استعمار کو اگر صرف عسکری غلبے کا نام دیا جائے تو یہ اس کی اصل ماہیت کو چھپا دینے کے مترادف ہے۔ استعمار دراصل ایک ایسا فکری نظام ہے جو محکوم معاشروں کی شناخت کو مخصوص خانوں میں قید کرتا ہے۔ یہ شناخت کبھی ان کی تہذیبی تاریخ سے نہیں بنتی بلکہ اس کردار سے بنتی ہے جسے طاقتور اقوام ان کے لئے منتخب کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب نیویارک ٹائمز میں یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ احمدی نژاد کو ایران کی متبادل قیادت کے طور پر دیکھ رہا تھا تو اس خبر کی بعید از قیاس نوعیت کے باوجود اس کے اندر ایک استعماری منطق چھپی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ میں کئی دن اس خبر کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتا رہا اور مختلف تجزیہ نگاروں کی یہی رائے قرین قیاس لگی کہ احمدی نژاد کا نام یقیناً کسی مرحلے پر زیر غور آیا ہوگا مگر خود ان کا اس منصوبے کا حصہ بن جانا آسان دکھائی نہیں دیتا۔
احمدی نژاد کی شخصیت انقلاب کے بعد ایرانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کی شہرت کا سبب ان کا وہ نظریاتی لہجہ تھا جس میں جارحانہ اعتماد اور غیر مصالحتی انداز نمایاں تھا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے لئے جب وہ امریکہ گئے تو انہیں کئی جامعات اور فکری اداروں نے مدعو کیا۔ ان نشستوں میں ان سے سخت سوالات کیے گئے اور انہوں نے اپنے مخصوص نظریاتی سانچے میں ان کے جواب دیے۔ یہ جوابات مغربی دانشوروں اور طلبہ کے لئے حیرت اور تفنن کا باعث بنے اور مغربی میڈیا نے ان مناظر کو نمایاں کر کے پیش کیا۔ ایران کے دیگر صدور جو اعلی تعلیم یافتہ اور جدید ڈسکورس میں تربیت پانے کے بعد مغرب سے مکالمے کے لیے موزوں ترین افراد تھے۔ ان کو مغرب نے کبھی خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔ نہ ٹی وی چینلز نے ان کو انٹرویو کے لیے مدعو کیا اور نہ کسی یونیورسٹی اور تھنک ٹینک نے۔۔۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسا کردار جسے مغرب نے ایک وقت میں ایک انتہا پسندانہ اور بے لچک سوچ کا پیکر قرار دے کر تضحیک کا نشانہ بنایا تھا اسے متبادل قیادت کے طور پر کیوں سوچا گیا۔ اس سوال کا جواب اس وسیع تر استعماری منطق میں پوشیدہ ہے جس میں طاقتور اقوام محکوم معاشروں کے اندر سے سب سے قابل اعتراض، سخت گیر اور سب سے زیادہ شور انگیز کردار کو چن کر اسے پوری قوم کا نمائندہ بنا دیتی ہیں۔ یہی وہ منطق ہے جس کے تحت کبھی القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو پوری مسلم دنیا کا چہرہ بنایا گیا حالانکہ مسلم معاشروں کی اکثریت ان سے لاتعلق تھی۔ اسی طرح طالبان کو افغانستان کی مکمل تصویر قرار دیا گیا حالانکہ افغان معاشرہ قبائلی اور ثقافتی تنوع رکھتا ہے۔ بعد ازاں اس کے مقامی مشتقات جیسے طالبان پاکستان بھی سامنے آئے۔ مشرق وسطیٰ میں داعش نے تباہی پھیلائی اور اسے پورے خطے کی تہذیب کا مترادف بنا دیا گیا۔ جنوبی ایشیا میں بی جے پی کو ہندوستانی معاشرے کی مکمل تعبیر کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ یہ خطہ صدیوں سے کثیر الثقافتی روایت رکھتا ہے۔ افریقہ میں بوکو حرام اور الشباب جیسے گروہوں کو پورے براعظم کی مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ کر دکھایا گیا۔
استعماری تناظر میں یہ تمام مثالیں ایک ہی اصول کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ استعمار محکوم معاشروں کے اصل تنوع اور رنگارنگی کو ختم کر کے انہیں ایک ایسے چہرے میں سمیٹ دیتا ہے جو خوف پیدا کرے۔ اس خوف کے ذریعے طاقتور اقوام اپنے سیاسی اور عسکری اقدامات کو اخلاقی جواز میں بدل لیتی ہیں کیونکہ وہ یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ وہ ایک خطرناک قوت کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ یوں محکوم معاشروں کی وہ خاموش اکثریت جو اعتدال، مکالمے اور انسانی وقار کی حامل ہوتی ہے مغربی میڈیا اس کو عالمی منظرنامے سے غائب کر دیتا ہے۔
یہ بیانیاتی عمل صرف سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ جب کسی قوم کو اس کے سب سے سخت گیر عنصر کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے تو اس قوم کی تہذیبی گہرائی، فکری تاریخ اور اخلاقی جدوجہد سب کچھ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتہاپسندی محض ایک داخلی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک عالمی بیانیاتی ہتھیار بن جاتی ہے اور احمدی نژاد کی شخصیت کا اس انداز میں چناؤ اور تذکرہ اسی بڑے استعماری کھیل کی ایک مثال بن کر سامنے آتا ہے۔


