گلگت بلتستان الیکشن اور خطے کی قانونی حیثیت کا مقدمہ/شیر علی انجم

اگرچہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات سے اسلام آباد کی سیاسی اتار چڑھاؤ پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی ان انتخابات سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی کا کوئی راستہ کھلتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ خطے کی متنازعہ قانونی حیثیت ہے، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آج تک آئین پاکستان کی چھتری سے باہر ہیں۔ البتہ ریاست جموں و کشمیر کی ان دونوں اکائیوں میں ہر پانچ سال بعد وفاقی جماعتوں کا میلہ ضرور لگتا ہے۔حالیہ الیکشن کے حوالے سے سینئر صحافی عبدالجبار ناصر صاحب کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے مقامی اسمبلی کے انتخابات 2026ء کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے۔ دستیاب فارم 33 کے مطابق امیدواروں کی تعداد 396 بنتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کے آفیشل گروپ میں جاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 403 بنتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 28 پارٹیوں میں سے 20 پارٹیوں نے امیدوار میدان میں اتارے اور پارٹیوں سے منسلک امیدواروں کی تعداد 131 (32.51 فیصد) ہے، جبکہ 272 (67.49 فیصد) امیدوار آزاد حیثیت میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔یہ رپورٹ نہیں بلکہ خطے کے پڑھے لکھے افراد میں وفاقی پارٹیوں پر عدم اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ ان پارٹیوں میں وہی مخصوص لوگ ہوتے ہیں جن کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں بلکہ وہ اسلام آباد میں صاحب اقتدار جماعتوں کے گرد مسلسل طواف کرتے ہوئے اقتدار کی کرسی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے جماعت کے نظریاتی لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اُنہی اشرافیہ گروہ کو ٹکٹ دیا جو ووٹ خرید کر اسمبلی تو پہنچ سکتا ہے لیکن عوام اور خطے کی اڑھتر سالہ سیاسی و معاشی محرومیوں کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں رکھتا۔تاریخی طور پر ریاست جموں و کشمیر (گلگت بلتستان، لداخ، آزاد کشمیر، سری نگر، جموں) اس وقت چار حصوں میں تقسیم ہے جو تین ممالک پاکستان، بھارت اور چین کے کنٹرول میں ہے۔ پاکستان کے پاس 28 ہزار مربع میل گلگت بلتستان اور تقریباً ساڑھے چار ہزار مربع میل آزاد کشمیر ہے، بھارت کے پاس وادی کشمیر، جموں اور کارگل لداخ جبکہ چین کے پاس 10 ہزار مربع میل اقصائے چن کا علاقہ ہے۔ البتہ چین کے زیرِ کنٹرول علاقے میں کوئی آبادی نہیں ہے لیکن تجارتی حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے اور یہ علاقہ چین کے مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ کا حصہ ہے۔ اسی طرح چین نے کچھ علاقہ 1963 کی جنگ میں بھارت سے چھینا جبکہ 1900 مربع میل علاقہ پاکستان سے 16 مارچ 1963 میں پاک چین معاہدے کے تحت عارضی طور پر حاصل کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے چین مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہونے کے باوجود زیرِ بحث نہیں آتا۔تنازعہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1947 سے 1948 تک، 1965 اور کارگل جنگ بھی ہو چکی ہیں۔ اگرچہ 1971 کی جنگ میں ہندوستان نے بلتستان کے کئی گاؤں پر قبضہ کر لیا اور آج تک مہاجرین کارگل لداخ پاکستان کے مختلف شہروں اور بلتستان میں مقیم ہیں، اُنہیں اپنے عزیزوں سے ملنے تک کی اجازت نہیں ملی۔ گلگت بلتستان کی سیاسی و معاشی محرومیوں کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ اس حوالے سے ریاست پاکستان کا بالکل واضح موقف ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل نے 17 جنوری 1948 کو ایک قرارداد منظور کی اور 20 جنوری کو پاکستان بھارت کمیشن قائم کیا جس پر پاکستان اور ہندوستان باقاعدہ دستخط کار ہیں۔ اُس قرارداد کی سفارشات کی روشنی میں 5 اگست 1948 اور یکم جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 84 ہزار 471 مربع میل پر پھیلی ہوئی پوری ریاست جموں و کشمیر متنازعہ قرار دی گئی جس میں تمام اکائیاں شامل ہیں جو پاکستان، بھارت اور چین کے پاس ہیں۔ اقوام متحدہ نے 17 اپریل 1948، 13 اگست 1948، 5 جنوری 1949 اور 23 دسمبر 1952 کو کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی قراردادیں پاس کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس پورے خطے کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے سے کیا جائے گا۔آج آزاد کشمیر کے پاس جو بھی ریاستی نظام ہے وہ اقوام متحدہ کی قرارداد 13 اگست 1948 کی بنیاد پر ہے اور ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں بھی مہاراجہ کے الحاق کی بنیاد پر ریاستی حکومت کو قانونی تسلیم کیا گیا اور دہائیوں تک ریاستی نظام قائم رہا۔ لیکن نریندر مودی نے 5 اگست 2019 کو خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان کے آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق شق آرٹیکل 370 کو ختم کر کے کشمیر پر قبضے کی نئی شروعات کی جس کی پاکستان اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام فورمز پر مذمت کرتا رہا ہے۔لیکن گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹی حکومت قائم کرنے کے بجائے 28 اپریل 1949 کو اُس وقت کی کراچی سرکار اور کشمیری قیادت کے درمیان معاہدہ کراچی طے پایا جس کے تحت گلگت لداخ (آج کا بلتستان) کو ریاست کی ایک اکائی کے طور پر رائے شماری تک کے لیے تمام انتظامات وفاق پاکستان کو تفویض کر دیے گئے۔ اُس وقت سے لے کر آج تک اس خطے کو بغیر آئینی تحفظ کے صدارتی حکم ناموں پر چلایا جا رہا ہے۔ اور ہر پانچ سال بعد انتخابات کا شادیانہ بھی باقاعدگی سے بجایا جاتا ہے۔ لیکن آج تک ہونے والے انتخابات سے نہ خطے کی قسمت میں کوئی مثبت تبدیلی آئی اور نہ ہی گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کی گئی۔ بلکہ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اپنی زمینوں، جنگلات اور معدنیات سے بھی محروم کیا جا رہا ہے اور اس کام کے لیے قانون سازی کے نام پر گلگت بلتستان اسمبلی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں مقامی اسمبلی کو یہ اختیار ہی نہیں کہ خطے کی جغرافیائی حیثیت میں رد و بدل کے حوالے سے کسی قسم کی قانون سازی کرے۔آج پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات گلگت بلتستان میں کوڑیوں کے دام زمین خرید رہی ہیں اور حال ہی میں سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا سکردو میں خریدی گئی زمینوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ یہی وہ خاتون ہیں جو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر مسلسل تقریریں کرتی رہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ریاستی موقف، آئین کے آرٹیکل 257، سلامتی کونسل کے متفقہ قراردادوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین فیصلوں کی پاسداری کرتے ہوئے 28 ہزار مربع میل اور 30 لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس خطے میں معطل سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو بحال کرے، نام نہاد معاہدہ کراچی کو ختم کرے، سلامتی کونسل کی قرارداد 13 اگست 1948 پر عمل درآمد کر کے آئین ساز اسمبلی کے قیام کو عمل میں لائے اور مسئلہ کشمیر کے حل تک کے لیے اس خطے کے ساتھ عبوری معاہدہ کرے تاکہ اس خطے کے وسائل، معدنیات، آبی وسائل، جنگلات ،ڈرائی پورٹ کی آمدنی، دیامر بھاشا ڈیم کی رائلٹی اور سی پیک سمیت گلگت بلتستان کو برابری کے حقوق مل سکیں اور خطے میں بیوروکریسی راج کے بجائے عوامی نمائندوں کو اپنے فیصلے کرنے کا حق ملے۔اس وقت المیہ یہ ہے کہ خطے کے وسائل پر رائلٹی دینے کے لیے متنازعہ حیثیت ایک رکاوٹ ہے اور نیشنل فنانس کمیشن سمیت تمام وفاقی مالیاتی اداروں میں گلگت بلتستان شامل نہیں۔ البتہ گندم سبسڈی کو ہی حقوق سمجھ کر اس خطے کے عوام کو نہ صرف بیوقوف بنایا جا رہا ہے بلکہ زرعی ترقی کے لیے حکومتی کردار زیرو ہے۔ یہی حال تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کا بھی ہے۔ سیاحت آ گئی لیکن بغیر کسی منصوبہ بندی کے۔ سیاحت نے ماحولیاتی آلودگی کا تحفہ بھی ساتھ لایا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اس خطے کے قدرتی طور پر خوبصورت مقامات پر ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں، وہیں صاف پانی سیوریج بنتی جا رہی ہے۔ یہ وہ تمام تحفے ہیں جو ان انتخابات سے گلگت بلتستان کو ملتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو ریاست کا اصولی موقف ہے، اس پر گلگت بلتستان میں عمل درآمد کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے زیرِ انتظام اکائیوں میں عالمی قوانین کا مکمل احترام کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت گلگت بلتستان میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں