کوفہ کے مسافر سے اپنی ٹرائیلوجی تک-مقتل کے کنارے ایک ادیب(2)-محمد عامر حسینی

میرے سامنے کئی کتابیں کھلی پڑی تھیں، مگر سفید کاغذ پر صرف ایک جملہ لکھا تھا اور وہ جملہ بھی مجھے مشکوک دکھائی دے رہا تھا۔
کمرے میں ایسی خاموشی تھی جس میں کتاب کے ورق پلٹنے کی آواز بھی غیر معمولی طور پر بلند سنائی دیتی ہے۔ ایک طرف تاریخ طبری کا وہ حصہ کھلا تھا جہاں معاویہ کی وفات کے بعد یزید کے لیے بیعت لینے کے احکام اور مدینہ کی صورت حال کا ذکر آتا ہے۔ دوسری طرف بلاذری، دینوری، شیخ مفید اور ابو مخنف سے منسوب روایتوں کے نوٹس بکھرے ہوئے تھے۔ ان کتابوں کے درمیان میرے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے نقشے تھے، جن پر مدینہ، مکہ، کوفہ، قادسیہ، بطن عقبہ، شراف، ذوحسم، عذیب الہجانات اور کربلا کے نام درج تھے۔ کسی نقشے پر ایک تیر مکہ سے کوفہ کی طرف بڑھتا تھا، مگر کربلا پہنچ کر رک جاتا۔ دوسرے کاغذ پر کوفہ کے قبائل، ان کے سرداروں، سیاسی وابستگیوں اور عبیداللہ ابن زیاد کے انتظامی اقدامات کی تفصیل تھی۔

چائے کا کپ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔

باہر سے کسی مجلس یا نوحے کی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ میں الفاظ صاف نہیں سن پا رہا تھا، صرف ایک ردھم تھا جو کبھی قریب آتا اور کبھی شہر کی دوسری آوازوں میں گم ہو جاتا۔ میں نے کاغذ پر لکھے ہوئے پہلے جملے کو دوبارہ پڑھا اور قلم رکھ دیا۔

مسئلہ یہ نہیں تھا کہ مجھے کہانی کا آغاز نہیں مل رہا تھا۔

مسئلہ یہ تھا کہ میں خود سے یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا مجھے اس کہانی کے آغاز تک جانے کا حق حاصل ہے۔

کربلا کے بارے میں لکھنا محض ایک تاریخی واقعے کو افسانوی صورت میں منتقل کرنا نہیں۔ یہ کسی گزرے ہوئے معرکے، کسی شاہی سازش یا کسی شکست خوردہ بغاوت کی داستان لکھنے جیسا کام بھی نہیں۔ کربلا کروڑوں انسانوں کے لیے صرف تاریخ نہیں۔ وہ عقیدت ہے، سوگ ہے، شناخت ہے، احتجاج ہے، مذہبی حافظہ ہے، اخلاقی استعارہ ہے اور بہت سوں کے لیے اپنے عہد کے ظلم کو پہچاننے کی زبان بھی ہے۔ اس کے ناموں کے ساتھ رشتے جڑے ہیں۔ اس کی پیاس کے ساتھ آنسو جڑے ہیں۔ اس کے شہیدوں کے ساتھ وہ جذبات جڑے ہیں جنہیں صرف ادبی اصطلاحوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایسے میں ایک ادیب کہاں کھڑا ہوتا ہے؟

کیا وہ اس مقدس حافظے کے اندر داخل ہو سکتا ہے؟

اگر داخل ہو سکتا ہے تو کتنی دور تک؟

کیا وہ امام حسین کے کسی ایسے لمحے کو لکھ سکتا ہے جس کا ذکر تاریخی ماخذ میں نہیں ملتا؟ کیا وہ حضرت زینب کی خاموشی کے اندر کوئی جملہ رکھ سکتا ہے؟ کیا وہ حضرت عباس کے پانی کی طرف بڑھتے قدموں کے ساتھ ایسی داخلی کیفیت منسوب کر سکتا ہے جسے کسی روایت نے محفوظ نہیں کیا؟ کیا وہ سکینہ کے خوف، رباب کے انتظار یا مسلم بن عقیل کی کوفہ میں آخری تنہائی کو اپنی طرف سے لفظ دے سکتا ہے؟

اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر فکشن کہاں ہوگا؟

صرف تاریخ کے واقعات کو خوب صورت نثر میں دہرا دینے سے ناول نہیں بنتا۔ واقعات کو تاریخ سے اٹھا کر پیراگرافوں میں رکھ دینا فکشن نہیں۔ فکشن وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تاریخ کی سطر ختم ہو جاتی ہے اور انسان کی سانس شروع ہوتی ہے۔ مگر کربلا کے معاملے میں یہی وہ مقام ہے جہاں ادیب کو سب سے زیادہ محتاط ہونا پڑتا ہے، کیونکہ تاریخ کی خاموشی اسے تخیل کی اجازت بھی دیتی ہے اور فریب کا امکان بھی پیدا کرتی ہے۔
میں نے اس رات پہلا جملہ اس لیے کاٹ دیا تھا کہ اس میں امام حسین کی ایک داخلی کیفیت بیان کی گئی تھی۔ وہ کیفیت میرے لیے اخلاقی طور پر قابل فہم تھی، تاریخی سیاق سے متصادم بھی نہیں تھی، مگر پھر بھی وہ میری ایجاد تھی۔ میں اسے ایک مقدس تاریخی شخصیت کے دل میں رکھ رہا تھا اور ممکن تھا کہ کوئی قاری اسے میرے تخیل کے بجائے تاریخ سمجھ لے۔
میں نے قلم سے جملے پر لکیر کھینچی۔

کاغذ سفید نہیں ہوا۔ کٹے ہوئے الفاظ اس پر موجود رہے، جیسے ادیب کی بے احتیاطی حذف ہو جانے کے بعد بھی اپنا سایہ چھوڑ جاتی ہے۔
اسی لمحے مجھے پہلی بار پوری شدت سے احساس ہوا کہ کربلا پر فکشن لکھنے کا سوال صرف یہ نہیں کہ کیا لکھا جائے۔ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا نہ لکھا جائے۔

میں کربلا تک اس رات نہیں پہنچا تھا۔ اس سفر کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا۔
تقریباً سن دو ہزار میں، میں نے کوفہ کے بارے میں تحقیق شروع کی تھی۔ اس وقت میرے سامنے ناول یا ٹرائیلوجی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ مجھے ایک سوال بے چین کرتا تھا۔ وہ سوال بظاہر سادہ تھا، مگر جتنا اس کے قریب جاتا، اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا:

کیا کوفہ واقعی ایک بے وفا شہر تھا؟

ہماری مذہبی اور عوامی زبان میں کوفہ کا نام اکثر ایک اجتماعی الزام کی صورت میں آتا ہے۔ کوفیوں نے خطوط لکھے۔ کوفیوں نے امام حسین کو بلایا۔ کوفیوں نے مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑا۔ کوفیوں نے امام حسین کے خلاف لشکر میں شرکت کی۔ پھر اسی نتیجے کو ایک محاورے میں بند کر دیا جاتا ہے:
کوفہ نے بلایا اور کوفہ نے قتل کر دیا۔

یہ جملہ اپنے اندر ایک ڈرامائی قوت رکھتا ہے۔ مجلس میں بولا جائے تو فوراً اثر پیدا کرتا ہے۔ مرثیے میں آئے تو عہد شکنی کے المیے کو سمیٹ لیتا ہے۔ سیاسی تقریر میں استعمال ہو تو ہجوم کی بے ثباتی کا استعارہ بن جاتا ہے۔ لیکن تاریخ محاورے کی طرح صاف اور یک رنگ نہیں ہوتی۔

کوفہ کون تھا؟

کیا کوفہ ایک شخص تھا جس نے خط لکھا، پھر تلوار اٹھائی اور کربلا پہنچ گیا؟

کیا خطوط لکھنے والے تمام لوگ عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہوئے؟

کیا مسلم بن عقیل کی بیعت کرنے والوں، عبیداللہ ابن زیاد کے مخبروں، قبائلی سرداروں، سرکاری اہلکاروں، بازار کے تاجروں، موالی، قیدیوں، شیعیان علی، خوارج کے اثرات سے گزرے ہوئے لوگوں، مالی مفاد رکھنے والے اشراف اور خوف زدہ شہریوں کو ایک ہی لفظ ’’کوفی‘‘ میں بند کیا جا سکتا ہے؟
کیا وہ لوگ جو امام حسین کی نصرت کرنا چاہتے تھے مگر گرفتار کر لیے گئے، وہ بھی اسی اجتماعی غداری میں شامل تھے؟

کیا وہ جو کوفہ سے نکلنے کی کوشش میں راستوں پر پکڑے گئے، ان کا شمار بھی قاتلوں میں ہوگا؟

کیا وہ جو گھروں میں بند رہے، صرف خوف زدہ تھے یا شریک جرم؟
اور کیا خوف خود ایک تاریخی عامل نہیں؟

مجھے جلد معلوم ہو گیا کہ کوفہ کو گالی دینا آسان ہے، سمجھنا مشکل۔
وہ ایک نیا شہر تھا مگر اس کے اندر کئی پرانی دنیائیں آباد تھیں۔ قبائلی تقسیم، فوجی چھاؤنی کی تاریخ، فتوحات سے پیدا ہونے والی دولت، عرب اور غیر عرب آبادی کے درمیان فرق، خلافت علی کے زمانے کی سیاسی یادداشت، جنگ جمل، صفین، نہروان، زیاد ابن ابیہ کا انتظامی جبر، قبائلی سرداروں کی خرید و فروخت اور شام کی مرکزی طاقت سے تعلق، یہ سب کوفہ کے اندر ایک ساتھ موجود تھے۔

میں نے جب عبیداللہ ابن زیاد کے کوفہ میں داخلے، اس کی دھمکیوں، قبائلی سرداروں کے استعمال، جاسوسی کے نظام، گرفتاریوں، راستوں کی ناکہ بندی اور افواہوں کے پھیلاؤ کو پڑھا تو مسلم بن عقیل کے گرد جمع ہجوم کا منتشر ہونا مجھے محض اخلاقی کمزوری کا نتیجہ نہیں لگا۔ یہ ایک منظم ریاستی کارروائی تھی، جس نے ہر شخص کو اس کے قبیلے، گھر، روزگار، خاندان اور خوف کے ذریعے الگ الگ توڑا۔

اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کوفہ بے قصور تھا۔

یہ کہنا بھی اتنا ہی غیر تاریخی ہوتا۔

کوفہ میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے خطوط لکھے، وعدے کیے اور پھر پیچھے ہٹ گئے۔ ایسے سردار موجود تھے جنہوں نے اپنے قبیلوں کو دھمکی اور لالچ سے منتشر کیا۔ مخبر موجود تھے۔ ابن زیاد کے معاون موجود تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہوئے۔ کچھ نے تلوار اٹھائی، کچھ نے راستہ روکا، کچھ نے پانی پر پہرا دیا اور کچھ نے یہ سب دیکھ کر اپنی جان و مال کی حفاظت کو ترجیح دی۔

مگر جرم کو سمجھنے کے لیے اسے اجتماعی گالی میں بدل دینا کافی نہیں ہوتا۔

اگر ہم سب کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیں تو قاتل، خاموش تماشائی، خوف زدہ شہری، گرفتار مزاحمت کار اور شہید سب ایک ہی لفظ میں گم ہو جاتے ہیں۔ پھر تاریخ ہمیں کچھ نہیں سکھاتی، صرف ایک آسان دشمن فراہم کرتی ہے۔

سن دو ہزار کے قریب شروع ہونے والی میری یہ تحقیق برسوں تک مختلف وقفوں سے چلتی رہی۔ کبھی میں کسی تاریخی کتاب میں کوفہ کے قبائلی ڈھانچے پر رک جاتا، کبھی مسلم بن عقیل کی آمد اور قیام کے مختلف بیانات کا تقابل کرتا، کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتا کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد کے مختلف اعداد کیوں ملتے ہیں۔ کہیں تعداد ہزاروں میں تھی، کہیں اس سے کم یا زیادہ۔ بعض روایتوں میں واقعات کی ترتیب مختلف تھی۔ بعض کردار ایک متن میں نمایاں تھے اور دوسرے میں غائب۔

یہیں مجھے ماخذ کا پہلا بڑا مسئلہ درپیش ہوا۔

ہم کربلا کو ایک مکمل، مسلسل اور قطعی داستان کی صورت میں سنتے آئے ہیں۔ مجلس، مرثیہ اور مقتل اسے ابتدا، عروج اور انجام کے ساتھ ایک مربوط تجربہ بنا دیتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص ابتدائی تاریخی ماخذوں کی طرف جاتا ہے تو اسے ایک مکمل فلم نہیں ملتی۔ اسے ٹکڑے ملتے ہیں۔ مختلف راوی، مختلف اسناد، مختلف ترتیبیں، مختلف سیاسی رجحانات اور بعد کے مؤلفین کی انتخابی ترجیحات ملتی ہیں۔

ابو مخنف کی اصل کتاب اپنی مکمل صورت میں ہمارے پاس موجود نہیں۔ اس کی روایتیں بعد کے مؤرخین، خصوصاً طبری کے ہاں محفوظ ہوئی ہیں۔

طبری خود واقعات کے تمام بیانات کی تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتے، وہ روایتیں نقل کرتے ہیں۔

بلاذری کا زاویہ اور انتخاب الگ ہے۔

دینوری بعض جگہ مختلف تفصیل دیتے ہیں۔

اعثم کوفی سمیت دیگر مورخین ہوں ان کے ہاں بھی بنیادی ماحذ “طبری ” ہے ۔

شیعی عالم شیخ مفید کی الارشاد ایک دوسرے مذہبی اور زمانی سیاق میں مرتب ہوئی۔

بعد کے مقاتل میں ایسے واقعات بھی داخل ہوئے جو عوامی حافظے اور مجالس میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، مگر ابتدائی مآخذ میں ان کی صورت مختلف یا غیر موجود ہے۔

میر اپنا ابتدائی حافظہ ان معاملات پر سنّی علماء کی لکھی کتب تاریخ اور تذکرہ واقعہ کربلا پر مبنی مولانا شفیع اوکاڑوی ، علامہ سعید احمد کاظمی ، علامہ شبیر حسین حافظ آبادی وغیرہ کی تقاریر سے تشکیل پایا تھا۔

میں نے بعد ازاں اس موضوع پر مصری، لبنانی ، شامی مورخین ، ادیب ، مشاہیر کی لکھی کتابیں بھی پڑھیں ۔

اس موضوع پر سنّی اور شیعہ کی عام تاریخی روایت سے ہٹ کر لکھی جانے والی تحریریں جن میں امین مصری ، علامہ تمنا عمادی ، مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی ، محمود عباسی اور مولانا طاسین کی کتب شامل ہیں کو بھی پڑھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

تو پھر ادیب کس متن کو تاریخ سمجھے؟

اور کس متن کو روایت؟

یہاں میں نے رفتہ رفتہ یہ فرق سیکھا :

تاریخی سچائی اور ثقافتی یا جذباتی سچائی ہمیشہ ایک چیز نہیں ہوتیں۔

کوئی روایت ممکن ہے ابتدائی تاریخی شہادت سے پوری طرح ثابت نہ ہو، مگر وہ صدیوں سے سوگ کی اجتماعی زبان میں زندہ ہو۔ اس نے لوگوں کے کربلا کو محسوس کرنے کے طریقے کو تشکیل دیا ہو۔ وہ مجلس، مرثیے، نوحے، تعزیے اور گھریلو روایتوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوئی ہو۔ اسے محض اس لیے بے معنی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ طبری کے متن میں اسی صورت سے موجود نہیں۔ لیکن اسے قطعی تاریخی واقعہ کہہ کر فکشن میں داخل کرنا بھی دیانت کے خلاف ہو سکتا ہے۔

مجھے اس فرق کے ساتھ لکھنا تھا۔

میں چاہتا تھا کہ ناول یا کہانی میں مختلف حافظے ایک دوسرے کے مقابل موجود رہیں۔ ایک بوڑھی عورت کسی واقعے کو اس طرح یاد کرے جیسے اس نے مجلس میں سنا تھا۔ ایک محقق اس روایت کے ماخذ پر سوال اٹھائے۔ ایک مرثیہ نگار اسی واقعے میں وہ شعری سچائی دیکھے جو خشک تاریخ نہیں دے سکتی۔ اس طرح فکشن فیصلہ سنانے کے بجائے روایتوں کے درمیان جگہ پیدا کر سکتا تھا۔

یہ خیال بعد میں میرے ناولی منصوبے کی بنیادوں میں شامل ہوا، لیکن اس وقت میں ابھی ناول لکھنے نہیں بیٹھا تھا۔ میں صرف کوفہ کے اس داغ کا تعاقب کر رہا تھا جو صدیوں کی زبان نے اس شہر کے ماتھے پر لگا دیا تھا۔
پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب مجھے احساس ہوا کہ کربلا کو صرف کوفہ سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

اگر واقعہ دس محرم اکسٹھ ہجری کی صبح شروع نہیں ہوتا تو پھر کہاں سے شروع ہوتا ہے؟

معاویہ ابن ابی سفیان کی وفات سے؟

یزید کی ولی عہدی کے فیصلے سے؟

اس سے بھی پہلے، جب خلافت کی سیاسی ساخت آہستہ آہستہ موروثی اقتدار میں بدل رہی تھی؟

مدینہ میں بیعت کے مطالبے سے؟

یا اس لمحے سے جب امام حسین نے یہ طے کیا کہ وہ ایسے اقتدار کو اپنی رضامندی کی مہر نہیں دیں گے؟

ہر آغاز کے پیچھے ایک اور آغاز تھا۔

میں نے مدینہ کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں صرف ایک سیاسی انکار نہیں، گھر چھوڑنے کا المیہ بھی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے نانا کا شہر مدینہ ہو، جس کے خاندان کی یادیں، قبریں، رشتے اور زندگی اس شہر سے بندھے ہوں، اس کا رات کے وقت اہل خانہ سمیت روانہ ہونا صرف سیاسی فیصلہ نہیں رہتا۔ لیکن تاریخ ہمیں سفر کی خبر دیتی ہے، گھر کے اندر کی آخری ساعتیں نہیں۔

کس نے سامان باندھا؟

بچوں نے کیا پوچھا؟

کیا کسی نے سوچا کہ وہ چند ہفتوں بعد واپس آ جائیں گے؟

کیا کسی گھر کی چیز کو آخری بار چھوا گیا؟

کیا کسی نے مڑ کر دیکھا؟

یہ وہ سوال تھے جہاں فکشن مجھے اپنی طرف بلاتا تھا۔

مگر یہی وہ مقام تھا جہاں میرے اندر خوف بھی پیدا ہوتا تھا۔

میں امام حسین کے بارے میں اپنی طرف سے کیا لکھ سکتا ہوں؟ میں یہ تو لکھ سکتا تھا کہ انہوں نے بیعت سے انکار کیا، مدینہ سے روانہ ہوئے، مکہ پہنچے اور وہاں قیام کیا۔ یہ تاریخی واقعات تھے۔ لیکن کیا میں یہ لکھ سکتا تھا کہ مدینہ چھوڑتے وقت انہوں نے فلاں دیوار کی طرف دیکھا؟ کیا میں کسی بچے کے سوال کے جواب میں ان سے کوئی جملہ کہلوا سکتا تھا؟ کیا میں ان کے دل میں یہ خیال رکھ سکتا تھا کہ واپسی ممکن نہیں؟

ممکن ہے یہ سب انسانی طور پر قابل تصور ہو۔

مگر قابل تصور ہونا تاریخی طور پر ثابت ہونا نہیں۔

میں نے اسی دوران اپنے لیے ایک اصول قائم کرنا شروع کیا۔ مقدس تاریخی شخصیات کے قریب جاتے ہوئے میں اپنے تخیل کو ان کے باطن پر حاکم نہیں بناؤں گا۔ میں ان کے معروف فیصلوں، معتبر اقوال، اعمال، خاموشیوں اور دوسروں پر پڑنے والے اثرات سے انہیں سامنے لانے کی کوشش کروں گا۔ جہاں تاریخ خاموش ہو، وہاں میں ان کے اندر داخل ہونے کے بجائے ان کے گرد موجود دنیا میں فرضی کردار پیدا کروں گا۔

ایک پانی بھرنے والا شخص۔

ایک کپڑا فروخت کرنے والی عورت۔

ایک کاتب جو کوفہ سے بھیجے جانے والے خطوط نقل کرتا ہے۔

ایک بوڑھی ماں جو اپنے بیٹے کو باہر جانے سے روکتی ہے۔

ایک کم عمر خادم جو قافلے کے مشکیزے گنتا ہے۔

ایک معمولی سرکاری اہلکار جو ابن زیاد کے دفتر میں ناموں کی فہرست تیار کرتا ہے۔

ایک سپاہی جو حکم ماننے اور اپنے ضمیر کے درمیان کھڑا ہے۔

ان کرداروں کی تاریخی کتابوں میں کوئی موجودگی نہ ہوتی، مگر ان کے ذریعے میں اس دنیا کی ہوا، خوف، روزمرہ زندگی اور اخلاقی انتخاب کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ امام حسین یا حضرت زینب کی جگہ نہیں لیتے۔ وہ اس معاشرے کی نمائندگی کرتے جس کے درمیان یہ واقعہ رونما ہوا۔

یہ طریقہ مجھے نسبتاً محفوظ بھی محسوس ہوا اور زیادہ تخلیقی بھی۔
تاریخ اکثر بڑے نام محفوظ کرتی ہے، مگر واقعات صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتے۔ ایک سلطنت کو صرف خلیفہ نہیں چلاتا۔ اس کے احکام کو کاتب لکھتا ہے، قاصد پہنچاتا ہے، گورنر نافذ کرتا ہے، قبائلی سردار اپنے لوگوں تک منتقل کرتا ہے، سپاہی راستہ روکتا ہے، پہرے دار پانی بند کرتا ہے، مخبر نام بتاتا ہے اور پڑوسی دروازہ بند کر لیتا ہے۔

اسی طرح مزاحمت بھی صرف ایک مرکزی شخصیت کا فعل نہیں۔ کوئی خط لے کر جاتا ہے۔ کوئی پناہ دیتا ہے۔ کوئی گرفتاری کے خطرے میں خبر پہنچاتا ہے۔ کوئی پانی تقسیم کرتا ہے۔ کوئی شہیدوں کے نام یاد رکھتا ہے۔ کوئی قیدی قافلے کو دیکھ کر پہلی بار سرکاری بیانیے پر شک کرتا ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ کربلا کی عظمت کو سمجھنے کے لیے صرف میدان میں موجود شہیدوں کو نہیں، اس پورے انسانی منظرنامے کو لکھنا ہوگا جس میں وفاداری، خوف، اطاعت، بزدلی، مفاد، ندامت اور گواہی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔

لیکن تب بھی میرے سامنے ایک کہانی کا خیال نہیں آیا تھا۔
خیال اس وقت آیا جب ماضی کے یہ سوال عصر حاضر کے بعض مناظر کے ساتھ میرے ذہن میں ملنے لگے۔

میں نے صحافت اور انسانی حقوق کے معاملات میں بارہا ایسے خاندان دیکھے تھے جن کے افراد لاپتا تھے۔ مائیں تصویریں اٹھائے بیٹھی تھیں۔ بہنیں عدالتوں اور پریس کلبوں کے چکر لگا رہی تھیں۔ سرکاری ادارے کہتے تھے ہمارے پاس نہیں۔ پولیس کہتی تھی مقدمہ درج ہے، پیش رفت نہیں۔ کوئی لاش ملتی تو شناخت مشکوک رہتی۔ کوئی کپڑا، جوتا، شناختی کارڈ یا جسم کا نشان خاندان کو امید اور خوف کے درمیان معلق کر دیتا۔

میں محاصروں، راستوں کی بندش، خوراک اور دوا کی کمی، فرقہ وارانہ قتل اور ایسے علاقوں کی خبریں بھی دیکھتا رہا جہاں پانی کا سوال صرف روزمرہ ضرورت نہیں رہتا بلکہ اقتدار کا ہتھیار بن جاتا ہے۔

یہاں ایک خطرہ فوراً سامنے آیا۔

کیا ہر ظلم کو کربلا کہا جا سکتا ہے؟

ہمارے سیاسی اور مذہبی خطابات میں یہ رجحان بہت عام ہے۔ کسی احتجاج پر تشدد ہوا، نئی کربلا۔ کسی رہنما کو قتل کیا گیا، نیا حسین۔ کسی حکومت نے جبر کیا، یزیدی نظام۔ اس زبان میں فوری جذباتی قوت ہوتی ہے، مگر یہ قوت کئی بار دونوں واقعات سے ناانصافی کرتی ہے۔

کربلا اپنی مخصوص تاریخی، مذہبی اور سیاسی حقیقت رکھتی ہے۔ اسے ہر موجودہ واقعے کا تیار شدہ استعارہ بنا دینے سے اس کی انفرادیت مٹ جاتی ہے۔ دوسری طرف عصر حاضر کے کسی المیے کو کربلا کی نقل کہہ دینے سے اس واقعے کی اپنی تاریخ، جغرافیہ، طبقاتی ساخت، قومی سوال اور سیاسی پیچیدگی غائب ہو سکتی ہے۔

میں ماضی اور حال کو مساوی نشان کے دونوں طرف نہیں رکھنا چاہتا تھا۔
میں یہ نہیں لکھنا چاہتا تھا:

کربلا میں پانی بند ہوا تھا، آج بھی پانی بند ہو رہا ہے، لہٰذا دونوں واقعات ایک ہیں۔

میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ پانی روکنا مختلف زمانوں اور مختلف سیاسی حالات میں انسانی اختیار، تحقیر اور سزا کا ایک سوال کیسے بنتا ہے۔

میں یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ ہر لاپتا شخص امام حسین کا ساتھی ہے۔
میں یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ جب ریاست کسی انسان کو نام، مقدمے اور جسم سمیت غائب کر دے تو اس کے خاندان پر گواہی کی کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

میں ہر موجودہ ماں کو حضرت زینب کا سادہ عکس نہیں بنانا چاہتا تھا۔
میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ جنگ، قتل یا گرفتاری کے بعد واقعے کے معنی کو محفوظ کرنے کا کام اکثر عورتیں کیوں سنبھالتی ہیں۔
میرے ذہن میں پہلی بار ایک ایسی کہانی کا نقشہ بنا جس میں دو زمانے ساتھ چلیں۔

ایک زمانہ مدینہ سے شروع ہو۔ امام حسین بیعت سے انکار کے بعد اہل خانہ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوں۔ مکہ میں کوفہ کے خطوط آئیں۔ مسلم بن عقیل جائیں۔ کوفہ کی فضا امید سے خوف میں بدلے۔ پھر مکہ سے قافلہ نکلے، راستے میں خبریں آئیں، حر کا لشکر ملے، کربلا میں قیام ہو، پانی بند ہو، شب عاشور آئے اور پھر وہ صبح جس کے بعد تاریخ پہلے جیسی نہیں رہی۔
دوسرا زمانہ ہمارا ہو۔

کسی لاپتا شخص کی بہن یا بیٹی ایک سرکاری ریکارڈ روم میں اس کی آواز، تصویر یا نام تلاش کر رہی ہو۔ اس کے سامنے نامعلوم قبروں کی فہرستیں ہوں۔ ضبط شدہ سامان ہو۔ کپڑے ہوں۔ ریکارڈر ہو۔ سرکاری زبان ہو جو انسانوں کو نمبروں میں بدل دیتی ہے۔ باہر محرم کا جلوس گزر رہا ہو اور اندر ریکارڈ تلف کرنے کی تیاری ہو رہی ہو۔

مجھے معلوم نہیں کہ پہلے پانی آیا یا ریکارڈر۔

شاید پہلے صرف ایک آواز تھی۔

ایک خراب ریکارڈر میں کوئی شخص پانی مانگ رہا تھا۔

میں نے اس آواز کو سنا تو میرے سامنے کربلا کا خالی مشکیزہ نہیں آیا۔ پہلے ایک جدید تفتیشی کمرہ آیا۔ پھر خیال ہوا کہ پانی کی طلب مختلف زمانوں میں ایک جیسی جسمانی ضرورت ہے، مگر اس کے گرد قائم اقتدار مختلف ہے۔ ایک جگہ پانی پر فوجی پہرا ہے۔ دوسری جگہ حراست میں موجود آدمی کو پانی دینے یا نہ دینے کا اختیار کسی معمولی اہلکار کے ہاتھ میں ہے۔
پھر نام کا استعارہ آیا۔

کربلا کے شہیدوں کے نام صدیوں سے لیے جا رہے ہیں۔ ان کے نام مجالس، مراثی، تاریخ اور اجتماعی حافظے میں محفوظ ہیں۔ دوسری طرف عصر حاضر کے کتنے لوگ نامعلوم لاش، لاپتا شخص، مشتبہ فرد، زیر حراست ملزم یا نمبر بن جاتے ہیں۔

میں نے سوچا، اگر کہانی میں ایک عورت سرکاری فہرست سے نام بلند آواز میں پڑھنا شروع کر دے اور باہر جلوس میں تاریخی شہیدوں کے نام لیے جا رہے ہوں، تو دونوں آوازیں ایک دوسرے کی نقل نہیں بلکہ گواہی کی دو مختلف صورتیں بن سکتی ہیں۔

یہیں سے کہانی نے مجھے پہلی بار اپنا نام سنایا۔

نام، پانی، دروازہ، ریکارڈر اور انتظار۔

میں نے ابتدا میں سوچا تھا کہ اسے ایک طویل افسانے کے اندر مکمل کر لوں گا۔ مدینہ سے کربلا تک تاریخی سفر اور ایک جدید رات کے واقعات کو ساتھ چلاؤں گا۔ ایک طرف قافلہ منزلوں سے گزرے گا، دوسری طرف عورت سرکاری الماریوں اور فائلوں میں آگے بڑھے گی۔ دونوں دھارے عاشور کی صبح پر مل جائیں گے۔

نقشہ بظاہر مکمل تھا۔

لیکن جیسے ہی میں نے لکھنا شروع کیا، پہلی مشکل سامنے آ گئی۔
مدینہ ایک تمہیدی منظر بننے پر آمادہ نہیں تھا۔

(جاری ہے )

اپنا تبصرہ لکھیں