ایک ایسا بیانیہ بناؤ، پھر وہی بیچو جو عوام سننا چاہتی ہے۔ کہانی کے تسلسل کو اپنی مرضی سے جوڑو، سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹا دو، کسی کے کردار پر بات کرنی ہو یا کسی کو اپنے مطابق ڈھالنا ہو، بس جو دل میں آئے کہہ دو۔ چونکہ بھیڑ سوچتی نہیں، صرف سنتی ہے، اس لیے اس تماشے میں ہر کوئی وقت سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے سب نے اپنی گھڑیاں پھوڑ دی ہوں اور تحمل سے جینا بھول گئے ہوں۔
مگر اس افراتفری کے درمیان، خیال کو سنبھالنا بھی ایک ہنر ہے، جس پر عبور حاصل کرنا آسان نہیں۔ شاعری بھی ذہن میں بے رمز سی اترتی ہے اور نہ جانے کہاں سے کہاں کی راہ پکڑ لیتی ہے۔ یہ دل شکستہ ضرور ہے مگر ہارا نہیں، اور میرا وجد اس شہر کا تماشہ بننے کے لیے نہیں ہے۔ تبھی تو دل پکار اٹھتا ہے:
یہ دل ہے شکستہ مگر ہارا تو نہیں ہے
میرا وجد اس شہر کا تماشہ تو نہیں ہے
اتنا بھی گرویدہ کیا ہونا کسی کا
کچھ ہونا کسی کا، ہمارا اثاثہ تو نہیں ہے
ایسے کیوں اوتاولے ہو تم میاں
تحمل میں جینا، کیا ضروری نہیں ہے؟
اس بے ہنگم ماحول میں مجھے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کی ایک بات یاد آئی، جو وہ اکثر اپنے بھارت کے دورے کے حوالے سے سناتی ہیں۔ زبان کی شائستگی اور تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ایک دکان دار سے بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے جب انہوں نے تین روپے کی چیز دو روپے میں مانگی، تو اس دکان دار نے انکار بھی اتنے دلنشین انداز میں کیا کہ یاد رہ گیا۔ اس کے الفاظ تھے: “اڑھائی والے ارمان لے کر چلے گئے”۔
زبان ایسی ہونی چاہیے جو تہذیب کی عکاسی کرے، جہاں اختلاف بھی ہو تو سننے والے کے کانوں پر گراں نہ گزرے۔ مگر ہمارے ہاں اب نہ روایت کی پاسداری رہی اور نہ زبان کا پاس۔
ایسے میں، انسان کم از کم اپنی محفل چننے کا اہل تو ہو۔ جو نشیمن ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اسے اپنے مطابق سنوارنے کا حق تو ہونا چاہیے۔ اگر محفل ایسی ہو جہاں دل نہ لگے، جہاں لوگ آپ کی شخصیت کے مسلسل نقاد بن کر، آپ کی تذلیل سے اپنی انا کو تسکین دیتے ہوں، اور جانتے بوجھتے ہوئے آپ کے دکھتے دل کو چھیڑتے ہوں—تو وہ دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو اختلاف کی گرہ باندھ کر صرف صحیح اور غلط کا سبق پڑھانے آئیں، وہ مخلص کیسے ہو سکتے ہیں؟
میرے نزدیک دوستی دلائل، نصیحتوں اور بعض اوقات اصولوں سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ دوستی کا مقصد بحث جیتنا نہیں، بلکہ امید کا سہارا بننا ہے۔ زندگی میں امید کو زندہ رکھنا ایک بہت بڑی جنگ ہے، اور انسان وہاں کمزور پڑ جاتا ہے جہاں اس کے دوست ایک لمحہ مسیحا بنتے ہیں اور دوسرے ہی لمحے اس کا تماشہ دیکھنے لگتے ہیں۔
ایسی محفل اور ایسی محبت سے کہیں بہتر تنہائی ہے۔ وہ تنہائی جس میں کوئی اچھی کتاب پڑھ لی جائے، کوئی نیا ہنر سیکھا جائے، بچوں کے ساتھ کھیل کر مسکراہٹیں بانٹی جائیں، یا پھر اپنی ذات کے اندر جھانک کر ‘خود شناسی’ پر کام کیا جائے۔ یہ راستہ آسان نہیں ہے، مگر اپنے مقصد پر ذہنی ارتکاز (Focus) کے لیے ضروری ہے۔ آپ کے دل میں جو بھی جائز، قانونی اور کارآمد شوق پل رہا ہے، اسے اپنے خونِ جگر سے سینچنا سیکھیں اور اسی سے جڑے رہیں۔ الجھی کہانیاں بے سبب نہیں ہوتیں، بس ہمت نہ ہارنے کا نام ہی زندگی ہے۔


