عابد رفیق کے افسانہ ”مجاور “ کی فکری جہات/شاہد عزیز انجم

عابد رفیق کا افسانہ ”مجاور“اپنے فکری اور علامتی نظام کے اعتبار سے معاصر اردو افسانے کی ایک اہم تخلیق ہے۔ یہ افسانہ محض ایک پراسرار ملنگ یا مجذوب شخص کی کہانی نہیں بلکہ انسان کی داخلی شناخت، روحانی جستجو، محبت کے حقیقی مفہوم، مادیت زدہ معاشرے کی بے حسی اور وجودی کرب کی پیچیدہ تعبیر ہے۔ افسانہ ابتدا ہی سے دو متضاد دنیاؤں کو سامنے لاتا ہے؛ ایک وہ دنیا جو ظفر جیسے کرداروں کی نمائندگی کرتی ہے جہاں ہوس، جسمانی کشش، مادیت، غرور اور سطحی زندگی کا غلبہ ہے، اور دوسری وہ دنیا جو مجاور کے کردار میں جلوہ گر ہوتی ہے جہاں انسان اپنی ذات، روح اور عشقِ حقیقی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہی تصادم افسانے کا بنیادی فکری محور بن جاتا ہے۔
افسانے کا سب سے اہم فکری پہلو ”روح کی تلاش“ ہے۔ مجاور کا یہ جملہ کہ ”میں یہاں اپنی روح کے مزار کی مجاوری کرنے کو آیا ہوں“ پورے افسانے کی فکری بنیاد تشکیل دیتا ہے۔ یہاں روح محض مذہبی یا صوفیانہ تصور نہیں بلکہ انسان کی اصل شناخت، داخلی سچائی اور وجودی تکمیل کی علامت ہے۔ مجاور دراصل اس جدید انسان کی نمائندگی کرتا ہے جو ہجوم میں رہتے ہوئے بھی خود سے کٹا ہوا ہے اور اپنی گمشدہ ذات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ دنیاوی رشتوں، آسائشوں اور سماجی شناخت سے الگ ہو کر اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہا ہے کہ انسان اصل میں ہے کیا؟ اس کی تکمیل کس چیز میں ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مجاور کا کردار تصوف، وجودیت اور داخلی شعور کا مرکب محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح افسانے میں عشق کا تصور بھی نہایت گہرائی کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ یہاں عشق صرف عورت اور مرد کے تعلق تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسی روحانی کیفیت بن جاتا ہے جو انسان کو اپنی ذات کی پہچان عطا کرتی ہے۔ قاسم اور ظفر کے مکالمے میں یہ فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔ ظفر کے نزدیک محبت جسمانی کشش، لذت اور ہوس کا نام ہے جبکہ قاسم کے نزدیک محبت انسان کو اپنی ذات سے آگاہ کرتی ہے۔ مجاور اسی اعلیٰ تصورِ عشق کا نمائندہ ہے۔ اس کا چودھویں کے چاند کی رات دھمال ڈالنا، سینہ کوبی کرنا اور خود کو عشق کی مستی میں فنا کر دینا دراصل اس روحانی واردات کی علامت ہے جہاں انسان مادیت کے حصار سے نکل کر ایک ماورائی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔
عابد رفیق افسانے میں جدید معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور روحانی زوال پر بھی گہرا طنز کرتے ہیں۔ ظفر کا کردار اسی زوال کی علامت ہے۔ وہ اپنی ماں کی محبت، خاندان کے مسائل اور انسانی ہمدردی سے بے نیاز صرف جسمانی خواہشات میں مبتلا ہے۔ ڈانسرز کی تصاویر کو ہوس بھری نگاہ سے دیکھنا، محبت کو جسمانی لذت تک محدود سمجھنا اور مجاور جیسے روحانی کردار سے نفرت کرنا دراصل اس عہد کے انسان کی ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔ ظفر کے اندر موجود نفرت، غرور اور مادیت اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید انسان اپنی روحانی بنیادوں سے کٹ چکا ہے۔ وہ ہر اس وجود کو خطرہ سمجھتا ہے جو اسے اس کے اندر کی خالی پن کا احساس دلائے :
