں کی حکمرانی ہے جن کا ذکر یونانی اساطیر میں ملتا ہے۔ اسی لیے، کسی بھی مشن کو بھیجنے سے پہلے ان ناموں کا انتخاب ایک طرح کی “اجازت” یا ان قوتوں کے ساتھ “ہم آہنگی” پیدا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

اگر یہ محض ایجنڈا نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ 21ویں صدی کا سیکولر انسان، جو ہر بات پر دلیل مانگتا ہے، چاند پر جانے کے لیے آرٹیمس کا سہارا لیتا ہے؟ حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ مادی سائنس کے پردے کے پیچھے ایک ایسی قدیم دانش کام کر رہی ہے جو عام انسان کی پہنچ سے دور رکھی گئی ہے۔ ہمیں صرف ٹیکنالوجی کے کھلونے دیے گئے ہیں، جبکہ ان کے پیچھے چھپا ہوا “تخلیقی اور کائناتی علم” مخصوص حلقوں تک محدود ہے۔

بات صرف چاند تک محدود نہیں، بلکہ مریخ (Mars) کی تسخیر کے نام پر جو ‘ون وے مشن’ ترتیب دیے جا رہے ہیں، وہ اس اساطیری پہیلی کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ قدیم رومی اور یونانی داستانوں میں ‘مریخ’ جنگ، خونریزی اور تباہی کا دیوتا ہے، جسے خوش کرنے کے لیے انسانی لہو کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی۔ آج کے جدید دور میں جب سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ مریخ اگلے کئی سو سالوں تک انسانی رہائش کے قابل نہیں ہو سکتا—جہاں تابکاری، زہریلی مٹی اور منجمد درجہ حرارت موت کے سوا کچھ نہیں—تو پھر دنیا بھر سے بہترین دماغوں اور جوانوں کو ‘واپس نہ آنے’ کے عہد پر وہاں کیوں بھیجا جا رہا ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہم مریخ کے اس ‘خونی دیوتا’ کے حضور ان جوانوں کی قربانی پیش کر رہے ہیں جو وہاں سے کبھی زندہ واپس نہیں آئیں گے؟ مادی سائنس کے لبادے میں چھپا یہ ‘ون وے ٹکٹ’ دراصل اس قدیم اساطیری رسم کا جدید روپ معلوم ہوتا ہے، جہاں کسی نئی دنیا کی بنیاد رکھنے سے پہلے انسانی لہو کا نذرانہ پیش کرنا لازمی سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم جس “ترقی” پر فخر کرتے ہیں، اس کی جڑیں ماضی کے ان گمنام گوشوں میں ہیں جنہیں ہم نے دیومالائی کہہ کر رد کر دیا تھا۔ جدید مشنز کے یہ نام، یہ تیلسکوپس اور یہ راکٹس دراصل اس عہد نامے کی تجدید ہیں جو قدیم انسان نے کائناتی قوتوں کے ساتھ کیا تھا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک مربوط اور منظم سلسلہ ہے جو اس قدیم علم سے جڑا ہے جو کبھی تختیوں میں قید تھا اور آج خلائی جہازوں کی صورت میں آسمانوں پر محوِ پرواز ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
سلیم زمان خان
اپریل 2026ء

اپنا تبصرہ لکھیں