عزم، حوصلے اور روشنی کی ایک درخشاں مثال-ڈاکٹر انیتا ولسن/ پروفیسر عامر زریں

ہم اکثر زندگی کو اُن آنکھوں سے دیکھتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں، مگر کبھی اُن لوگوں کے بارے میں نہیں سوچتے جو بغیر دیکھے دُنیا کو سمجھنے اور جینے کا ہنر رکھتے ہیں۔ یہ تحریر ایک ایسی ہی غیر معمولی شخصیت، ڈاکٹر انیتا ولسن کو ایک خراجِ تحسین ہے، جن کی زندگی عزم، حوصلے اور روشنی کی ایک درخشاں مثال ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر انیتا ولسن پیدائشی طور پر نابینا ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس محرومی کو کبھی اپنی پہچان نہیں بننے دیا۔ ان کے نزدیک ہر مشکل ایک نیا راستہ کھولتی ہے، ہر رکاوٹ ایک نئے سبق کا دروازہ ہوتی ہے۔ یہی سوچ انہیں عام لوگوں سے ممتاز بناتی ہے۔

ان کی تعلیمی زندگی کا آغاز آئیڈا ریؤ اسکول سے ہوا، جہاں انہوں نے بریل سیکھا اور میٹرک مکمل کیا۔ اس کے بعد سینٹ جوزف کالج سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں انہوں نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو محسوس کیا اور اسکرین ریڈر سافٹ ویئر کے ذریعے کمپیوٹر کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ قدم بظاہر چھوٹا تھا، مگر ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

سیاسیات کے شعبے میں ماسٹرز کرنے کے بعد بھی ان کا سفر نہیں رکا۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک ایسا فیصلہ جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک پیغام تھا کہ معذوری کسی انسان کی صلاحیتوں کو محدود نہیں کر سکتی۔ مشکلات، رکاوٹیں اور معاشرتی رویے سب ان کے راستے میں آئے، مگر ان کے عزم کے سامنے سب ہیچ ثابت ہوئے۔

ان کا تحقیقی موضوع ”پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی سماجی و سیاسی حیثیت (1973 تا 2016)“نہ صرف علمی اہمیت رکھتا ہے بلکہ ایک حساس اور اہم قومی مسئلے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہ انتخاب خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر انیتا صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنے علم کو ایک بڑے سماجی تناظر سے جوڑا۔

آج وہ آئیڈا ریؤ کالج میں بطور لیکچرر خدمات سر انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ حوصلہ بھی دے رہی ہیں۔ ان کے چار تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں اور وہ مسلسل علمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹر انیتا ولسن کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل اندھیرا آنکھوں کا نہیں بلکہ سوچ کا ہوتا ہے۔ اگر ارادے روشن ہوں تو راستے خود روشن ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ خواب وہی پورے ہوتے ہیں جنہیں ہمت اور یقین کے ساتھ دیکھا جائے۔

ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں۔جو ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ روشنی ہمیشہ باہر نہیں، اکثر اندر پیدا کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں