بانجھ موسموں کا سفر ( ایک تنقیدی جائزہ)-یوحناجان

علم و فکر کی دنیا میں افسانہ نگاری کا رنگ ایک طرح کا مختصر کہانی نما فن پارہ ہے مگر اس کا کینوس وسیع تر پرتوں سے بھرا ہوتا ہے۔ جو تجریدیت اور علامتی دونوں رویوں کو سمیٹ کر موضوع کو داخلی و خارجی عیاں کرتا ہے۔ اس کا باہم ربط لکھاری و معاشرے کے مابین بات چیت کرتے پایا جاتا ہے۔ جو کرداروں کو استعاراتی یا تشبیہاتی اسلوب میں مگن کرکے دُکھ کے منظر، دکھیاری کی فریاد، خوشی کا نغمہ اور خوشیوں کی بھرمار کو ہمہ وقت بیان کرتا ہے۔ یہ سب کچھ خیالات و افکار کے رنگوں میں لفظوں کو کھٹے میھٹے لہجہ کی زبان دے کر قاری کو ذائقہ بتاتے ہیں جو اس کے حواس خمسہ تک اثر کر جاتا ہے۔
اسی راستے پر چلتے ہوئے جہاں دیگر لکھاریوں نے اپنی منفرد کہانی کو مجسم کیا وہیں پر منظور راہی بھی راہ کو ٹٹولتے میٹھے کھٹے دانت کیے رواں دواں ملتے ہیں۔ جہاں ان کی زندگی کے تجربات خود ان کرداروں اور آوازوں کو ایک ترتیب میں لا کر کہانی کا رنگ و روپ دھار رہے ہیں۔ ان کا مجموعہ “بانجھ موسموں کا سفر” بھی پوری آب و تاب سے مقصد و مفہوم کو گردونواح میں اعلانیہ بتاتا ہے تاکہ موجودہ نسل کے کانوں میں سماعت کا ڈھنڈوا پیٹا جائے۔
موصوف کے طرز ادا کے فن کا ذکر کروں تو گہرائی کی حد کو نوک سے چھوتے ہیں جو لفظوں کی تاثیر کے دھاگے میں باہم ہو کر ایک تصویر کو آویزاں کرتے ہیں۔ جو تھی نہیں مگر بن گئی، بنی نہیں تو کم از کم اس میں نقطہ آواز ضرور دیتا ملے گا۔ یہ نقطہ بکھرنے یا نکھرنے کی سماعت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔
اس اعتبار سے منظور راہی کا فن اور قلم کا جھکاو ہمیشہ اندر سے اندر جا کر دستک دیتا پایا گیا۔ ان کا لکھا ہوا افسانہ بعنوان”لمبے سائے اور قد” اس کو دیکھیں:
“گلی محلہ کی نکڑ پر اب زیادہ رش نظر آنے لگا،وہ صرف موچی تھے جو جوتیاں گانٹھتے ہیں مگر اب یہ موچی پُرانی جوتیوں کو نہ مرمت کرتے ہیں اور نہ ہی نئے جوتےبناتے ہیں، بلکہ انھوں نے لکڑی کی ایڑیاں دیواروں میں کیلوں سے لٹکا رکھی تھیں اور میں سامنے دُکان پر لگے پنجروں کو تکتا رہا اور سوچنے لگا کہ یہ بھی ہماری طرح ایک جگہ مقید ہیں۔”
اس قید و بند کی داستان کو وہ گہرائی میں جاکر پرکھتے ہیں اور اس کو وہی نوک دار چیز سے چھیڑ رہے ہیں۔ یہ لفظوں میں پروتے ہوئے اپنا تجزیہ اور تجربہ بھی دوسروں کو بتاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ آگے چلیں تو بعنوان افسانہ” پگھلتے چہرے” جس میں انسان کی آخری جگہ مراد قبر کی پہچان کرواتے ہیں۔ ایک طرح کی یہ بھی نوک ہے جو اُن تمام چہروں کی اصلیت رونما کرتی ہے۔ جو صاحب فراموش ہیں۔اس کاآغاز ہی چونکا دینے والا ہے۔ ذرا غور طلب:
“قبر ابھی خالی تھی، کیونکہ مُردہ دفن کرنے میں ابھی دیر تھی۔ اس لیے وقت کی رفتار ذرا سُست اور ماحول پر عجب سا ڈپریشن طاری تھا۔”
منظر،وجہ،مقصد،ماحول،وقت،رفتار سب کے سب ایک نوک سے چوب لگا رہے ہیں۔ باطن کو چھیڑ رہے ہیں۔ اندر ہی اندر فن کاری کروا رہا ہے۔ بعض اوقات وہ بھول چکے ہوتے ہیں۔ ایک طرف مایوسی کا لہجہ تو دوسری طرف فن کا جادو،جادو والی جپھی بھی ڈال رہا ہے۔ اضطرابی کیفیت جو کاسمیٹکیس کے چہروں پر پردہ ہٹا رہا ہے۔
پڑھنے کے تسلسل کو جاری رکھا جائے تو الفاظ کا پس منظر خود ہاتھ ملاتا،گلے لگاتا،چہرہ دکھاتا ملتا ہے۔ اگلے موضوع پر غور کریں تو بعنوان”چیخ میں دراڑیں” ایک تمثیل نگاری پر مبنی ملتا ہے۔ اس کو پڑھتے وقت کچھ ایسا منظر نقش ہوا کہ وہ نوک خود چوب لگاتے مجھے محسوس ہوئی۔ اقتباس دیکھیں:
“شہر کی فصیلوں پر اب تک کوئی آوازیں لگا رہا تھا۔ آواز کا مفہوم میری سمجھ سے بالاتر تھا مگر آواز کی بازگشت فضاوں میں بڑی دیر تک تیرتی رہی۔ دھماکوں کی تیز بو چہار جانب پھیل گئی۔ تازہ ہوا نہ ہونے کی وجہ سے سانس لینا اب دوبھر ہو گیا۔”
ایک سے بڑھ کر ایک منظر اور نوک دار لہجہ جو دھماکے دار معانی اور اس فضا کو اپنی لپیٹ میں لے کر ایک بدنما چہروں اور ذہنوں کی عکاسی کر رہا۔اس بابت کیا خوب لکھا گیا کہ ناپاکی تمھاری اندر سے نکلتی ہے۔ یہ اسلوب مکروہ چہرے نہیں بلکہ ان کی آوازوں کو سُننے اور جاننے کے بعد کی صورت حال بتا رہا ہے۔
اگلے صرف موضوعات کو ہی بیان کر لوں تو وہ اپنے چہرے،لہجے،آواز اور سُر سے ہی ابتدا سے انتہا تک خود عیاں کرتے ملتے ہیں۔ جیسا کہ” محبت،اکائی اور سانپ” خود میں ایک سراپا نگاری، “ندی،حرف،لفظ” ایک سفر کا منظر اور “اُجڑے شہر کا معمہ” خود میں ایک خود نوشت کا روپ لیے ہوئے ہے۔ آپ بیتی،بقلم خود،رپوژ تاژ یا علامتی نگاری سب کے سب رکھتے پاوں اندر جاتی سانس کے ساتھ اہنا تاثر محسوس کرواتے ہیں۔ یہی قلم کار کی خوبی ہے کہ اس کے لکھے لفظ قاری کی سانس تک اثر کریں۔ جو اردگرد جانچ کر محسوس کیا،پھر ان کااحساس بھی کروایا۔ جس کا نتیجہ تنقید کی گود میں اُن پہلووں کو رونما کرتا ہے جو ادب کا مقصود ہے۔
ایک طرف منظور راہی صاحب تو دوسری طرف اُن کا قلم دونوں کا رُخ ایک جانب تخلیقی ادب کو اُجاگر کرتے ادب کے میدان میں خود کہانی بن کر سامنے آتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں