طاقت کا سر چشمہ صرف ذات خدا/محمد کوکب جمیل ہاشمی

راقم دوبارہ یا سہ بارہ کھڑکیوں کا تذکرہ کر رہا ہے۔ آج کے مضمون میں ان کا ذکر کیوں کر رہا ہے؟ اس لئے کہ اس کی موجودگی ہر گھر کی راحت ہوتی ہے۔ یہ کھلی ہوں یا بند گھر والوں کو کھلتی نہیں۔ بلکہ بند کمروں میں کھلی ہوں تو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچاتی ہیں۔ گرمیوں کی تپیدہ شاموں سے دل برداشتہ، علی الصبح بیدار ہونے والوں کے لئے کھلی کھڑکیاں خمیرا مروارید اور خمیرا گاؤ زبان کی تقویت دہ خوراک کی مانند ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ ہم ایسے بوڑھوں کے قلب اور تن من کو سحر انگیز ٹھنڈی اور تازہ ہوا کے لطیف جھونکوں سے تر و تازہ کردیتی ہے۔ کھڑکیوں کے قریب کوئی چمن ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ خوشبو دار پھولوں کی بھینی بھینی مہک ہر سانس کو یوں معطر کر دیتی ہے کہ دردوں کی شکائت کرتے مردوں کو بنا دوا کے احساس ہونے لگتا ہے کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔
اتفاق سے کھڑکیاں آپ کے بستر استراحت کے ساتھ ہوں اور باہر کا منظر، اچک اچک کر دیکھے بغیر، نگاہوں کے آگے موجود ہو تو تاک جھانک کا الزام نہیں لگتا اور منظر کی دل کشی بھی آنکھوں سے سرائیت کرکے دل کی خوبصورت سرائے میں ٹہر جاتی ہے۔ اس معاملے میں ہم خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ہم نے جہاں کہیں بھی نقل مکانی کی، نئے گھر کی قریبی کھڑکی نے اس طرح ہمارا پرجوش استقبال کیا کہ جیسے انہون نے اندر آنے والی باد صبا کو، ہماری مہمان داری اور خدمت گزاری پر مختص و مامور کر دیا ہو، اور ہمارے دل کو صباحت سے معمور کر دیا ہو۔ ہر صبح جوں ہی ہم مٹی کی ایک تھالی میں روٹی توڑ کر کھڑکی سے باہر کی منڈیر پہ رکھتے ہیں تو جہاں چڑیوں کا خوشی سے چہچہانا ہمیں بھلا لگتا ہے، وہاں یہ دیکھ کر بچوں کے تاۓ ابو کو تاؤ آجاتا ہے، کیونکہ اچانک میناوں کا ایک غول تھالی کو گھیر کر سب چڑیوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے اور چڑیاں دور بیٹھ کر، اپنی کمزوری و ناتوانی پر آنسو بہا کر اداس احساس کے ساتھ پھر سے اڑ جاتی ہیں۔ وہ اپنے سے ذیادہ طاقت ور پرندوں کا سامنا نہیں کر پاتیں۔ وہ خود کو’ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ‘ سمجھ کر ہار مان لیتی ہیں۔ مینائیں بھی جب تھالی کو خالی کرنے کے ارادے سے چونچیں بھر بھر مارے خوشی کے, پروں کو پھڑ پھڑا رہی ہوتی ہیں, تو کایاں کوے نیچے اتر آتے ہیں اور خود بچے ہوۓ چھوٹے موٹے غذائی ذرات پہ ٹھونگیں مارنا شروع کردیتے ہیں۔ تب مینائیں سہم کر اڑ جاتی ہیں۔ کوے میناؤں سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں، اس لئے وہ میناؤں کے ہجوم کو منتشر کر کے اچھل اچھل کر اپنی فتح پر کائیں کائیں کے گیت گانے لگ جاتے ہیں۔ جنگل میں شیر کو جنگل کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ مجال ہے کوئی پرندہ یا درندہ اس کی طاقتور سلطنت میں بلا اجازت داخل ہو جاۓ۔
طاقت پرندوں، حیوانوں یا انسانوں کے پاس ہو تو اکثر کمزوروں کو دباتی ہے۔ ان کا حق چھینتی ہے۔ انسان کا بھی اپنی طاقت کا اظہار کرنے اور زیر دست کو زبر دستی دبانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ کوچوان کو دیکھ لیں، وہ تانگے میں جتے گھوڑے پر، راستے کی چڑھائی آنے کی وجہ سے گھوڑے کی سست روی دیکھ کر ہنٹر گھما کر ایسی چڑھائی کرتا ہے کہ سواریوں کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ وہ سست روی کی سزا دینے کے لئے اس پر بے رحمی سے ہنٹر برساتا ہے۔ کیونکہ کوچوان، تانگے میں بندھے گھوڑے، اور ہاتھ میں پکڑی باگ کے نتیجے میں خود کو طاقت ور سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جا بجا طاقت کی دھاک ، رعب و دبدبے اور قوت و طاقت کے قہر و جبر کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف بے چارے کمزور و ناتواں افراد ظلم و تعدی کے خوف اور دہشت و وحشت میں مبتلا ہو کر اپنی انکھ، کان اور زبان کو سختی سے بند کئے رکھتے ہیں کہ مبادا ان کی گواہی انہیں زیر زمین نہ پہنچا دے۔
