قیادت کا ایک نہایت اہم اور بنیادی وصف ہمدردی ہے۔ ہمدردی کے بغیر لیڈر طاقت تو حاصل کر سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ ایک سچا رہنما صرف لوگوں پر حکومت نہیں کرتا بلکہ ان کے دکھ، مسائل اور احساسات کو بھی سمجھتا ہے۔ ہمدردی دراصل وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے لیڈر خود کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچتا ہے۔ یہی وصف قیادت کو محض اختیار سے نکال کر انسانیت کے درجے تک لے جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن رہنماؤں نے لوگوں کے جذبات اور مشکلات کو سمجھا، وہی عوام کے دلوں میں زندہ رہے۔
ہمدردی رکھنے والا لیڈر صرف احکامات جاری نہیں کرتا بلکہ لوگوں کی ضروریات، کمزوریوں اور مشکلات کو بھی محسوس کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان صرف ایک کارکن یا شہری نہیں بلکہ جذبات، خوف اور امیدوں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے اس کے فیصلوں میں سختی کے ساتھ انسانیت بھی شامل ہوتی ہے۔ ہمدردی قیادت کو نرم ضرور بناتی ہے، مگر کمزور نہیں۔ بلکہ یہی خوبی لیڈر کو عوام کے قریب لاتی ہے اور اعتماد پیدا کرتی ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمدردی کی سب سے عظیم مثال ہے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آپ ﷺ نے نماز مختصر کر دی تاکہ بچے کی ماں کو پریشانی نہ ہو۔ یہ ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ قیادت کی اعلیٰ ترین مثال ہے، جہاں ایک رہنما صرف عبادت کی ظاہری طوالت نہیں بلکہ ایک ماں کے دل کی کیفیت کو بھی محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ایک بوڑھی عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور اپنی پریشانیاں بیان کرنے لگی۔ آپ ﷺ نہایت صبر اور توجہ کے ساتھ اس کی بات سنتے رہے، حالانکہ آپ ﷺ کے پاس بے شمار ذمہ داریاں موجود تھیں۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی قیادت لوگوں کے مسائل کو وقت دینا جانتی ہے۔
تاریخ میں عظیم رہنماؤں کی کامیابی میں ہمدردی کا کردار بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا اس کی روشن مثال ہیں۔ طویل قید کے بعد جب وہ صدر بنے تو ایک دن انہوں نے ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا جو گھبراہٹ کے عالم میں دور بیٹھا تھا۔ منڈیلا نے اسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ وہ شخص کانپتے ہاتھوں سے کھانا کھاتا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ جیل کا ایک سابق افسر تھا جو قید کے دوران منڈیلا کے ساتھ سخت رویہ رکھتا تھا۔ منڈیلا نے اس سے انتقام لینے کے بجائے عزت اور احترام سے پیش آ کر یہ ثابت کیا کہ عظیم قیادت نفرت کے بجائے انسانیت کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی ہمدردی ان کی قیادت کو دنیا بھر میں منفرد بناتی ہے۔
امریکہ کی تاریخ میں ابراہم لنکن کی شخصیت بھی ہمدرد قیادت کی مثال ہے۔ خانہ جنگی کے دوران ایک فوجی نیند آ جانے کے باعث ڈیوٹی میں غفلت کا مرتکب ہوا اور اسے سزائے موت سنائی گئی۔ فوجی کی ماں روتی ہوئی لنکن کے پاس پہنچی اور اپنے بیٹے کی جان بخشی کی درخواست کی۔ لنکن نے صرف قانون کی سختی نہیں دیکھی بلکہ ایک ماں کے درد کو محسوس کیا۔ انہوں نے سزا معاف کر دی اور کہا کہ “ایک ماں کے آنسو ریاست کی سختی سے زیادہ وزن رکھتے ہیں۔” یہی وہ انسانی پہلو تھا جس نے لنکن کو صرف سیاست دان نہیں بلکہ ایک عظیم رہنما بنایا۔
برصغیر کی تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی قیادت میں بھی ہمدردی نمایاں نظر آتی ہے۔ تقسیمِ ہند کے پرآشوب دور میں جب نفرت اور خوف عام تھا، مولانا آزاد لوگوں کے درمیان جا کر انہیں تسلی دیتے، ان کے خدشات سنتے اور انہیں امید دلاتے تھے۔ ایک موقع پر دہلی میں فسادات کے دوران خوفزدہ مسلمانوں کا ایک ہجوم ان کے پاس آیا۔ مولانا آزاد نے نہ صرف ان کی بات سنی بلکہ انہیں حوصلہ دیا کہ مایوسی کے بجائے اتحاد اور صبر کا راستہ اختیار کریں۔ ان کی نرم گفتگو اور ہمدردانہ رویے نے بے شمار لوگوں کو خوف سے نکالنے میں مدد دی۔
جدید دور میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی قیادت بھی ہمدردی کی واضح مثال ہے۔ کرائسٹ چرچ میں مسجدوں پر حملے کے بعد جب پورا ملک صدمے میں تھا، تو وہ متاثرہ خاندانوں کے درمیان گئیں، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کے غم میں شریک ہوئیں اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دکھ کی گھڑی میں قیادت صرف بیانات دینے کا نام نہیں بلکہ انسانوں کے زخم محسوس کرنے کا نام ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ “وہ ہم میں سے ہیں” دنیا بھر میں ہمدرد قیادت کی علامت بن گیا۔
ان تمام مثالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمدردی کسی ایک مذہب، قوم یا خطے کی میراث نہیں بلکہ ہر عظیم قیادت کی مشترک بنیاد ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی شفقت ہو، منڈیلا کی درگزر، لنکن کی انسان دوستی، مولانا آزاد کی دلجوئی یا جیسنڈا آرڈرن کی عوامی قربت—سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ انہوں نے انسان کو صرف ایک ہجوم نہیں بلکہ احساسات رکھنے والی مخلوق سمجھا۔
ہمدردی قیادت کو توازن دیتی ہے۔ اگر قیادت میں صرف طاقت ہو اور انسانیت نہ ہو تو وہ جبر بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر صرف جذبات ہوں اور حکمت نہ ہو تو قیادت کمزور ہو جاتی ہے۔ ایک عظیم لیڈر وہی ہوتا ہے جو دونوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔ ہمدردی لیڈر کو لوگوں کے قریب لاتی ہے اور یہی قربت اعتماد کو جنم دیتی ہے۔
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ قیادت میں انسانیت کم اور مفاد زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ لوگ طاقت اور کامیابی کی بات تو کرتے ہیں، مگر انسان کے دکھ اور احساسات کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ احساس اور ہمدردی سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کو ایسے لیڈرز کی ضرورت ہے جو صرف ترقی کے منصوبے نہ بنائیں بلکہ انسانوں کے دلوں کو بھی سمجھ سکیں۔
میری ناقص رائے کے مطابق سچا لیڈر وہی ہے جو لوگوں کے درد کو محسوس کر سکے۔ کیونکہ جو رہنما انسان کے آنسو نہیں سمجھتا، وہ اس کی امیدوں کی بھی صحیح رہنمائی نہیں کر سکتا۔ ہمدردی قیادت کا انسانی چہرہ ہے، اور جب یہ وصف قیادت میں شامل ہو جائے تو طاقت خدمت بن جاتی ہے، فیصلے انصاف کے قریب آ جاتے ہیں اور قومیں صرف ترقی ہی نہیں بلکہ سکون بھی حاصل کرتی ہیں۔


