تعلیم نہیں کاروبار ہے/علی عباس کاظمی

تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں استاد عزت پائے، وہاں علم پھلتا ہے، کردار بنتا ہے اور مستقبل سنورتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم ایک مقدس فریضہ کم اور ایک نفع بخش کاروبار زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر نجی تعلیمی اداروں میں جو صورتِ حال سامنے آتی ہے، وہ کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ استاد کی عزت، طالب علم کی سہولت، والدین کی استطاعت اور تعلیم کے اصل مقصد ۔۔۔یہ سب کہیں نہ کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ فیس، فنڈ اور فنکشنز کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔

سب سے پہلے استاد کی حالت دیکھیے۔ ایک ایم اے، ایم فل یا اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد صبح سے شام تک پوری محنت سے پڑھاتا ہے، بچوں کی تیاری کراتا ہے، والدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے، انتظامیہ کے حکم مانتا ہے مگر آخر میں اس کے ہاتھ میں جو تنخواہ آتی ہے وہ اکثر شرم دلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ دس، بارہ یا پندرہ ہزار روپے میں ایک تعلیم یافتہ انسان سے وہ سب کچھ لیا جاتا ہے جس کے لیے ایک مکمل ٹیم چاہیے ہوتی ہے۔ یہ تنخواہ نہ استاد کی محنت کا صلہ ہے، نہ اس کی عزت کا اعتراف۔ یہ تو ایسے ہے جیسے کسی ہنر مند سے سونے کا کام لیا جائے اور اجرت مٹی کے برابر دی جائے۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ نجی سکولوں میں استاد کی نوکری اکثر مستقل نہیں ہوتی۔ ایک شکایت، ایک ضد، ایک والدین کی ناراضی یا مالکان کی مرضی کے خلاف ایک لفظ۔۔۔اور استاد گھر بھیجا جا سکتا ہے۔ کبھی بچوں کی تعداد کم ہونے کا بہانہ، کبھی “اب آپ کی ضرورت نہیں رہی” کا جملہ اور کبھی تنخواہ بڑھانے کی بات پر خاموشی سے دروازہ دکھا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد کی حیثیت اتنی ہی رہ گئی ہے کہ اسے جب چاہیں رکھ لیا جائے اور جب چاہیں نکال دیا جائے؟ استاد صرف نوکری کرنے والا شخص نہیں، یہ قوم کے ذہن بنانے والا معمار ہے۔ اس کی بے قدری دراصل پورے معاشرے کی بے قدری ہے۔

دوسری طرف والدین کی حالت بھی قابلِ غور ہے۔ نجی سکولوں نے تعلیم کے نام پر ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کو پڑھانا ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ داخلہ فیس، سالانہ فیس، ماہانہ فیس، امتحانی فنڈ، اسپورٹس فنڈ، رجسٹریشن فیس، ٹرپ فیس، کتب فیس، کاپی فیس، یونیفارم فیس اور نہ جانے کتنے ناموں سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک بچے کی تعلیم کم اور ایک خاندان کی جیب خالی کرنے کا پورا منصوبہ زیادہ ہو۔یہی نہیں، بعض اداروں نے سکول کے اندر ہی کاروبار بسا رکھا ہے۔ کتابیں اپنی، کاپیاں اپنی، یونیفارم اپنی، جوتے مخصوص، بیگ مخصوص اور کینٹین کا سامان بھی منہ مانگے داموں۔ یعنی تعلیم بھی انہی کی، ضرورت کی ہر چیز بھی انہی کی اور منافع بھی انہی کا۔ غریب والدین ہر مہینے حساب لگاتے رہ جاتے ہیں کہ بچے کو پڑھائیں یا گھر کا خرچ چلائیں۔ یہ صورتحال صرف معاشی دباؤ نہیں، ذہنی اذیت بھی ہے۔

پھر سب سے حساس معاملہ غیر ضروری تقریبات اور رنگا رنگ دنوں کا آتا ہے۔ پنک ڈے، یلو ڈے، فیئر ویل، سالگرہ، ٹرپ، اور فنکشنوں کی ایک لمبی فہرست۔ بظاہر یہ سب بچوں کی خوشی کے نام پر ہوتا ہے مگر حقیقت میں اکثر یہ والدین کے لیے ایک اور خرچ اور ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے اگر تہذیب، سلیقہ، نظم، اخلاق اور علم دیں تو یہ سب سے بڑی خوشی ہے۔ ہر ہفتے ایک نیا فنکشن بچوں کی تربیت نہیں کرتا، بلکہ کبھی کبھی انہیں دکھاوا، مقابلہ بازی اور غیر ضروری خواہشات کا عادی بنا دیتا ہے۔اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی ہےکہ تربیت کے نام پر غیر ضروری اور بعض اوقات نامناسب مواد۔ تعلیم کا مطلب صرف نمبر اور امتحان نہیں ہوتا۔ تعلیم انسان بناتی ہے، اخلاق سکھاتی ہے، ذمہ داری سکھاتی ہے، اور زندگی کے اصول بتاتی ہے۔ اگر نصاب یا سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو ایسا ماحول دیا جا رہا ہے جو ہمارے مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار سے ٹکراتا ہو، تو یہ صرف تعلیم نہیں، تربیت کی ناکامی ہے۔ جدیدیت کا مطلب ہر ہر فیشن کی اندھی تقلید نہیں۔ جدید ہونا ضروری ہے، لیکن اپنی تہذیب، اپنی پہچان اور اپنے اخلاق کو کھو کر نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ سب سے پہلے نجی تعلیمی اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم عبادت بھی ہے اور امانت بھی۔ اسے محض کاروبار سمجھنا قوم کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ استاد کو معقول تنخواہ، ملازمت کا تحفظ اور عزت دیں۔ ایک استاد اگر مطمئن ہو گا تو وہ بہتر پڑھائے گا۔ اگر وہ ہر وقت نوکری کے خوف میں مبتلا رہے گا تو اس کی ذہنی کیفیت بچے بھی محسوس کریں گے۔ فیسوں اور فنڈز کے معاملے میں شفافیت ضروری ہے۔ ہر چیز کا الگ الگ نام بنا کر والدین سے پیسے لینے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ اگر کوئی فیس لی جاتی ہے تو اس کی واضح وجہ ہو، تحریری ریکارڈ ہو اور اس کا استعمال بھی سامنے ہو۔ اسکول ایسا ہو کہ داخلہ لیتے وقت والدین کو کاروبار نہیں بلکہ تعلیم نظر آئے۔ حکومت کو نجی شعبے پر صرف کاغذی نہیں، عملی نگرانی کرنی چاہیے۔ ایسے اصول بننے چاہییں جن کے مطابق استاد کی کم از کم تنخواہ، برطرفی کے قواعد، فیسوں کی حد، کتابوں اور یونیفارم کے معاملات اور غیر ضروری فنڈز کے استعمال کو منظم کیا جائے۔ اگر بازار میں ہر چیز کے لیے قانون ہے تو تعلیم جیسے حساس شعبے کے لیے کیوں نہیں؟

سرکاری تعلیمی اداروں کو واقعی بہتر بنایا جائے۔ جب تک سرکاری سکول معیاری، باوقار اور باصلاحیت نہیں ہوں گے، والدین نجی سکولوں کی طرف مجبوری میں جاتے رہیں گے۔ اگر حکومت سرکاری سکولوں میں اچھے استاد، بہتر ماحول، صاف عمارت، مناسب سہولیات اور ایک مضبوط نظام دے دے تو نجی اداروں کی من مانی خود بخود کم ہو جائے گی۔ اصل مقابلہ فیسوں کا نہیں۔۔۔ معیار کا ہونا چاہیے۔یکساں تعلیمی نصاب اور یکساں تعلیمی معیار کی طرف سنجیدگی سے بڑھنا ہوگا۔ ایک ہی ملک میں ایک بچہ اعلیٰ معیار اور مہنگے ادارے میں اور دوسرا بچہ ٹوٹی ہوئی عمارت اور کمزور نصاب میں پڑھ رہا ہو تو معاشرہ طبقوں میں بٹ جاتا ہے۔ یکساں نظام نہ صرف انصاف پیدا کرے گا بلکہ مواقع کی برابری بھی لائے گا۔بات پھر اسی نکتے پر آتی ہے کہ تعلیم تجارت نہیں۔۔۔ خدمت ہے۔ استاد مزدور نہیں، معمار ہے۔ والدین سے صرف پیسہ لینے کا نام اسکول نہیں اور بچوں کو فنکشنوں میں الجھانا تربیت نہیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جو انسان بنائیں، صرف رٹّا نہ لگوائیں۔ ایسے استاد چاہییں جنہیں عزت ملے، اورایسے منتظمین چاہییں جو کمائی کے ساتھ انسانیت کو بھی اہمیت دیں۔

اگر نجی تعلیمی ادارے واقعی تعلیم کے نام پر کھڑے ہیں تو انہیں اپنے رویے بدلنے ہوں گےورنہ یہ ادارے عزت کھو کر صرف پیسہ کمانے والی دکانیں بن جائیں گے اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں عمارتوں سے نہیں، اصولوں سے بنتی ہیں۔ جہاں استاد کمزور، والدین پریشان اور تعلیم مہنگی ہو جائے، وہاں مستقبل بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جو علم کو عزت دے، استاد کو وقار دے، والدین کو سہولت دے اور بچے کو روشنی دے۔ یہی اصل اصلاح ہے، یہی اصل انصاف ہے اور یہی ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں