پاک۔افغان سرحد: جنگ اور مذاکرات کے درمیان/قادر خان یوسف زئی

ایک طرف توپوں کا دھواں ہے، دوسری طرف مذاکرات کی میز پر رکھے ٹھنڈے پڑتے کاغذ۔ ایک طرف شہداء کی لاشیں ہیں، دوسری طرف سفارتی بیانات کا وہ جنگل جس میں سچ کا راستہ تلاش کرنا کسی اندھیری رات میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض دو پڑوسیوں کا جھگڑا نہیں ، یہ ایک ایسی المیہ داستان ہے جو کئی دہائیوں کی غلط فہمیوں، خون آلود یادوں، اور ادھوری سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔
فروری 2026 کا مہینہ پاک۔افغان تاریخ میں ایک سیاہ باب بن کر لکھا گیا۔ اسلام آباد میں ایک شیعہ مسجد پر خودکش حملہ ، 31 بے گناہ جانیں، خون میں لتھڑے فرش، ماتم کی چیخیں۔ پھر باجوڑ اور بنوں میں یکے بعد دیگرے دھماکے۔ پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اسلام آباد نے کابل کو آخری وارننگ دی،تحریک طالبان پاکستان ( فتنہ الخوارج )کے ٹھکانے ختم کرو، ورنہ ہم خود کریں گے۔ کابل نے سنی اَن سنی کر دی۔ اور پھر پاکستانی فضائیہ کے طیارے ننگرہار، پکتیکا اور خوست کی سمت اُڑے۔ آپریشن غضبِ للحق یعنی حق کے لیے غصہ شروع ہو گیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غصہ کبھی حق تک پہنچنے کا راستہ ہوتا ہے؟
پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ہماری سرزمین پر حملے ہو رہے ہیں، ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والے دہشتگردوں کی کارستانی ہے۔فتنہ الخوارج نے افغانستان کو اپنا پناہ گاہ بنا لیا ہے اور افغان طالبان رجیم یا تو ان کی سرپرستی کر رہی ہے یا کم از کم آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ یہ دلیل بنیادی طور پر غلط نہیں ہے۔ لیکن جب پاکستانی دفاعی وزیر خواجہ آصف “کھلی جنگ” کا اعلان کرتے ہیں تو یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ ایک ایسا پنڈورا باکس کھولنا ہے جسے دوبارہ بند کرنا ناممکن نہ سہی، انتہائی مشکل ضرور ہے۔
افغان طالبان کا ردِعمل بھی اتنا ہی سخت آیا۔ انہوں نے اپنی “انتقامی کارروائی” کا اعلان کیا، جواب میں ردعمل کے طور پر پاکستانی طیاروں نے کابل، قندھار، اور بگرام ائیر بیس تک کو نشانہ بنایا ۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد پہلی بار پاکستان کے طیارے افغانستان کے جنوبی دل تک پہنچے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق 232 افغان شہری ہلاک ہوئے، جبکہ کابل 779 کا دعویٰ کرتا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ عام افغان شہری بے گھر ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف تعداد نہیں، یہ ہر ایک اپنی جگہ ایک المیہ ہے، ایک زندگی ہے، ایک خاندان کی بربادی ہے۔
جنگ تو شروع ہو جاتی ہے، ختم ہونا اس کے لیے مشکل ہے ۔ یہ قدیم حکمت نہ صرف پاکستانی فوجی حکمتِ عملی پر لاگو ہوتی ہے بلکہ افغانستان کی پوری تاریخ پر۔ وہ سرزمین جسے تاریخ میں “سلطنتوں کا قبرستان” کہا گیا ہے، اسے کوئی فوجی طاقت مستقل طور پر مطیع نہیں کر سکی ۔ سکندرِ اعظم سے لے کر برطانوی راج تک، سوویت یونین سے لے کر امریکہ تک۔ کیا پاکستان اس تاریخ سے سبق لے رہا ہے؟ تاہم اہم امر یہ ہے کہ پاکستان ، افغانستان کی سرزمین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا ، اس کا واحد مطالبہ یہی رہا ہے کہ افغان حکومت چاہے جو بھی ہو ، اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لئے استعمال ہونے سے روکے ۔ یہ عالمی برداری کا بھی مطالبہ ہے اور دوحہ معاہدے کا حصہ بھی ، اس وعدہ کو پورا کرنے افغان رجیم پر فرض ہوتا ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی کہانی دلچسپ ہے۔ اکتوبر 2025 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد ترکی اور قطر نے ثالثی کی پیشکش کی۔ تین دور کی مذاکرات ہوئیں ، دوحہ میں ایک، استنبول میں دو۔ مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، جنگ بندی کی نگرانی کا طریقہ کار طے پایا لیکن سیاہی بھی نہ سوکھی تھی کہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔ فروری 2026 کے بعد پاکستان نے صاف کہہ دیا کہ جب تک افغانستان دہشتگردی بند نہیں کرتا، کوئی مذاکرات نہیں۔
علاقائی اور بین الاقوامی ردِعمل بھی مایوس کن ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ڈی اسکیلیشن کی اپیل کی۔ یورپی یونین نے بیانات دیے۔ ایران، متحدہ عرب امارات، روس، اردن سب نے زبانی تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن زمین پر کچھ نہیں بدلا۔ چین نے اگست 2025 میں سہ فریقی وزارتی ملاقات کروائی تھی لیکن گہری ثالثی میں اترنے سے گریز کیا۔ امریکہ نے تو اور بھی دلچسپ رویہ اختیار کیا ۔ صدر ٹرمپ نے کہا “پاکستان بہت اچھا کر رہا ہے” اور ثالثی سے انکار کر دیا۔ یعنی وہ واحد طاقت جو شاید اس میں فرق ڈال سکتی تھی، اس نے تماشائی کا کردار اختیار کر لیا۔ اور ہندوستان؟ وہ خاموشی سے مسکراتا ہوا دیکھ رہا ہے کہ پاکستان اپنے مغربی محاذ پر پھنستا جا رہا ہے۔
ڈیورنڈ لائن 1893 میں برطانیہ اور افغانستان کے درمیان کھینچی گئی وہ لکیر جو آج بھی دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی نفسیاتی اور سیاسی دیوار ہے۔ افغانستان نے کبھی باقاعدہ طور پر اسے تسلیم نہیں کیا۔ یہ 2,600 کلومیٹر لمبی سرحد قبائلی علاقوں، پشتون آبادیوں، اور تاریخی آمدورفت کو کاٹتی ہے۔ جب تک یہ افغان حکومتیں اسے تسلیم نہیں کرتیں ، پاک۔افغان تعلقات کا ہر مسئلہ ایک ایسی عمارت پر کھڑا رہے گا جس کی بنیاد ہی کمزور ہے۔ٹی ٹی پی مسئلہ اصل میں اس بنیادی تنازعے کا ایک مظہر ہے، نہ کہ اس کی جڑ۔ جب تک افغانستان یہ نہیں مانتا کہ اس کی سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہر بم کابل کو اسلام آباد سے مزید دور کرتا ہے۔ ہر دہشتگرد حملہ پاکستانی عوام کے صبر کو مزید ختم کرتا ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہے جسے توڑنے کے لیے دونوں طرف سے ہمت اور سیاسی جرأت درکار ہے۔
چیتھم ہاؤس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت پسندانہ راستہ صرف ایک ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے درمیان براہِ راست مکالمہ۔ کوئی بیرونی طاقت اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی ۔ نہ ترکی، نہ قطر، نہ چین، نہ امریکہ۔ پاکستان کو اپنی معاشی طاقت استعمال کرنی ہے۔ سرحد دوبارہ کھولنا، تجارت بحال کرنا ۔اکتوبر 2025 سے بند ہے اور اس کے بدلے افغانستان سے واضح، قابلِ تصدیق اقدامات مانگنا۔ طالبان اگرچہ نظریاتی طور پر سخت ہیں، لیکن وہ ایک تباہ حال معیشت چلا رہے ہیں جسے پاکستان کی تجارتی راہداری کی ضرورت ہے۔
لیکن سوال صرف حکمتِ عملی کا نہیں، سوال حکمت کا ہے۔ جنگ کا شور سوچ کو مار دیتا ہے۔ جب میزائل گرتے ہیں تو گلہ کرنے والی آوازیں دب جاتی ہیں۔ جب قومی جذبات بھڑکتے ہیں تو مذاکرات کی بات کرنا غداری لگنے لگتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام اس جنگ کی قیمت چکا رہے ہیں ۔ ایک طرف بنوں اور خیبر پختونخوا کے لوگ، دوسری طرف ننگرہار اور قندھار کے بے گھر خاندان۔ جنگ نے ہمیشہ عام آدمی کو تباہ کیا ہے، طاقتور ہمیشہ محفوظ رہے ہیں۔
جون 2026 میں یہ جنگ جاری ہے۔ کوئی جنگ بندی نہیں، کوئی حتمی مذاکرات نہیں، کوئی روشنی نظر نہیں آتی۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں ہمیشہ کسی نہ کسی میز پر ختم ہوتی ہیں ۔ چاہے وہ میز فتح کے بعد ہو یا تھکاوٹ کے بعد۔ سوال یہ ہے کہ اس میز تک پہنچنے سے پہلے ہم کتنی اور قبریں کھودیں گے؟ کتنے اور گھر جلائیں گے؟ کتنے اور بچے یتیم ہوں گے؟
پاکستان کے لیے سب سے بڑا اہم یہ ہے کہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اور دہشت گردی کی اجازت نہ جائے۔ مغربی سرحد پر استحکام کے لیے افغانستان میں معاشی ترقی، سیاسی مصالحت، اور علاقائی رابطہ کاری ضروری ہے ۔ اور یہ سب بموں سے نہیں، بلکہ عقل اور صبر سے حاصل ہوتے ہیں۔ افغانستان کے لیے سبق یہ ہے کہ دہشتگردوں کو پناہ دینا اپنی سرزمین کو جنگ کا میدان بنانے کی دعوت ہے۔ پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن ) کے دونوں طرف انسان بستے ہیں، تاریخیں بستی ہیں، زبانیں بستی ہیں، اور مشترک مستقبل کے امکانات بھی بستے ہیں ۔ اگر ہم انہیں جنگ کی آگ میں نہ جلائیں۔تو آنے والی نسلوں کے لئے مستقبل روشن ہے اور افغانستان ہٹ دھرمی پر مصر رہا ہے تباہی مقدر ہے

اپنا تبصرہ لکھیں