فیمینزم سے سوشل میڈیا فیمینزم تک-ایک سماجیاتی مطالعہ/نادیہ زید

جب بھی سوشل میڈیا پر فیمینزم کے بعض خود ساختہ ترجمانوں اور علمبرداروں کی تحریریں نظروں سے گزرتی ہیں تو چند لمحوں کے لیے دل چاہتا ہے کہ سیمون دی بوواغ، بیل ہکس، جوڈتھ بٹلر، سلویا والبے اور نسوانی سماجیات کی کئی دوسری نظریہ ساز خواتین کی کتابیں دوبارہ کھول کر دیکھ لوں۔ شاید نسوانی سماجیات کو سمجھنے میں مجھ سے ہی کوئی بنیادی غلطی ہوئی ہو۔ شاید میری سماجیاتی تربیت ہی اس نئے فیمینزم کو سمجھنے سے قاصر ہو۔

پھر خیال آتا ہے کہ نہیں۔ مسئلہ شاید میری سماجیاتی تربیت کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں فیمینزم کی عوامی تعبیر ہی ابتدا سے اس انداز میں تشکیل پائی کہ اس سے جنم لینے والا سوشل میڈیا بیانیہ اس سے مختلف ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے اس فیمینزم کو سمجھنے کے لیے اردو کی ایک پرانی کہاوت ہی کافی معلوم ہوتی ہے۔

“ہمیں تو اپنوں نے لوٹا، غیروں میں کہاں دم تھا۔”

اگر آج پاکستان میں کسی عام آدمی سے پوچھا جائے کہ فیمینزم کیا ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ اس کے ذہن میں خواتین کی تعلیم، وراثت، قانونی مساوات، معاشی خودمختاری یا گھریلو تشدد جیسے بنیادی مسائل نہیں آئیں گے۔ اس کے بجائے اسے “میرا جسم میری مرضی”، “لو بیٹھ گئی ٹھیک سے”، “اپنا کھانا خود گرم کرو” جیسے نعرے، چند متنازع پلے کارڈ، اور وہ سوشل میڈیا کی بحثیں یاد آئیں گی جہاں دلیل سے پہلے صف بندی ہوتی ہے، گروہ پہلے منتخب کیے جاتے ہیں اور مؤقف بعد میں۔ پھر “مسوجنسٹ”، “پک می” اور “جعلی فیمینسٹ” جیسے القابات اس فراخ دلی سے بانٹے جاتے ہیں جیسے کسی میلے میں ریوڑیاں تقسیم ہو رہی ہوں۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ فیمینزم کا مقدمہ تو ابتدا ہی سے یہ تھا نہیں۔ انیسویں صدی کی First-wave Feminism (فرسٹ ویو فیمینزم)، جس کی نمایاں شخصیات میں Elizabeth Cady Stanton (الزبتھ کیڈی اسٹینٹن)، Susan B. Anthony (سوسن بی انتھونی)، Lucretia Mott (لوکریشیا موٹ)، Emmeline Pankhurst (ایملین پینکھرسٹ) اور John Stuart Mill (جان اسٹورٹ مِل) جیسے نام شامل ہیں، مردوں کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی تحریک نہیں تھی۔ اس کی جدوجہد خواتین کے حقِ رائے دہی، تعلیم، جائیداد میں حقِ ملکیت، قانونی مساوات اور عورت کو ایک مکمل شہری کی حیثیت دلانے کے لیے تھی۔ اس کا مقصد معاشرے میں آگ لگانا نہیں تھا، بلکہ اُن قوانین اور اداروں کی اصلاح کرنا تھا جو عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے تھے۔ اسی لیے اس کی بڑی کامیابیاں نعروں، جوابی حملوں یا عوامی تماشوں سے نہیں آئیں، بلکہ قانون بدلنے، اداروں کی اصلاح اور معاشرتی شعور کو بتدریج تبدیل کرنے سے حاصل ہوئیں۔

کسی بھی سماجی تحریک کے گرد صرف دو گروہ نہیں بنتے؛ ایک تیسرا طبقہ بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو ابتدا ہی سے اس کے حامی ہوتے ہیں، دوسری طرف وہ جو ہر حال میں اس کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو ابھی فیصلہ نہیں کر پاتے۔ وہ نہ اصولی طور پر تحریک کے مخالف ہوتے ہیں، نہ اس کے ہر بیانیے سے مطمئن۔ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں، سن رہے ہوتے ہیں، اور یہ طے کر رہے ہوتے ہیں کہ کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

کسی بھی کامیاب تحریک کا اصل امتحان یہی طبقہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس طبقے کو قائل کر لے تو اس کا دائرۂ اثر بڑھتا ہے، اور اگر وہ اسے دھکیل دے تو اپنے ہاتھوں اپنی قوت کم کر لیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر فیمینزم کے بعض نمایاں چہروں نے یہی مشکل پیدا کر دی ہے۔ اختلاف رکھنے والے ہر شخص کو “مسوجنسٹ”، “پک می” یا کسی اور خانے میں رکھ دینا شاید وقتی داد تو لے آئے، مگر اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ، جو عورتوں کے بنیادی حقوق کے مخالف نہیں ہوتے، آہستہ آہستہ اس تحریک سے بیگانہ ہونے لگتے ہیں۔ وہ اس لیے دور نہیں ہوتے کہ وہ انصاف، برابری یا خواتین کے حقوق کے مخالف ہیں، بلکہ اس لیے کہ چند نمایاں آوازیں گویا یہ تاثر دینے لگتی ہیں کہ اس تحریک میں جگہ صرف اُنہی کے لیے ہے جو ہر مؤقف، ہر لہجے اور ہر طرزِ استدلال سے غیر مشروط اتفاق کریں۔ یوں اختلاف رکھنے والا شخص، قائل کیے جانے کے بجائے، بلاوجہ مخالفین کی صف میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

میں ہرگز یہ نہیں کہتی کہ ان لوگوں کو اظہارِ رائے کا حق نہیں۔ یقیناً ہے، اور اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کو حاصل ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا وہ اپنے اس حقِ اظہار کو اس تحریک کے دائرۂ اثر کو وسیع کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یا پھر غیر ضروری صف بندیاں، لیبل اور تلخیاں پیدا کر کے اسی تحریک کو محدود کر رہے ہیں؟ اگر کسی طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلے کہ وہ لوگ بھی دور ہونے لگیں جو کل اس تحریک کے حامی بن سکتے تھے، تو پھر فائدہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کو پہنچ رہا ہے یا صرف اُن چند چہروں کو جن کی مقبولیت ہر نئے تنازعے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں