سفارت کا نیا باب: انکار جو اعلان بن گیا/محمد فاروق نتکانی

یہ منظر محض سفارت کی میز پر رکھے چند کاغذوں کا نہیں، یہ مشرق و مغرب کے دو متضاد مزاجوں کا ٹکراؤ ہے. ایک طرف مغرب کا وہ ذہن ہے جو دنیا کو اپنی سرد منطق میں تولتا ہے، جہاں طاقت، سرمایہ اور بالادستی ہی حرفِ آخر ٹھہرتے ہیں؛ اور دوسری طرف مشرق کا وہ شعور ہے جو کبھی مزاحمت، کبھی روایت، اور کبھی خاموشی میں چھپی حکمت سے اپنا وجود منواتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب امریکہ نے سفارت کو ایک “کاروباری معاہدہ” سمجھا، تو دراصل وہ مغربی فکر کے اس استعارے کو زندہ کر رہا تھا جہاں ہر شے قابلِ خرید و فروخت ہے. اصول بھی، انسان بھی، اور ریاستیں بھی۔ مگر ایران نے اس کھیل کو ایک ایسے زاویے سے دیکھا جو مشرقی تہذیب کا خاصہ ہے: یہاں انکار بھی ایک زبان ہوتا ہے، اور خاموشی بھی ایک اعلان!

یہ صرف دو ملکوں کی کشمکش نہیں، بلکہ دو نظریات کی جنگ ہے. امریکہ طاقت کے ترازو پر انصاف کو تولتا ہے، اور ایران مزاحمت کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔ مگر یہاں ایک نیا زاویہ ابھرتا ہے: ایران نے نہ مکمل جارحیت کا راستہ اختیار کیا، نہ قطعی مزاحمت کی روش اپنائی بلکہ اس نے ایک تیسری راہ نکالی، جسے ہم “حکمت” کہہ سکتے ہیں، جہاں فیصلے جذبات سے نہیں، موقع شناسی سے جنم لیتے ہیں۔

اسلام آباد کی فضا میں گونجتے مذاکرات، دراصل مغرب کی اس عادت کا تسلسل تھے کہ وہ ہر مسئلہ کھڑا کرکے مسئلے کو میز پر لا کر حل کرنا چاہتا ہے کیونکہ میز اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔ مگر ایران نے میز ہی کو الٹ دیا۔ اس نے بتایا کہ کبھی کبھی سب سے بڑا مکالمہ، مکالمہ نہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مشرق نے مغرب کو اس کی اپنی زبان میں جواب نہیں دیا، بلکہ اپنی خاموشی کی لغت میں ایک نیا باب رقم کیا۔

آبنائے ہرمز یہاں محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں رہی، یہ ایک فلسفیانہ استعارہ بن چکی ہے. ایک دروازہ جو کبھی کھلتا ہے تو دنیا کو یقین دلاتا ہے کہ طاقت کے دباؤ نے اثر دکھایا، اور جب دوبارہ بند ہوتا ہے تو اعلان کرتا ہے کہ اصل اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ دروازہ دراصل مشرق کی اس صدیوں پرانی حکمت کی علامت ہے جس میں صبر بھی ہتھیار ہوتا ہے اور وقت بھی۔

امریکہ ہمیشہ فوری نتائج کا متلاشی رہا ہے. تیز، فیصلہ کن، اور بعض اوقات جارحانہ۔ مگر ایران تاریخ کو ایک طویل سانس کے ساتھ دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر وار کا جواب اسی لمحے دینا ضروری نہیں؛ بعض اوقات خاموشی خود ایک ایسا وار ہوتی ہے جو دیر سے لگتا ہے مگر گہرا لگتا ہے۔

ٹرمپ کی “ڈیل” دراصل مغرب کے اس یقین کی نمائندگی کرتی تھی کہ دنیا ایک بازار ہے، اور ہر مسئلہ ایک سودا۔ مگر ایران نے اس تصور کو چیلنج کیا۔ اس نے کہا کہ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو قیمت پر نہیں، وقار پر ہوتے ہیں۔ اور وقار، جناب، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ بیچا جا سکتا ہے یہ یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔

اب منظر بدل چکا ہے۔ امریکہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اس کا ایک بازو اسے طاقت کے استعمال کی طرف کھینچتا ہے، اور دنیا کی بدلتی حقیقتیں اسکے بائیں بازو کو احتیاط اور توازن کی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر اس کشمکش میں ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے: کھیل کے اصول بدل چکے ہیں۔

تاریخ کے اوراق پر کچھ فیصلے سیاہی سے نہیں، لہو اور صبر کے امتزاج سے لکھے جاتے ہیں اور جب لکھے جاتے ہیں تو پھر صدیوں تک مٹتے نہیں!

اور آج یہی لکھا جا رہا ہے:
کہ سیاست صرف طاقت کا نام نہیں، بلکہ حکمت، صبر اور بروقت انکار کا وہ ہنر ہے جو سلطنتوں کے غرور کو بھی جھکا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں