والدین کا دن /اقتدار جاوید

میں نے اردو اور پنجابی ادب میں سب سے پہلے والد کے موضوع کو متعارف کروایا اور کتابی شکل میں بھی والد کو خراج تحسین پیش کیا۔اردو میں طویل نظم دیو مالا کے نام تلے لکھی۔اس کے ساتھ ہی دس سال قبل” پئو دی وار“ لکھنے کا خیال آیا۔یوں تو ہر باپ ہی عظیم ہوتا ہے میرے والد الحمد للہ فی الاصل ایک بڑے آدمی تھے۔ان جیسا آدمی کسی خاندان میں صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔جیسے کہا جاتا ہے ہر صدی کا ایک مجتہد ہوتا ہے ویسے ہی خاندانوں میں بھی مجتہد جنم لیتے ہیں۔خاندان صدیوں تک وقت کے قعر میں یوں غرقاب ہوتے ہیں کہ دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔یونہی زمین پر ظہور کرتے ہیں اور وہیں مٹی میں مٹی ہو جاتے ہیں۔
والد نے بڑی مشکلوں سے تعلیم حاصل کی تھی یعنی کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس کے بل بوتے پر وہ تعلیم حاصل کر سکتے البتہ ان میں ایک الہی’ آتش تھی جس نے ان کو سر تا پا بے چین کیا ہوا تھا۔وہ ایک عالم اور فقیہہ تھے۔فقہی مسائل پر ان کی گہری نظر تھی مگر ان کی طبیعت میں ایک کھلا پن ایک رواداری اور بے تعصبی تھی۔کسی سے مذہب یا کسی بھی بنیاد پر فرق روا رکھنا ان کے نزدیک سخت معیوب تھا۔ایک تو ہمارا علاقہ انتہائی پسماندہ اوپر سے ان کا ادبی ذوق۔یہ ایک ایسا تضاد تھا جس کا ان کو ہر وقت سامنا کرنا پڑتا تھا۔
جب میں نے لکھنا شروع کیا تو میرا میلان آزاد نظم کی طرف تھا۔میں غزل بھی کہتا تھا مگر آزاد نظم سے دلچسپی زیادہ تھی۔اس وقت فنون اور اوراق دو ادبی مجلوں کی دھوم تھی۔میں نے ان دونوں پرچوں کی سالانہ خریداری کی رقم بھیجی اور یہ دونوں پرچے بادشاہ پور کے پتے پر آنا شروع ہو گئے۔انہی دو پرچوں میں میری نظمیں اور غزلیں شائع ہوتی تھیں۔اس کے علاوہ قمر جمیل کا دریافت، کشور ناہید کا ماہ نو، ناصر بغدادی کا بادبان، شبنم رومانی کا اقدار، نسیم درانی کا سیپ، احمد ہمیش کا تشکیل، سلطان رشک کا نیرنگ خیال، احمد ہاشمی کا روایت، گل بخشالوی کی کتاب سیریز سیدہ حنا اور حامد سروش کا ابلاغ جو نوشہرہ سے شائع ہوتا تھا آنے لگے۔جب یہ پرچے موصول ہوتے تو والد ہی اس کے پہلے قاری ہوتے۔اسی میں انہوں نے ہماری نظم اور غزل پڑھی اور ہمیں ”تازہ افکار ادیب“ کہا۔انہیں آزاد نظم سے لگاؤ نہیں تھا مگر ہماری نظم دیکھ لیتے تھے۔بعد میں انڈیا سے شب خون اور دلی سے نظم نگار زبیر رضوی کا ذہن جدید بھی آنا شروع ہو گئے۔نوے میں میں نے غزل کی طرف توجہ دی اور اکادمی کا پرچہ ادبیات بھی منگوانا شروع کر دیا۔ان سارے پرچوں میں ہماری چیزیں شائع ہوتی تھیں اور یہ سب ان کی نظر سے گزرتا تھا۔
کچھ اور پرچے بھی تھے۔ میں ان سب رسالوں کو فہرست سے لے کر مکتوب نگاری کے صفحہ تک پڑھتا۔ایک دفعہ کہنے لگے اتنے رسالے منگوانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔اتنے پیسے کیوں ضائع کرتے رہتے ہو دوسرا اتنا کون پڑھ سکتا ہے۔میری بڑی خواہش تھی کہ نوے کی دہائی میں میری نظموں اور غزلوں کا پہلا مجموعہ شائع ہو جائے۔اس سلسلے میں وزیر ا آغا کے اوراق میں اس مجموعے ” ناموجود“ کا اشتہار بھی لگ گیا تھا مگر اس کی اشاعت ان کی زندگی میں نہ ہو سکی۔
اسی کی دہائی میں میں نے پنجابی میں لکھنا شروع کیا اور مقصود ثاقب کا پرچہ ماں بولی اور اختر حسین اختر کا لہراں اپنے نام جاری کروا لیا۔مقصود کا پرچہ تب بھی نمبر ون اور آج بھی نمبر ون ہے۔میں نے اس میں اپنی ایک آدھ نظم بھیجی مگر قبلہ والد کا کلام باقاعدگی سے بھیجنا شروع کر دیا۔مقصود ثاقب ان کا کلام خاص اہتمام سے چھاپتے اور ان کے نام سے حضرت ضرور لکھتے۔یہ کلام پرچے پہلے یا آخری اندرونی صفحے پر چھپتا۔مقصود ثاقب نے ان کے طویل انٹرویو کے لیے بادشاہ پور آنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔مگر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔
سید سبط الحسن ضیغم بھی انہی دنوں بادشاہ پور آئے۔احمد ندیم قاسمی کا پرچہ فنون بھی باقاعدگی سے مل رہا تھا۔اس میں ایک مضمون ہمارے ضلع کے ہی سید نور محمد قادری آف چک نمبر پندرہ شائع ہوا۔قبلہ انہیں ملنے کے لیے خود ان کے چک تشریف لے گئے۔سید صاحب کی اولاد آج کل شاید کراچی میں مقیم ہے اور اپنے کاموں کے ساتھ ادب سے بھی لگاؤ ہے۔
ناصر بغدادی کے پرچے بادبان میں میری ایک غزل شائع ہوئی جس کا مطلع تھا
آئنہ ہوں اور عکسِ آئنہ ہو جاؤں گا
میں اگر ظاہر ہوا تو لاپتہ ہو جاؤں گا
انہیں یہ غزل پسند آئی۔یہی غزل تیس سال بعد میں نے سخن نشانی عشق کی میں اس لیے شامل کی کہ اس میں والد کی پسند شامل تھی۔
ان کا ذوق کلاسک تھا البتہ اقبال کے بعد آنے والے ادبا میں ان کو شورش کاشمیری، ظہیر کاشمیری، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور بہت سارے اور بھی پسند تھے۔ایک اہلِ قلم کانفرنس میں ہم باپ بیٹا اکٹھے اسلام آباد گئے۔ وہاں رئیس امروہوی سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ان کا اردو کا ذوق بہت اعلی’ تھا۔گھر میں اردو کے تمام کلاسیک شعرا کے جیبی دیوان موجود تھے۔مجھے فارسی شعر کا ذوق وہیں سے نصیب ہوا۔اس زمانے میں خط و کتابت سکہ رائج الوقت تھا۔آپ خوبصورت لیٹر پیڈ پرنٹ کرواتے تھے اور اس پر اپنے ذوق موافق کوئی شعر بھی لکھواتے تھے۔ایک لیٹر پیڈ پر
طالب آملی کا شعر
کفر است در طریقت ما کینہ داشتن
آئین ماست سینہ چون آئینہ داشتن
لکھوایا تھا۔ علمی گفتگو کے دوران کلیم کاشانی کا شعر
ما ز آغاز و ز انجامِ جہاں بے خبریم
اوّل و آخرِ ایں کہنہ کتاب افتادہ است
کوٹ کیا کرتے۔
میرے بچپن کے دوستوں اور کلاس فیلوز میں کسی کو بھی لکھنے لکھانے سے دلچسپی نہیں ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ ہمیں جو استاد بھی ملے وہ بھی شعری ذوق سے بالکل کورے تھے۔میں نے میٹرک تک اپنے کسی استاد کے منہ سے ایک شعر بھی نہیں سنا تھا۔ناک کی سیدھ میں چلنے والے اساتذہ تھے اور شعری لطافت سے بالکل محروم تھے۔ قبلہ والد کی زندگی میں میری کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی البتہ والدہ حضور کے ہوتے ہوئے ہم ”باقاعدہ“ ادیب ڈئکلئر ہو چکے تھے۔ان کے مزاج میں مزاح بھی شامل ہوتا تھا۔جب میں اپنی پہلی شائع شدہ کتاب کی گھٹڑی لے کر گھر میں داخل ہوا تو وہ پورچ میں بیٹھی تھیں۔پوچھنے لگیں اس گھٹڑی میں کیا ہے۔جب انہیں حقیقتِ حال معلوم ہوئی تو فرمایا ابھی تو تمہارے والد کی کتابوں نے جگہ گھیری ہوئی ہے یہ کہاں رکھو گے۔یوں تو سب کے والدین عظیم ہوتے ہیں اور گاہے گاہے ان کو یاد کرنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے مگر اب تو سوشل میڈیا نے والدین کو باقاعدہ یاد کرنے طریقہ اپنایا ہوا ہے۔سوشل میڈیا نہ ہوتا والدین کا دن خاموشی سے گزر جانا تھا۔
جن دو اشعار کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کا اردو میں کیا ہوا میرا ترجمہ بھی دیکھ لیں
یہ کفر ہے جو دل میں اگر کینہ رکھنا ہے
اپنا طریقہ سینے کو آئینہ رکھنا ہے
علم کیا ہوگا جہاں کا، زکتابِ دنیا
صفحہِ اول و آخر ہی نہیں ہے اس میں!!

اپنا تبصرہ لکھیں