بلوچ ، پشتون اور کشمیری عوامی تحریکیں بمقابلہ اشرافیہ/محمد عامر حسینی

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ظہیر شیخ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی (حکمران ) اشرافیہ سالانہ 51 ارب ڈالر منافع کما رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منافع وہ ایسی پالیسیاں بنائے جانے کے زریعے کماتی ہے جو عوام دشمن ہیں اور سارا بوجھ عام آدمی پر منتقل کرتی ہیں ۔

اب جس علاقے کی بھی عوام اپنے حقوق کی مانگ کرتی ہے جس میں سستی بجلی ، سستی گیس ، سستا پٹرول و ڈیزل ، سستا آٹا ، سستی چینی ، سستا خوردنی تیل و گھی ، سستا تعمیراتی میٹیریل، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی ، سستی کھاد، زرعی ادویات ، سپرے ، سستا صابن اور دیگر اشیائے بنیادی ضرورت شامل ہیں تو عوام کے ان مطالبات کو پورا کرنے کا مطلب جی ایس ٹی ، لیویز اور بالواسطہ ٹیکسز میں کمی اور براہ راست ٹیکسز میں اضافہ ہوتا ہے جس کا آسان پیرائے میں مطلب یہ ہے کہ عام آدمی پر ٹیکسوں کے بوجھ کا خاتمہ اور 51 ارب ڈالر سالانہ کمانے والی اشرافیہ پر براہ راست زیادہ ٹیکسز کا نفاذ ۔۔۔۔ یہ راستا حکومت ، ریاست کبھی اختیار کرنا نہیں چاہتی ۔

اس وقت پاکستان کی وفاقی حکومت اور وہاں پر اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی جماعتیں اور اسی طرح صوبائی حکومتی بنچز اور اپوزیشن بنچز پر براجمان سیاسی جماعتوں میں سے کوئی ایک بھی جماعت عوام کے ان مطالبات کے گرد سیاسی تحریک چلانا نہیں چاہتی ، اس پر جگہ جگہ عوامی حقوق ایکشن کمیٹیاں سامنے آئی ہیں جن کے تحت عوام اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے تحریکیں چلا رہی ہیں ۔ یہ تحریکیں جن علاقوں میں زور پکڑ رہی ہیں ان علاقوں میں ریاستی مشینری فوج ، پولیس وغیرہ وغیرہ ان تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔
آزاد جموں و کشمیر میں عوام نے تمام سیاسی جماعتوں کو “الوداع ” کہہ دیا ہے تو وہاں عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ پولیس ، رینجرز اور فوجی دستے اس عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں ۔ راولا کوٹ میں تو پولیس ، رینجرز اور فوج کے دستوں نے مقتول شاہ زیب کے جنازے میں شریک کشمیری عوام پر گولی چلا دی ہے ۔

آزاد جموں و کشمیر کے عوام اپنے پہاڑ ، جنگلات ، معدنیات ، دریا پر اپنا کنٹرول ہونے کی مانگ کر رہے ہیں ۔

یہ براہ راست حکمران اشرافیہ اور اس کی پشت پر کھڑی ریاست کی جابرانہ فوجی و سول بیوروکریسی کے قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ ہے ۔ اسی لیے مرکز اسلام آباد نے “آزاد جموں و کشمیر ” کی عوام پر پولیس ، رینجرز اور فوجی دستے چھوڑ دیے ہیں ۔

خیبرپختون خوا کے قبائلی اضلاع جو عرصہ دراز سے جنگوں اور فوجی آپریشنز کی زد میں ہیں اور ان کو شکایات ہیں کہ مرکز ان کی بجلی ، گیس کی رائلٹی پہلے ہی لوٹ رہا ہے اور اب معدنیات بھی لوٹی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے جنگ اور فوجی آپریشنز کے خاتمے ، متاثرہ خاندانوں کی بحالی و آبادکاری ، اپنے وسائل پر کنٹرول ، جبری گمشدگان کی بازیابی اور دیگر حقوق کی بازیابی کے لیے “پشتون تحفظ موومنٹ ” ۔ پی ٹی ایم بنائی کیونکہ ان کے مطالبات کو سیاسی جماعتوں نے کوئی اہمیت نہیں دی ، پی ٹی ایم جب ایک مقبول پشتون عوامی تحریک میں بدلی اور مطالبات کو منظور کرنے کا دباؤ بڑھا تو یہاں بھی ان کے خلاف ریاستی جبر و استبداد بڑھا دیا گیا اور ساتھ ہی پی ٹی ایم پر پابندی لگا دی گئی۔
یہی حال بلوچستان کا ہے ۔ وہاں بلوچ یک جہتی کمیٹی پارلیمانی سیاست کے ڈرامے کے فلاپ ہوجانے کی وجہ سے ابھری اور اس وقت بلوچ قوم کے وسائل اور حقوق کی یہ سب سے بڑی پرامن مزاحمتی تنظیم ہے جسے بلوچ عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے ۔ اسے وفاقی اور صوبائی حکومت نے عملی طور پر کالعدم قرار دے رکھا ہے ۔ بی وائی سی قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں ۔ انھیں سڑک پہ احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ پریس کلبز کے دروازے ان پر بند ہیں ۔ جبری گمشدگیاں ، فیک ان کاونٹر میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا عوامی تحریکوں اور اس کی قیادت کرنے والوں کی طرف ایک ہی رویہ ہے کہ وہ ملک دشمن ، غدار ، سیکورٹی رسک ہیں ۔ ان سے نمٹنے کے لیے ریاست آئین شکنی کر رہی ہے ۔ ماورائے قانون اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اسے “حب الوطنی” کا نام دیا جا رہا ہے ۔ نجی اور خفیہ اذیت گھروں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔
اشرافیہ بجٹ کی نوے فیصد سبسڈیز لوٹ لیتی ہے ۔ باقی کی دس فیصد عوام کے نام پر خرچ کرنے کے دعوے کے ساتھ ہی یہ تعلیم ، صحت کے شعبوں کو دھڑا دھڑ پرائیویٹ کر رہی ہے ۔ پنشن اور دیگر مراعات پر حملہ آور ہے ۔
مطلب صاف واضح ہے کہ یا تو 51 ارب ڈالر سالانہ منافع کے آگے سر تسلیم خم کر دو دوسری صورت میں ریاستی جبر و استبداد کے لیے تیار رہو ۔
عوام بمقابلہ اشرافیہ کی جنگ میں سول اور فوجی انتظامیہ اشرافیہ کی محافظ ہے ۔ کیونکہ ریاست کی مقننہ عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ اشرافیہ کی نمائندہ ہے ۔

اس وقت پنجاب اور سندھ دو ایسے صوبے ہیں جہاں عوامی حقوق کی بازیابی کی کوئی تحریک سامنے نہیں ہے ۔ ان دو صوبوں کی عوام سو جوتے ، سو پیاز روز کھاتی ہے ۔ پنجاب میں عوام پولیس ، رینجرز ، پیرا فورس ، کے ہاتھوں روز ذلت سہتی ہے ۔ پنجاب اور سندھ کے شہری مراکز میں فیلڈ مارشل کے بڑے بڑے پورٹریٹ آویزاں ہیں ۔ انھیں مختلف قسم کے مافیاز دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ بجلی ، تیل ، گیس سمیت یوٹیلیٹی بلز کی مد میں ان کا شدید طبقاتی استحصال ہو رہا ہے لیکن یہاں کی دانش کے ہاں “حب الوطنی ” کا کیڑا ہے جو بیٹھنے کا نام نہیں لے رہا ۔ سندھ میں پھر بھی قوم پرست مزاحمت موجود ہے ۔ لیکن پنجاب میں سرائیکی بیلٹ کی عوام شدید ترین استحصال اور محرومی کے باوجود اٹھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔
اس وقت بلوچ ، پشتون اور کشمیری عوام فیصلہ کر چکے ہیں ، انھیں آخری سانس تک لڑنا ہے ۔ فیصلہ سندھی ، سرائیکی اور پنجابی عوام نے کرنا ہے کہ وہ حکمران اشرافیہ اور اس کی محافظ انتظامیہ سے لڑنے کا کب فیصلہ کریں گے ؟ اگر وہ لڑنے کا فیصلہ کر لیں گے تو وفاق پاکستان قائم بھی رہے گا اور ٹوٹنے سے بچ بھی جائے گا۔ اگر انھوں نے دیر کی تو پھر عوامی حقوق کی بلوچ ، پشتون اور کشمیری تحریکیں قومی آزادی کی تحریکوں میں بدلیں گی اور یہ مسلح جدوجہد اور ہتھیار اٹھا کر لڑنے والوں کو own کریں گی ۔ پھر واپسی کا راستا بند ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں