ہاتھیوں کے جھنڈ میں آشیانے کا خیال لازم ہے/ابو ہشام

دنیا کی تاریخ ہمیشہ طاقت کے قدموں تلے روندی گئی صداقتوں کی قبر ہے
اصول اگر کمزور ہوں تو صرف کتابوں کی زینت بنتے ہیں
جب بھی دو قوتیں ٹکرائیں فیصلہ ہمیشہ تلوار کے حق میں ہوا نہ کہ زبان کی سچائی کے حق میں
عراق، لیبیا، شام، افغانستان سب گواہ ہیں کہ سچ اگر لاچار ہو تو نوحہ بن کر رہ جاتا ہے
اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے
اختیار جس کے ہاتھ میں ہے وہی فیصلے کرتا ہے۔ مظلوم کی آہ صرف خاموش دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے۔ اصول، قراردادیں، انسانی حقوق سب کچھ فائلوں میں دفن ہو چکا ہے جن پر نہ کبھی عمل ہوا نہ کبھی ہوگا۔
اسرائیل کے خلاف تین سو سے زیادہ قراردادیں موجود ہیں لیکن کوئی ایک عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ایران جو این پی ٹی کا رکن بھی ہے اور آئی اے ای اے کو مکمل معائنہ کی اجازت بھی دے چکا ہے، پھر بھی پابندیوں کی زد میں ہے اور حملے کی دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ اسرائیل جس نے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے وہ عالمی ضمیر کی چھتری کے نیچے محفوظ بیٹھا ہے۔

یہ دہرا معیار اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا۔ ترکیہ کے شہری بھی یہ محسوس کر چکے ہیں کہ نیٹو اب محض ایک سیاسی فریم ورک ہے نہ کہ جنگ کی آگ بجھانے والا ادارہ۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اٹھہتر فیصد ترک شہری سمجھتے ہیں کہ اگر اسرائیل جیسا ملک ترکیہ پر حملہ کرے تو نیٹو خاموش تماشائی بنا رہے گا۔ یہی سوچ ترکیہ میں ایک نئے سوال کو جنم دے رہی ہے۔ کیا ہمیں بھی ایٹمی طاقت حاصل نہیں کرنی چاہیے؟ یہ سوال اب محض بحث نہیں رہا بلکہ ایک نظریاتی بیانیہ بن چکا ہے۔

ترکیہ جو کبھی نیٹو کا پچھلا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا، آج عالمی اسلحہ منڈی کا اہم کردار بن چکا ہے۔ بیرکتار اور آقنچی جیسے ڈرونز نے مغربی اسلحہ فروشوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دو ہزار پچیس تک دنیا کے اڑتالیس ممالک ان ڈرونز کو خرید چکے ہوں گے۔ یہ صرف برآمدات نہیں بلکہ مسلم عسکری ٹیکنالوجی کے احیاء کی نشانی ہے۔ اسرائیل جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھتا تھا، اب ترکیہ کی بحری طاقت کو کھلا خطرہ تسلیم کر چکا ہے۔ یونیورسٹی آف حیفا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی نیول فورس مستقبل میں اسرائیل کے لیے ایک عسکری چیلنج بن سکتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی ناگل کمیٹی بھی اس خطرے کو تسلیم کر چکی ہے۔

یہ صرف دفاعی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی مزاحمت ہے۔ اب جنگ صرف بندوق سے نہیں لڑی جاتی بلکہ ٹیکنالوجی سے، خود انحصاری سے اور عسکری نظم سے لڑی جاتی ہے۔ ایٹمی طاقت کا مطلب اب صرف ایٹم بم نہیں بلکہ قومی خودمختاری ہے، وقار ہے، بقا کی ضمانت ہے۔ اسرائیل نے شام کے نیوکلیئر ری ایکٹر کو تباہ کیا، ایران کے سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا، عراق پر شک کی بنیاد پر حملہ کیا۔ لیبیا کو اس کے ایٹمی پروگرام کی قیمت چکانا پڑی۔ قذافی کا انجام سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایٹمی طاقت رکھنا جرم ہے یا نہ رکھنا خودکشی؟ ہنری کسنجر کہتا ہے ایٹمی ہتھیار کمزور اقوام کے لیے مذاکرات کی میز پر نشست کی ضمانت ہیں۔ زبگنیو بریژنسکی کہتا ہے کہ اگر طاقتور کو پہلا حملہ کرنے کا حق حاصل ہو تو دفاعی ایٹمی طاقت نہ رکھنا ناعاقبت اندیشی ہے۔ نوم چومسکی کہتا ہے ایران کے لیے ایٹمی صلاحیت بقا اور فنا کے درمیان لکیر ہے۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام باعث فخر ہے، لیکن کیا باقی مسلم دنیا صرف پاکستان پر تکیہ کرے گی؟ سعودی عرب، ترکیہ، مصر، کیا وہ اپنا مستقبل ان ہاتھوں میں دیں گے جنہوں نے صدام کو گرایا، قذافی کو مٹایا اور شام کو کھنڈر بنا دیا؟ یہی وہ موقع ہے جب مسلم دنیا کو مغرب کی وابستگی سے نکل کر نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ روس، چین اور ایران کا ابھرتا ہوا اتحاد مغرب کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ برکس پلس، چین کی عسکری ٹیکنالوجی، روس کی میزائل معاونت اور ایران کا تجربہ ایک نیا توازن قائم کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے حال ہی میں کہا اگر ضرورت پڑی تو ایران کو دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔ یہ صرف ایران کے لیے دھمکی نہیں بلکہ پوری دنیا کو پیغام ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور، امن کانفرنسیں اور ترقیاتی منصوبے طاقت کے سامنے بے معنی ہیں۔ جب فیصلے ڈرون کے بٹن سے ہوتے ہیں تو سفارت گونگی ہو جاتی ہے۔

وہ وقت شاید زیادہ دور نہیں جب دنیا ایک بار پھر دو صفوں میں بٹنے جا رہی ہے۔ طاقت کے توازن کا پیمانہ بدل چکا ہے۔ اور جو قومیں آج بھی پرانی چھاؤں میں بیٹھنے کی آس لگائے بیٹھی ہیں وہ یا تو تباہ ہوں گی یا غلامی کی نئی شکل میں ڈھل جائیں گی۔

خلیج میں بننے والے خواب ناک شہر
اور دنیا کا سب سے بڑا انویسٹمنٹ گروپ اور بلند و بالا عمارتیں اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور جزیرے
یہ سب خواب ہیں جو ان قوموں کے لیے ہیں جو جھک کر جیتنے کا ہنر سیکھ چکی ہیں۔ یہ سب وہ خواب ہیں جو خوشبو سے بھرے باغات کی طرح ہیں۔ مگر جب ہاتھیوں کا جھنڈ چلے تو ان خوابوں کو روند کر رکھ دیتا ہے۔

نیتن یاہو کی جارحیت، ٹرمپ کی غیر متوازن قیادت، سب طاقت کے خمار کی علامتیں ہیں۔ اگر قومیں صرف سافٹ امیج کی چادر اوڑھ لیں اور ہارڈ پاور کو نظر انداز کر دیں تو اپنی شناخت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ قانون کی میز پر وہی بیٹھتا ہے جس کے پاس طاقت ہو۔ باقی سب تقریری مقابلے ہوتے ہیں جن کے نتائج پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ خواب وہی کامیاب ہوتے ہیں جو فولاد سے لکھے جائیں کاغذ سے نہیں۔ وقت کی ریت ہاتھ سے پھسل رہی ہے۔

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سپین نے آئلیرو کے نام سے ایک طاقتور ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ لیکن جب امریکی سی آئی اے کو اس کی معلومات ملیں تو واشنگٹن نے میڈرڈ پر سفارتی اور فوجی دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ اور آخرکار سپین کو اپنا ایٹمی منصوبہ ترک کرنا پڑا۔ وہ جھک گیا اور آج صرف نیٹو کا ایک بے اختیار رکن ہے۔

یوکرین نے نیٹو کی تسلیوں پر اپنے ایٹمی ہتھیار روس کو سونپ دیے اور امید رکھی کہ مغرب اسے بچائے گا۔ لیکن جب روس نے حملہ کیا تو یوکرین کو صرف اسلحہ ملا تحفظ نہیں ملا۔ آج یوکرین کھنڈر ہے ایک عبرت کی مثال ہے۔

طاقت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے جو جھکتا نہیں بلکہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جو اقوام اپنی حفاظت کے لیے دوسروں پر بھروسہ کرتی ہیں وہ سپین کی طرح جھک جاتی ہیں یا یوکرین کی طرح بکھر جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں