خاموش صدمے کی وراثت/ڈاکٹر اختر علی سید

وہ میرے سامنے یوں بیٹھی تھی جیسے ایک ہی جسم میں کئی صدیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ چالیس برس سے زائد کی ایک عورت جس کے چہرے پر ماں کی نرمی بھی تھی اور جنگ کے خاموش صدمے بھی۔ اس کے گرد پورا کیمپ ایک ایسی تین سطحی اذیت سے گزر رہا تھا جو عملی اور مالی تباہی سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
اپنے قتل شدہ عزیزوں کا غم۔ ان عورتوں اور بچیوں کا زخم جنہیں اغوا کیا گیا، بیچا گیا یا جن کی عصمت دری ہوئی۔ اور وہ اندرونی صدمہ جو ہر زندہ بچ جانے والے کے جسم میں بند ہو جاتا ہے۔
اس کی تیرہ سالہ بیٹی کو چند ماہ پہلے ایک ملیشیا اٹھا کر لے گئی تھی۔ گھر والے اس معلق دہشت میں زندہ رہے کہ نہ معلوم وہ زندہ ہے یا کسی گمنام قبر میں دفن ہو چکی ہے۔ خاندان کے تمام مرد قتل کر دیے گئے تھے اور تمام عورتیں اپنی بے حرمتی کے صدمے جھیل چکی تھیں۔ جب ملیشیا کو اس علاقے سے پسپا کیا گیا تو گمشدہ بچی ایک خفیہ ٹھکانے سے ملی۔ نیلوں سے بھری ہوئی، اذیت زدہ اور خاموش۔ اپنے ہی لوگوں کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے وہ کسی اور دنیا کے اجنبی ہوں۔ طبی معائنے نے وہی بتایا جو اس کی خاموشی کہہ رہی تھی۔ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ اس کا ذہن اس حفاظتی خاموشی میں پناہ لے چکا تھا جو کم عمر بچوں کو شدید صدمے کے وقت سہارا دیتی ہے۔اس کی ماں جو خود بھی قید کے دوران بارہا درندگی کا شکار ہوئی تھی، اپنے دکھ کے بارے میں کبھی بات نہ کرتی۔ وہ صرف اپنی بیٹیوں کے لئے روتی تھی۔ اپنے قتل شدہ بیٹوں اور شوہر کا غم وہ خاموشی میں سہتی رہی۔ اس کی آواز اور ضبط تب ٹوٹتا جب وہ سرگوشی میں کہتی کہ وہ اپنی بچیوں کو بچانے میں ناکام رہی۔ جب میں نے علاج کی بات کی تو اس نے قربانی والا وہی رویہ دکھایا جو جنگ زدہ علاقوں کے والدین میں عام ہے۔ وہ کہتی رہی کہ اسے کچھ نہیں چاہیے سوائے گمشدہ آواز والی بیٹی کی کانوں میں رس گھولتی آواز کے۔ طویل گفتگو کے بعد وہ اپنے علاج پر آمادہ ہوئی۔
ایسے ماحول میں والدین بننا خود ایک صدمہ بن جاتا ہے۔

عام حالات میں والدین تین بنیادی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ بچے کو محفوظ رکھنا۔ اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنا۔ اور اسے ایک ایسے مستقبل کے لئے تیار کرنا جو حال سے بہتر ہو۔ یہ ذمہ داریاں پرامن معاشروں میں بھی مشکل ہوتی ہیں۔ چہ جائیکہ وہ خطے جہاں یہ ذمہ داریاں نبھانے کے لئے غیر معمولی ہمت درکار ہوتی ہے۔ غزہ، سوڈان، یمن، شام، عراق اور افغانستان میں والدین خود بھی اپنے زخموں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور اپنے بچوں کو انہی قوتوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں جنہوں نے خود ان کو توڑ کر رکھ دیا۔
صدمہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک فضا ہوتا ہے۔ ایک مسلسل جسمانی کیفیت۔ یہ پورے معاشروں کو نئی شکل دیتا ہے۔ والدین اور بچوں کا رشتہ نفسیاتی بقا کی پہلی صف بن جاتا ہے۔ان علاقوں میں والدین ایک دوہرا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ انہیں اپنے بچوں کے خوف کو بچوں کے ساتھ مل کر جھیلنا ہوتا ہے جبکہ ان کے اپنے ذہن میں ماضی کے زخم تازہ ہو رہے ہوتے ہیں۔ انہیں ایسے سوالوں کے جواب دینے ہوتے ہیں جن کے لئے کوئی تسلی بخش جواب موجود نہیں۔ انہیں ایسی جگہوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جہاں تحفظ سب سے زیادہ کمیاب شے ہوتی ہے۔ بچہ ان والدین میں استحکام تلاش کرتا ہے جن کے اندر شکست و ریخت کے عمل نے کچھ نہیں چھوڑا ہوتا۔ بچہ تسلی چاہتا ہے مگر والدین کے ذہن میں گولیوں کی آوازیں، کھوئے ہوئے لوگ اور آنے والے خطرات گونج رہے ہوتے ہیں۔ یوں ایک نازک جذباتی ماحول بنتا ہے جس میں دونوں زخمی ہوتے ہیں اور کسی کے پاس سنبھلنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ ماہرین اسے اجتماعی یا مشترکہ صدمہ کہتے ہیں۔ وہ کیفیت جس میں والدین اور بچے ایک مسلسل خطرے میں سانس لیتے ہیں۔ایسے حالات میں والدین کو اپنے بچوں کی نفسیاتی ساخت کو بچانے کے لئے غیر معمولی قوت درکار ہوتی ہے۔
سوڈان، یمن، شام اور افغانستان میں والدین جنگ، بھوک، بے گھری اور دائمی خوف کی تہوں میں بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔
سوڈان میں معاشرے کا بکھر جانا والدین کو تنہا کر دیتا ہے۔ یمن میں قحط والدین کو روزانہ کی بقا کی جنگ میں دھکیل دیتا ہے۔ شام میں طویل جنگ جذباتی طور پر سن ہو جانے کا باعث بنتی ہے۔ افغانستان میں سیاسی پابندیاں اور معاشی تباہی مستقل بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ان تمام خطوں میں کوئی حل نظر نہیں آتا۔ بچوں کے پاس امید لینے کے لئے کوئی مستقبل نہیں۔ ہر دن ایک نئی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں بموں، بھوک اور بچپن کے ٹوٹنے سے بچایا جائے۔ان تمام علاقوں میں صدمہ والدین کو ایک جیسے انداز میں بدل دیتا ہے۔ حد سے زیادہ چوکنا رہنا،مفلوج جذبات، چڑچڑاہٹ، زندہ بچ جانے کی خوشی نہیں بلکہ احساس جرم، ذمہ داریوں کی کایا کلپ اور پیچیدہ شخصی اور نفسیاتی الجھنیں۔
یہ سب ناکامی کی علامت نہیں بلکہ بقا کی علامت ہیں۔ یہ اس کشمکش کی گواہی دیتے ہیں جو حفاظت کے جذبے اور اس حقیقت کے درمیان ہے کہ حفاظت ممکن نہیں۔ یہ حقائق دکھاتے ہیں کہ صدمہ اعصابی نظام کو کیسے بدل دیتا ہے اور والدین اور بچوں کے رشتے کو کس طرح نئی شکل دیتا ہے۔دنیا اکثر جنگ زدہ بچوں کے زخموں پر توجہ دیتی ہے اور یہ توجہ بجا ہے۔ مگر ہر زخمی بچے کے پیچھے زخمی والدین کھڑے ہوتے ہیں جو کانپتے ہاتھوں سے خاندان کو تھامے رکھنے کی ناکامیاب کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ یہ والدین صرف جنگ کے شکار نہیں بلکہ اس کے خاموش ہیرو ہیں۔ وہ امید سکھاتے ہیں جہاں امید خود ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ وہ تباہی کے بیچ چھوٹے چھوٹے لمحے تراشتے ہیں جن میں زندگی کی جھلک باقی رہتی ہے۔ وہ اپنے ٹوٹے دلوں کے باوجود اپنے بچوں کے مستقبل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ایسے مقامات میں والدین ہونا صرف ذمہ داری نہیں رہتا بلکہ مزاحمت بن جاتا ہے۔ جنگ کو اگلی نسل کی روح میں داخل ہونے سے روکنے کی آخری کوشش۔
میں برسوں سے کہتا آیا ہوں کہ ان خطوں کا صدمہ دنیا کی سمجھ میں نہ آسکنے والا صدمہ ہے۔
عمومی طور پر نفسیات میں صدمہ ایک جان لیوا واقعہ ہوتا ہے جس کے بعد ایک بعد از صدمہ دور آتا ہے۔ مگر یہاں صدمہ ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل حقیقت ہے۔ دہائیوں سے جاری۔ آج ملبے میں جنم لینے والے بچے وہی بچپن گزار رہے ہیں جو ان کے والدین نے گزارا تھا۔ کتابیں اسے پیچیدہ صدمہ کہتی ہیں مگر یہ اصطلاح یہاں آ کر معمولی محسوس ہوتی ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ہم نسلاً بعد نسلاً منتقل ہونے والے صدمے کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔ والدین اپنے بچپن کے زخم اٹھائے پھر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی نئی ہولناکیاں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر غزہ میں ہزاروں بچوں کی اموات۔
ذہنی صحت کی کتابیں اس پیمانے کے دکھ کو شاذ ہی بیان کرتی ہیں۔ شاید اس لئے کہ اسے نام دینے سے دنیا کو اپنی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس صدمے کے ذمہ داروں کی نشاندھی کرنی پڑے گی۔ انسانیت کے ان مجرموں کے نئے کٹہرے تخلیق دینے ہوں گے۔ تہذیب کے چہرے سے ملمع اتارنے پڑیں گے۔ ایک ایسی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو عشرت کدوں میں بیٹھے افراد اور ان کے حق میں نعرہ بازی کرنے والوں کو اپنی پر تعیش خواب گاہوں میں بھی چین کی نیند سونے نہیں دے گا۔ ثبوت مانگیں گے تو ان جنگوں سے لوٹنے والوں کی خود کشی کے واقعات سناؤں گا۔
ایک اور حقیقت جو میں نے جنگ زدہ علاقوں میں والدین کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھی ہے۔ ایک ایسی حقیقت جسے ماہرین بھی زبان پر لانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اور یہ کہ والدین اپنے بچوں کو سنبھالنے میں کامیاب ہوں یا ناکام، یہ سوال اب ثانوی ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ نئی نسل جو ان جنگوں سے اٹھ رہی ہے وہ صرف زخمی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بدل چکی ہے۔ وہ غیر معمولی غصے، سن کردینے والی بے خوفی اور انتقامی کیفیت کے ساتھ بڑی ہو رہی ہے۔ ان میں ایک ایسی تیزی اور بے پروائی ہے جو ان کے اپنے گھر والوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔ وہ نتائج پر غور کئے بغیر سب کچھ برباد سکتے ہیں۔ وہ اپنی جان، خطرے، موت اور دنیا کی رائے سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ یہ اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ مسلسل اور بے رحم صدمے کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایسا صدمہ جسے موجودہ اصطلاحات بیان کرنا تو درکنار چھو بھی نہیں سکتیں۔یہ بچے اتنی دیر سے بموں، بھوک، بے گھری اور غم کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کے اعصابی نظام نے ایک ایسی دنیا کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے جس میں تحفظ موجود نہیں۔ دہشت نے ان کی جذباتی نشوونما کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مستقبل کا تصور ان کے ذہن سے مٹ چکا ہے۔ خوف کی حدیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ وہ صرف زخمی نہیں بلکہ ایسے انسان بن رہے ہیں جن کے لئے موت زندگی سے زیادہ مانوس اور مرغوب ہے۔اگر یہ بچے یونہی بے سنے اور بے سہارا بڑے ہوئے تو وہ ایسے بالغ بنیں گے جن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہو گا۔ عالمی امن کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ دنیا ان بچوں کے دہکتے ہوئے دکھ کو کب پہچانتی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ دکھ ایک ایسی قوت بن جائے جو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لے۔

اپنا تبصرہ لکھیں