”اماں جلدی کر میکوں دیر ہوندی پئی اے“ یہ کہہ کر ظفر نے جیب سے موبائل نکالا اور رات کے فنکشن میں آئی ڈانسرز کی تصویروں کو اتنا زوم کر کے دیکھا کہ سکرین پر صرف ان کے ابھار ہی موجود تھے جو اس کے کنوارے جسم میں ارتعاش پیدا کرنے کو کافی تھے،ظفر نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری اور بے اختیاری میں سکرین پر موجود ابھاروں کو چومنا چاہا کہ اس کی وحشت کو ممتا کی موجودگی نے یہ لذت حاصل کرنے سے روک دیا اور وہ جھینپ کر اپنی اس حرکت پر نادم ہونے کے باوجود سوچ رہا تھا کہ اگر رات کو میری جیب میں نوٹوں کے دو اضافی بنڈل ہوتے تو میں ناصر سے زیادہ پیسے لٹانے پر بازی لے جاتا اور پھر آج کی رات ان ابھاروں والی کی مہکتی زلفوں میں گزرتی جو نصیبو کے گانے پر یوں کمر کو لچکاتی تھی جیسے ربڑ کی گڑیا ہو۔“
اس کے برعکس قاسم افسانے کا وہ کردار ہے جو فکری بیداری اور شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے، سوچتا ہے، محبت کو محض جسمانی تعلق نہیں سمجھتا اور مجاور کی گفتگو سے متاثر ہوتا ہے۔ قاسم دراصل اس نوجوان نسل کی علامت ہے جو جدید دنیا کے شور میں بھی معنی، سچائی اور روحانی سکون کی تلاش میں ہے۔ مجاور کے ساتھ اس کے مکالمے افسانے کے فکری نظام کو گہرائی عطا کرتے ہیں۔ ان مکالموں میں زندگی، نیند، حاصل و لاحاصل، روح، جسم اور سکون جیسے موضوعات فلسفیانہ انداز میں سامنے آتے ہیں۔ خاص طور پر یہ خیال کہ ”حاصل و ، لاحاصل کچھ بھی نہیں“ جدید انسان کی اس دوڑ پر تنقید ہے جس میں وہ ساری زندگی سکون کی تلاش میں بے سکونی خریدتا رہتا ہے۔
پھر انسان اس حاصل و لاحاصل کے درمیاں کیوں اپنی زندگی گزار دیتا ہے؟
میرے دوست حاصل و لاحاصل تو کچھ بھی نہیں ہوتا،یہ تکرار صرف ذہنی تسکین کی خاطر انسان نے جنم دے دی ہے کہ جینے کو تو ایک لمحہ ہی کافی ہوتا اور اگر وہ لمحہ سکون کا ہو تو اس کی لذت بقیہ ہزاروں،کروڑوں لمحوں پر بازی لے جاتی ہے ورنہ سکون کی تلاش اور حاصل کی جستجو کٸ انسانوں کو زندگی میں چین نہیں لینے دیتی۔“
فنی سطح پر بھی یہ افسانہ شاندا ر ہے۔ منظر نگاری اس قدر جاندار ہے کہ چاندنی رات، جھونپڑی، دھمال، خاموش کھیت اور مجاور کی وحشت زدہ آنکھیں قاری کے ذہن میں تصویری کیفیت پیدا کر دیتی ہیں۔ خاص طور پر مجاور کے داخلی کرب کو بیان کرنے کے لیے جو استعاراتی اور علامتی زبان استعمال ہوئی ہے، وہ افسانے کو محض بیانیہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے فکری اور جمالیاتی سطح پر بلند کر دیتی ہے۔ ”مجاور“ عابد رفیق کا ایک ایسا افسانہ ہے جو محبت، روح، شناخت اور وجود کی تلاش کو جدید سماج کی مادہ پرستی اور اخلاقی زوال کے مقابل رکھ کر دیکھتا ہے۔ یہ افسانہ قاری کو صرف کہانی نہیں سناتا بلکہ اسے اپنی ذات، اپنے اندر کے خلا اور اپنی روحانی گمشدگی پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو عابد رفیق کو معاصر اردو افسانے میں ایک منفرد اور فکری افسانہ نگار کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں