سیاسی فرقے اور فرقوں کی سیاست/ڈاکٹر اظہر وحید

آج کا موضوع قدرے حساس ہے، کیوں کہ اس نازک موضوع پر قلم فرسائی بہت سوں کے لیے روح فرسا ہوگی۔ ممکن ہے ، بہت سے آبگینوں کو ٹھیس لگ جائے ۔ مگر کیا کریں— کبھی تو سچ کہنا ہوتا ہے۔ بدعلمی نے بہت سی بدعملی پیدا کر دی ہے— اب وقت آگیا ہے کہ بدعلمی کے جالے صاف ہوں— تا آن کہ درست زاویہِ ہائے فکر و عمل میسر آئیں۔

فقیر کے اکثر کالم قارئین کے کسی سوال کے جواب میں تحریر ہوتے ہیں۔ جی میں آئی ، کیوں نہ آج جواب دینے کی بجائے سوالات اٹھائے جائیں — اور بارِ جواب قارئین کے کندھوں پر رکھا جائے!
سوال یہ ہے کہ —
کیا اسلام کی خدمت اسلام کےنام پر جماعت سازی کے بغیر بھی ممکن ہے؟
کیا جماعت سازی اُمّتِ مسلمہ کی وحدت کی راہ ہموار کرتی ہے؟
کیا اسلام کی خدمت یہ ہے کہ ہم اسلام پسند لوگوں کو باقی اُمّت سے علیحدہ کر کے ایک نئی شناخت دےدیں؟
کیا یہ ممکن ہے کہ کسی اسلامی جماعت میں شامل نہ ہونے والے مسلمان بھی اسلام سے ویسی ہی والہانہ محبت رکھتے ہوں جیسی اُس جماعت کے ممبران اپنے دل میں رکھتے ہیں؟
وہ لوگ جو کسی دینی جماعت میں شامل نہ ہو سکیں، اہلِ جماعت ان کے بارے میں کیسے جذبات رکھیں گے؟
کیا یہ ممکن ہے ،کچھ اور لوگ بھی اسلام کی خدمت کر رہے ہوں، کسی اور انداز سے؟
کیا یہ ممکن ہے کہ وہ سب جماعتیں جو اسلام کے لیے کام کر رہی ہیں— سب ایک ہو جائیں؟
کیا اسلام کی خدمت کے لیے، یا تبلیغ کرنے کے لیے کسی دینی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے؟
کیا اسلام میں داخل ہونے کے لیے توحیدو رسالت ( اورختم ِ نبوت ؐ) 1ایمان رکھنا کافی نہیں؟
کیا آج کے دور میں اسلام میں داخل ہونے کی شرائط پہلے سے زیادہ کڑی ہوگئی ہیں؟
کیا کوئی اسلامی جماعت اپنے بانی کے نظریات سے الگ ہو کر بھی اسلامی جماعت ہی رہتی ہے؟
کیا نظریہ ِ اسلام اور بانیِ جماعت کی تشریح میں فرق آ سکتا ہے؟
کیا کسی بانیِ جماعت کی تشریحِ اسلام پر اعتراض اسلام پر اعتراض سمجھا جائے گا؟
کیا اسلامی جما عت کا بانی اُمّتی ہوتا ہے؟ کیا اُس کے پیروکار بھی اّمّتی ہوتے ہیں؟
کیا ایک اُمتی کو دوسرے اُمتی کے ایمان کی جانچ پڑتال کا حق حاصل ہے؟
کیا ایک اُمّتی دوسرے اُمّتیوں پر فوقیت رکھتا ہے؟
اگر ایک اُمّتی کو دوسرے اُمّتیوں پر فوقیت حاصل ہے تو اِس فوقیت کی تصدیق کون کر رہا ہے؟
کیا دولت ، منصب اور اثر ورسوخ کی بنیاد پر اسلام کسی کی فوقیت کو تسلیم کرتا ہے؟
کیا دو اُمّتیوں کے درمیان تفہیمِ اسلام کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو سکتا ہے؟
کیا اختلافات ختم کرنے کے لیے کتاب کافی ہے؟
کیا امتِ مسلمہ میں اختلاف اس لیے تو پیدا نہیں ہو رہا کہ ہر شخص اور گروہ کتاب اللہ کی ایک الگ تشریح کر رہا ہے؟
کیا الہامی کلام کی تفسیر ذہنی ہو سکتی ہے؟
کیا ہر شخص کو تفسیر کرنے کا حق حاصل ہے؟
کیا ایک کتاب کی تشریح کوئی دوسری کتاب کر سکتی ہے؟
کیا اسلام صرف علم کا نام ہے یا اس کا کوئی عمل بھی ہے؟
کیا اسلامی عمل کسی اسلامی جماعت کی طرف سے متعین کردہ عمل کا نام ہے؟
کیا اسلام ہمارے لیے کوئی سیاسی نظام تجویز کرتاہے؟
کیا اسے شورائی نظام کہیں گے؟
کیا موجودہ جمہوریت کے تحت قائم ہونے والی پارلیمنٹ کو مجلسِ شوریٰ کہا جا سکتا ہے؟
کیا ایک اسلامی ریاست میں مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت ہے؟
کیا ایک اسلامی ریاست میں ممبرپارلیمنٹ کا کوئی اخلاقی، تعلیمی یا تربیتی معیار بھی ہوتا ہے؟
اگر کسی ووٹر کو کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت پسند ہے لیکن اس کی ٹکٹ پر ووٹ لینے والا بندہ امانت اور دیانت کے باب میں درست معلوم نہیں ہوتا تو ایسے میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟
کیا امانت اور دیانت کسی شخص کا ذاتی جوہر ہوتا ہے یا کوئی سیاسی و مذہبی جماعت ہے جو صادق اور امین کہلائے گی؟
کیا ہر دینی جماعت کے لیے سیاسی ہونا ضروری ہے؟
کیا سیاسی جماعتوں میں ہر مسلک اور فرقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں؟
کیا دینی جماعتوں میں بھی ہر مسلک اور فرقے کے لوگ موجود ہیں؟
کیا ( مثال کے طور پر )جماعتِ اسلامی میں تشیع اور بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں؟
کیا وحدت المسلمین کے لیے ایک الگ جماعت بنام وحدت المسلین بنانا ضروری ہے؟
کیا ( مثال کے طور پر ) جماعت وحدت المسلمین مکتبہ اہل حدیث اور دیوبند سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو ٹکٹ دے سکتی ہے؟
کیا ( مثال کے طور پر) تحریکِ لبیک دیوبند اور اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو اپنے اندر شامل کرتی ہے؟
کیا ہر دینی جماعت کسی مخصوص مسلک اور فرقے کی نمائیندگی کرتی ہے؟
کیا سیاسی جماعتیں ملکی سیاست میں فرقہ واریت کم کرتی ہیں اور دینی سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ تفریق کو گہرا کرتی ہیں؟

اسلام بذاتِ خود ایک جماعتِ مسلمین ہے۔ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو ہدایتِ کاملہ سے متصف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک جماعت کے اندر مزید جماعت سازی ؟—چہ معنی دارد؟

چوتھی صدی ہجری ، یعنی ایک ہزار برس قبل ایک بزرگ حضرت ابوعثمان مغربیؒ کا یہ قول اس باب میں آج بھی قابلِ توجہ ہے :
” جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے، وہ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ لوگ کسی اور کے ذریعے بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں؛ اور جو لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے، اسے یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ لوگ کسی اور کی طرف متوجہ ہوں“۔

اپنا تبصرہ لکھیں