انسان جسمانی طور پر کمزور بھی ہے اور طاقت ور بھی۔ اس بات کا تعین فقط اعضاء کی قوت اور توانائی سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی عوامل ہیں جن کی بناء پر وہ طاقت ور بن جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی لحیم شحیم، قوی الجثہ پہلوان جس کی طاقت وری پر کسی کو کوئی کلام نہیں ہوتا، کے مقابلے میں ایک کمزور اور نحیف و نزار انسان اس وقت ذیادہ قوی ہوتا ہے جب اس کے ہاتھ میں پستول یا بندوق ہو، جس کی وجہ سے وہ سیکنڈوں میں ایک فائر کرکے اسے راہ عدم کا راہی بنا دیتا ہے۔ روز مرہ موٹر بائیک پر سوار اسلحہ دکھا کر لوٹنے والے، دوسروں کےگھروں میں داخل ہو کر بندوق دکھا کر سارا سامان لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے میں ہلاکت خییز آلات قتل سے حریف کو قتل کر دینے والے ذرا سی دیر کے لئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے بلا خوف وخطر بھاگ جاتے ہیں۔ عمومی طور پر پولیس کو ان سے ذیادہ طاقت ور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ جانوں کی رکھوالی پہ مامور خود بھی اسلحے کے زور پر دہشت گردی کرنے والوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک دفعہ کچے کے علاقے میں پولیس کی بس کو نشانہ بنانے والے ڈاکوؤں نے اسلحہ استعمال کرکے بارہ پولیس اہلکارون کو شہید اور متعددکو زخمی کردیا تھا۔ کچے کے علاقے میں ڈاکؤؤں نے طاقت کے بل بوتے پر اپنے علاقے کو دہشت اور لوٹ مار کا مرکز بنا رکھا ہے اور وہ عرصہ دراز سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔
خواتین کے بارے میں متفقہ طور پر ان کے صنف نازک ہونے سے متعلق بات کی جاتی ہے۔ مگر کراچی میں ایک خاتون نے طاقت اور امارت کے نشے میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار ایک بچی اور اس کے باپ کو ٹکر مار کر ہلاک کردیا۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کی ایک واردات میں ایک نام نہاد بہادر عورت نے ٹریفک کانسٹیبل پر اپنی گاڑی چڑھا دی تھی۔ کوئی مضبوط اعصاب کی مالک یا کسی لحاظ سے کسی طاقت ور خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون ہی ایسی حرکت کر سکتی ہے۔
قانون جو قوت نافذہ رکھتا ہو، اسے طاقت ور سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ کمزوروں کے لئے کچھ اور طاقت وروں کے لئے کچھ اور استعمال رکھتا ہو تو اسے موم کی ناک سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح مجلس شوریٰ میں بیٹھے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین طاقتور کہلاتے ہیں، لیکن آج کل کی عدالتوں کے ججز اپنے فیصلوں کے ذریعے ان کے مقابلے میں ذیادہ قوت و طاقت کے مظہر دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح کثیر مال و دولت رکھنے والوں کو اہل طاقت قرار دیا جاتا ہے انہیں دولتمند ہونے کی وجہ سے جرم سرزد ہونے پر چھوٹ مل جاتی ہے۔ جبکہ بے چارہ غریب اس لئے پکڑا جاتا ہے کہ وہ کمزور ہوتا ہے۔
جمہوریت میں عوام کو طاقت کا سر چشمہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ماضی کے ایک سیاست دان نے بھی طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں، کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن دین اسلام اس توجیہ کو قبول نہیں کرتا۔ ہمارا عقیدہ اس کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ طاقت کا منبع و سر چشمہ اللہ کی ذات ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام جہان ہیں۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کی طرف سے بھیجے گئے سمندری طوفان اپنی طاقت دکھانے پہ آئے تو بستیوں کی بستیاں صفحہ ہیستی سے مٹ جا تی ہیں۔ اس کی طرف سے برستی شدید بارشوں کے سیلاب کے آگے امریکہ، یورپ، چین اور روس جیسی دنیاوی طاقیں بے بس ہوتی ہیں۔ ذات باری تعالیٰ جو قادر مطلق ہونے کی شان اور قوت کی مالک ہے، جب زمین کو متزلزل کرنے پہ آ ۓ تو سب سر بفلک عمارتیں ریزہ ریزہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ اور کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ قوی ہے۔ کوئی قوی نہیں سوائے اللہ کے اور یہی سچ ہے کہ انسان اللہ کی ودیعت کردہ طاقت کو ہی استعمال کرتا ہے۔ لہذا ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ آنکھیں کھلی ہو یا نیم وا، ہمیں اللہ کی طرف کھلنے والی کھڑکیوں کو کھلا رکھنا چاہئیں تاکہ اللہ کی رحمتو ں کی طاقتور ں ہوائیں ہماری مدد کو پہنچتی رہیں۔ کیونکہ طاقت کا سر چشمہ صرف ذات خدا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں