پاکستان جیسے معاشروں میں قومی اعزازات صرف تمغے نہیں ہوتے، یہ دراصل ریاست کے فکری ترجمان ہوتے ہیں۔ یہ وہ اشارے ہیں جن کے ذریعے قوم کو بتایا جاتا ہے کہ کن لوگوں کو قابلِ تقلید سمجھا جائے، کس راستے کو کامیابی کہا جائے اور کن کرداروں کو تاریخ میں محفوظ رکھا جائے۔ مگر جب یہی اعزازات سوالوں کی زد میں آ جائیں تو مسئلہ صرف چند ناموں کا نہیں رہتا بلکہ پوری قومی سوچ کا بحران بن جاتا ہے۔ہر سال جب ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور دیگر قومی اعزازات کی فہرست جاری ہوتی ہے تو سرکاری بیانات میں اسے “قومی اعتراف” کہا جاتا ہے۔ مگر عام آدمی کے ذہن میں ایک خاموش سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی یہ اعتراف صرف میرٹ کی بنیاد پر ہے؟ کیا یہ اعزازات ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جنہوں نے قوم کی فکری، سائنسی، ادبی یا سماجی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کیا؟ یا پھر یہ اعزازات رفتہ رفتہ طاقت، تعلقات، شہرت اور ادارہ جاتی قربت کی علامت بنتے جا رہے ہیں؟
اصل مسئلہ کسی ایک شخصیت یا کسی ایک فہرست کا نہیں۔ مسئلہ اس تاثر کا ہے جو پورے نظام کے بارے میں پیدا ہو چکا ہے۔ جب کسی قوم میں یہ احساس بڑھنے لگے کہ کامیابی کا راستہ قابلیت سے زیادہ تعلقات سے ہو کر گزرتا ہے تو پھر ادارے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی قوموں کو دیکھیں تو وہاں اعزازات ایک قومی فلسفہ رکھتے ہیں۔ جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا یا امریکہ میں کسی سائنسدان، محقق یا موجد کو اعزاز دینا صرف ایک فرد کی پذیرائی نہیں بلکہ پوری نسل کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ اصل طاقت علم ہے۔ وہاں ایک نئی دوا بنانے والا یا خلائی تحقیق میں نئی جہت پیدا کرنے والا شخص قومی ہیرو بن جاتا ہے۔ کیونکہ کامیاب قومیں جانتی ہیں کہ اصل ترقی باتوں سے نہیں بلکہ سائنس اور تحقیق سے ہوتی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال اکثر اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ہم نے قومی ہیرو کا تصور ہی عجیب بنا دیا ہے۔ ایک نوجوان جب اپنے اردگرد دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ شہرت قابلیت سے زیادہ طاقتور شے ہے۔ میڈیا میں نظر آنے والا شخص اکثر اس استاد سے زیادہ قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے جو تیس سال تک دیہات کے بچوں کو تعلیم دیتا رہا۔ ایک مشہور چہرہ اس سائنسدان پر غالب آ جاتا ہے جس نے اپنی زندگی تحقیق میں گزار دی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ آہستہ آہستہ علم سے زیادہ نمود کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ذہانت کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ ہمارے نوجوان اب ایجاد سے زیادہ “وائرل” ہونے کے خواب دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ریاست نے بھی اکثر انہی چہروں کو زیادہ نمایاں کیا جن کے پاس شہرت تھی، نہ کہ وہ جن کے پاس وژن تھا۔ اگر ایک نوجوان کو یہ محسوس ہو کہ ایک موجد، محقق یا فلسفی اس ملک میں گمنام رہتا ہے جبکہ شہرت رکھنے والا شخص قومی اعزاز لے جاتا ہے تو پھر وہ تحقیق کیوں کرے گا؟ وہ نئی ٹیکنالوجی پر کام کیوں کرے گا؟پاکستان کی تاریخ میں ہزاروں ایسے استاد، سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر اور محقق موجود ہیں جنہوں نے خاموشی سے اس ملک کی بنیادیں مضبوط کیں مگر وہ کبھی قومی سطح پر نمایاں نہ ہو سکے۔ ان کے مقابلے میں کئی ایسے لوگ نمایاں ہوئے جن کی اصل طاقت ان کی سماجی رسائی تھی۔ یہی عدم توازن قومی ذہن سازی کو تباہ کرتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے ہاں سائنسی انقلاب کیوں نہیں آتا؟ ہم مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، خلائی سائنس، ماحولیات یا جدید طب میں دنیا سے اتنے پیچھے کیوں ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری ریاستی ترجیحات ابھی تک علمی انقلاب کے گرد نہیں گھومتیں۔قومیں صرف معاشی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس کے نظریات اور ترجیحات سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ جب ریاست کسی سائنسدان کو سب سے بڑا اعزاز دیتی ہے تو دراصل وہ پورے معاشرے کو بتا رہی ہوتی ہے کہ مستقبل تحقیق سے جڑا ہے۔ مگر اگر اعزازات کا مرکز زیادہ تر شہرت، تعلق یا سیاسی دھڑابن جائےتو اس کے نتیجے میں نوجوان بھی اپنی راہ اور ترجیحات تبدیل کر لیتے ہیں۔
پاکستان میں ایک اور المیہ یہ ہے کہ ہم نے “اصل خدمت” کی تعریف ہی محدود کر دی ہے۔ ہم اکثر صرف وہی چہرے دیکھتے ہیں جو نمایاں ہیں، جبکہ اصل تبدیلی پیدا کرنے والے لوگ اکثر خاموش ہوتے ہیں۔ ایک دیہی ڈاکٹر جو بیس سال سے دور دراز علاقوں میں لوگوں کا علاج کر رہا ہے، شاید کبھی کسی ٹی وی اسکرین پر نہ آئے۔ ایک استاد جو نسلیں بدل رہا ہے، شاید کسی تقریب میں نہ بلایا جائے۔ ایک محقق جو کینسر پر تحقیق کر رہا ہے، ممکن ہے کہ گمنامی میں زندگی گزار دے۔ مگر یہی لوگ دراصل قوم کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔اعزازات کا بحران دراصل پاکستان کے فکری بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ ہر معاشرہ اپنے ہیروز سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر کسی قوم کے ہیروز صرف وہ لوگ بن جائیں جن کے پاس شہرت ہے، تو پھر قوم کی نئی نسل بھی شہرت کو ہی کامیابی سمجھے گی۔ مگر اگر قوم کے ہیروز سائنسدان، فلسفی، موجد، شاعر، استاد اور محقق ہوں تو پھر معاشرہ سوچنے لگتا ہے، سوال اٹھانے لگتا ہے اور آگے بڑھنے لگتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ہر اعزاز غلط نہیں ہوتا۔ اس ملک میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے واقعی اپنی زندگیاں قوم کے لیے وقف کیں اور وہ ہر اعتراف کے مستحق ہیں۔ مگر مسئلہ افراد سے زیادہ نظام کا ہے۔ جب انتخاب کا عمل شفاف نہ ہو، جب معیار واضح نہ ہوں اور جب قوم کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن بنیادوں پر اعزاز دیا جا رہا ہے تو پھر شکوک پیدا ہوتے ہیں اور جب شکوک بڑھتے ہیں تو اعزاز کی عظمت کمزور پڑنے لگتی ہے۔اصل ضرورت یہ ہے کہ پاکستان اپنے قومی اعزازات کو محض رسمی تقریب کے بجائے ایک فکری پالیسی بنائے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے کس قسم کے رول ماڈلز رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں نوجوان لیبارٹریوں، لائبریریوں اور تحقیقاتی مراکز کا رخ کریں؟ یا پھر ایک ایسا معاشرہ جہاں کامیابی صرف تعلقات، شہرت اور منظر پر موجودگی سے جڑی ہو؟
قوموں کی تقدیر صرف معیشت سے نہیں بدلتی۔۔۔ ان کے فکری معیار سے بدلتی ہے اور فکری معیار وہاں بنتا ہے جہاں ریاست صحیح لوگوں کو عزت دیتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی ایک مضبوط، جدید اور باشعور قوم بننا چاہتا ہے تو اسے اعزازات کے فلسفے کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ تمغے صرف سینوں پر نہیں سجتے، وہ قوموں کے ذہنوں پر بھی اثر چھوڑتے ہیں۔کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے اصل معماروں کو پہچان لیتی ہیں۔


