ایک غلط فہمی دور کر لیں وہ یہ کہ پروٹوکول کی بیماری صرف حکمرانوں اور افسر شاہی ہے۔ یہ بیماری ہر پاکستانی کو لاحق ہے ۔ اس کا عملی مظاہرہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں ۔ بینکوں میں لائن بننانے کی بجائے ہم کوئی “ریفرنس ” ڈھونڈتے ہیں کہ ہماری باری جلد آ جائے ۔ بجلی کے بل ادا کرنے کے لئے بھی لائن میں کھڑا ہونا اپنی توہین محسوس کرتے ہیں ۔
ہسپتالوں میں Opd میں پرچی بنانے کی لائن بنانا بھی ہمیں اچھا نہیں لگتا،وہاں ” پروٹوکول ” لینے کے لئے ہسپتال کے عملہ کو پیسے دیکر جلدی کام کروانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں ۔پروٹوکول حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف لوگ ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں ۔
ایک صاحب کی کال آئی، کہنے لگے ڈاکٹر صاحب ہم پسیانوالہ سے نکل پڑے ہیں ،الائیڈ ہسپتال میں اپنے کسی جاننے والے سے کہہ دیں کہ ایک بیڈ خالی رکھیں، ہم مریض کو لا رہے ہیں، اور پروٹوکول بھی دلوا دیں، میں نے جل کر جواب دیا، اگر آپ کہتے ہیں کہ ventilator بھی رکھ لوں؟ ہنس کر جواب دیا نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ۔
ایسی ٹاپک پر گفتگو چل رہی تھی کہ ایک ڈاکٹر صاحب بولے! یار شافع، یہ جو لوگ پروٹوکول کے خلاف بولتے ہیں، اگر انکو کل اتھارٹی مل جائے تو یہی لوگ یہی پروٹوکول فل دھوم دھام سے لیں گے اور درحقیقت ایسا ہی ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں عوام نے ” پروٹوکول ” حاصل کرنے کے لئے نت نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں ۔ او پی ڈی کی پرچی بنانے کے لئے لائن میں لگنے کی بجائے کسی ہسپتال کے ملازم کو ” چائے پانی ” دیا جاتا ہے۔ سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کا ٹائم جلدی لینے کے لئے “ریفرنس ” ڈھونڈ کر انہیں خوش کیا جاتا ہے۔ سیکورٹی گارڈز بلخصوص کسی وارڈ کی آپا،انکا طریقہ واردات سنیے ۔ لائن میں کھڑے “شکار” کو ڈھونڈتی ہیں ۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ انکا کام پہلے اور ” پروٹوکول ” کیساتھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ انہیں کچھ ” خرچہ پانی ” دیا جائے ۔ مریضوں سے پیسے۔لیکر، ڈاکٹرز کے سامنے کہانی ڈالی جاتی ہے کہ میرا گاؤں سے دور کا فلاں رشتہ دار آیا ہے، اسکا کام آج ہی کر دیں، سب کے سامنے منتیں کی جاتی ہیں تاکہ ڈاکٹر مجبور ہو کر انکار ہی نا کر سکے اور مریضوں کو یوں “پروٹوکول” ڈلوایا جاتا ہے اور یہ ہر سرکاری ہسپتال کی رام کہانی ہے۔
کچھ چیزیں ہم میں رچ بس گئی ہیں اور ان میں پروٹوکول کی بیماری بھی شامل ہے۔ مسئلہ پروٹوکول نہیں، مسئلہ ان مسائل کا ہے،جو اس پروٹوکول کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ جیسے کوئی صاحب بہادر کا گزر کسی شاہراہ سے ہو اور اسکے لیے جو روٹ لگتا ہے،نتیجے میں جو کوفت عوام الناس کو اٹھانی پڑتی ہے،ہمیں اس سے مسئلہ ہے۔ بلکل ایسے ہی لیٹ سے آیا مریض،اگر کسی ہسپتال کے ملازم کو ” سو پچاس دیکر ” پروٹوکول لیکر پہلے پرچی بنوا کر چیک کروا اور دوائی لے لیتا ہے تو اس بیچارے کا کیا قصور جو لائن میں صبح سے کھڑا ہے؟
خود پروٹوکول حاصل کرنے کے لئے ہر زریعہ استعمال کرنے والی عوام حکمرانوں اور اشرفیہ کے پروٹوکول لینے پر ناک چڑھاتی ہے اور یہی وہ اصل منافقت ہے،جسکا شکار ہماری پوری قوم بن چکی ہے۔
ہماری قومی نفسیات یہ بن چکی ہے کہ ہمیں ہر جگہ خصوصی پروٹوکول ملنا چاہیئے،ہاں کسی اور کو ہم سے زیادہ پروٹوکول ملے کہ ہمارے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔


