پاکستان کو بچانا ہے تو سوچ بدلنا ہوگی / علی عباس کاظمی

قوموں کی قسمت کبھی ایک دن میں نہیں بدلتی، لیکن ان کی تباہی اکثر خاموشی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ لمحہ جب لوگ امید چھوڑ دیتے ہیں، جب نوجوان اپنے ہی وطن میں اجنبی محسوس کرنے لگتے ہیں، جب سیاست خدمت کے بجائے اقتدار کا کھیل بن جائے، جب تعلیم روزگار نہ دے اور محنت عزت نہ دلائے، تب ریاست کے نقشے تو باقی رہتے ہیں مگر قوم کی روح مجروح ہونے لگتی ہے۔ پاکستان آج اسی سوال کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہم تاریخ کے ایک اور ضائع شدہ موقع کے گواہ بنیں گے یا آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئی داستان رقم کریں گے؟ یہ سوال صرف حکومتوں سے نہیں، ہم سب سے ہے، کیونکہ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے بنتی ہیں۔

پاکستان ایک عجیب تضاد کا نام ہے۔ قدرت نے اس سرزمین کو ایسی نعمتیں عطا کیں جن کا خواب بہت سے ممالک دیکھتے ہیں۔ زرخیز میدان، بلند و بالا پہاڑ، سمندر، معدنی وسائل، دنیا کی اہم ترین جغرافیائی پوزیشن، ایٹمی قوت کا دفاعی اعتماد اور سب سے بڑھ کر ایک نوجوان آبادی، جو کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ مگر حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ انہی نعمتوں کے درمیان مایوسی کے سائے بھی پھیلتے جا رہے ہیں۔ گویا ہمارے پاس سب کچھ ہے، سوائے اس صلاحیت کے کہ ہم اپنے وسائل کو اپنی طاقت میں بدل سکیں۔یہ سوال اکثر ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر ایک ایسا ملک، جس کے پاس وسیع زرعی زمین، معدنی ذخائر، سمندری بندرگاہیں اور خطے کی اہم ترین جغرافیائی حیثیت موجود ہو، وہ بار بار معاشی بحران، قرضوں، مہنگائی اور سیاسی بے یقینی کے دائرے میں کیوں واپس آ جاتا ہے؟ اس کا جواب کسی ایک معاشی رپورٹ میں نہیں بلکہ ہماری اجتماعی سوچ میں پوشیدہ ہے۔ ہم نے مسائل کا علاج کم اور ان پر سیاست زیادہ کی ہے۔ ہم نے منصوبوں سے زیادہ شخصیات کو اہمیت دی ہے اور پالیسیوں سے زیادہ نعروں کو۔

یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابلِ تردید بھی کہ کسی ملک کو وسائل کی کمی تباہ نہیں کرتی، بلکہ اداروں کی کمزوری، پالیسیوں کا عدم تسلسل اور میرٹ کی پامالی اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبے ختم کرنے کو اپنی کامیابی سمجھے، جب قومی منصوبے بھی سیاسی وابستگی کے تابع ہو جائیں، تو پھر ترقی ایک خواب ہی رہ جاتی ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے حکومتیں ضرور بدلیں، مگر قومی سمت نہیں بدلی۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، لیکن یہی طاقت اگر تعلیم، ہنر اور مواقع سے محروم رہے تو سرمایہ نہیں بلکہ بحران بن جاتی ہے۔ نوجوان صرف روزگار کی تلاش میں نہیں، وہ یقین کی تلاش میں بھی ہیں۔ انہیں نوکری سے پہلے مستقبل چاہیے۔ انہیں تنخواہ سے پہلے اعتماد چاہیے کہ ان کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔ بدقسمتی سے ہمارا نوجوان آج ڈگری ہاتھ میں لیے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے، جبکہ دنیا ہنر مند ہاتھوں کو تلاش کر رہی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے تعلیمی ادارے اسناد تو بانٹ رہے ہیں مگر صلاحیت پیدا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار اب خدمت نہیں بلکہ دولت رہ گیا ہے۔ لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ دولت کیسے کمائی گئی، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ کتنی کمائی گئی۔ جب معاشرہ کردار کے بجائے دولت کی پرستش کرنے لگے تو پھر کرپشن جرم نہیں بلکہ ذہانت محسوس ہونے لگتی ہے۔یہی وہ موڑ ہے جہاں سے ریاست کی مضبوطی بتدریج کمزوری میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ قانون کی گرفت کمزور پڑ جائے تو انصاف بھی ایک امیر آدمی کی سہولت بن کر رہ جاتا ہے۔معاشی ترقی صرف بجٹ کے اعداد و شمار سے نہیں آتی بلکہ اعتماد سے آتی ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں قانون طاقتور ہو، فیصلے مستقل ہوں اور ریاست اپنے وعدوں پر قائم رہے۔ اگر سرمایہ کار کو ہر چند سال بعد نئی معاشی سمت، نئے قوانین اور نئی ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے تو وہ سرمایہ نہیں بلکہ اپنا اعتماد بھی واپس لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی استحکام کا بھی آئینہ ہوتی ہے۔ہم اکثر بیرونی سازشوں کا ذکر کرتے ہیں، مگر کبھی اپنے اندر جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی دشمن اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا ہم اپنی باہمی نفرت، سیاسی تقسیم اور اداروں پر عدم اعتماد سے خود کو پہنچا رہے ہیں۔ اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر دشمنی جمہوریت کی قبر ہے۔ جب ہر مخالف غدار اور ہر اختلاف دشمنی بن جائے تو پھر مکالمہ مر جاتا ہے اور جہاں مکالمہ مر جائے وہاں صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے کی تربیت بھی ہے۔ یہ رویہ گھر سے شروع ہوتا ہے، اسکول میں پروان چڑھتا ہے اور پارلیمنٹ تک پہنچتا ہے۔ اگر بچے کو اپنی رائے دینے کی اجازت نہیں، اگر طالب علم کو اختلاف کی سزا ملتی ہے، اگر کارکن صرف تعریف کرنا سیکھتا ہے تو پھر جمہوریت صرف ایک آئینی لفظ رہ جاتی ہے، معاشرتی حقیقت نہیں بنتی۔

پاکستان کا ایک اور بڑا المیہ مرکزیت ہے۔ فیصلے وہاں ہوتے ہیں جہاں مسائل موجود نہیں ہوتے، جبکہ مسائل وہاں جنم لیتے ہیں جہاں فیصلوں کی آواز بھی نہیں پہنچتی۔ اگر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کو حقیقی اختیارات اور وسائل مل جائیں تو شاید بہت سے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو جائیں۔ ترقی ہمیشہ نیچے سے اوپر آتی ہے، اوپر سے نیچے نہیں۔ہم قرضوں کو اپنی مجبوری کہتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ قرض آخر خرچ کہاں ہوتا ہے۔ قرض اگر صنعت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور پیداوار پر لگے تو سرمایہ بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ صرف اخراجات، مراعات اور عارضی سکون خریدنے کے لیے لیا جائے تو وہ آنے والی نسلوں کی گردن میں بوجھ بن جاتا ہے۔توانائی، پانی اور زراعت پاکستان کے مستقبل کے تین بنیادی ستون ہیں۔ اگر بجلی مہنگی ہوگی تو صنعت کیسے چلے گی؟ اگر پانی ضائع ہوگا تو زراعت کیسے بچے گی؟ اگر کسان کو مناسب قیمت نہیں ملے گی تو خوراک کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟ ترقی کی بنیاد ہمیشہ بنیادی شعبوں پر رکھی جاتی ہے، نمائشی منصوبوں پر نہیں۔ٹیکنالوجی نے دنیا کے نقشے بدل دیے ہیں۔ اب سرحدیں صرف زمین پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی موجود ہیں۔ ایک نوجوان اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر پوری دنیا کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس ہنر، انٹرنیٹ اور اعتماد ہو۔ آج مصنوعی ذہانت، کوڈنگ، گرافک ڈیزائن، زرعی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کاروبار صرف روزگار نہیں بلکہ قومی معیشت کے نئے دروازے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام آنے والے کل کے لیے نوجوان تیار کر رہا ہے یا گزرے ہوئے کل کے لیے؟

سوچنے کی بات ہے کہ آخر ہر ذہین نوجوان بیرون ملک جانے کا خواب کیوں دیکھتا ہے؟ کیا مسئلہ صرف زیادہ تنخواہ ہے یا پھر انصاف، عزت اور مواقع کی کمی بھی اس ہجرت کی وجہ ہے؟ گر ہم اپنے نوجوان کو اس کے خواب کے مطابق ماحول دے دیں تو شاید وہ دنیا کو پاکستان لانے کی کوشش کرے، پاکستان چھوڑنے کی نہیں۔ترقی کی کوئی مختصر راہ نہیں ہوتی۔ قوموں کو آگے بڑھانے کے لیے کم از کم ایک دہائی کا مستقل وژن درکار ہوتا ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، ٹیکنالوجی، انصاف اور توانائی جیسے شعبے انتخابی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت سے پھل دیتے ہیں۔ ہمیں شاید پہلی بار یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومتیں بدل سکتی ہیں، مگر قومی منصوبے نہیں بدلنے چاہییں۔اصل احتساب صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ ضمیر میں بھی ہونا چاہیے۔ جب تک سفارش کو ذہانت اور کرپشن کو مجبوری سمجھا جاتا رہے گا، اس وقت تک بہترین قوانین بھی کمزور رہیں گے۔ معاشرے اس وقت بدلتے ہیں جب قانون سے پہلے اخلاق مضبوط ہو جائیں۔پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کسی ایک لیڈر، ایک جماعت یا ایک ادارے نے نہیں کرنا۔ یہ فیصلہ اس استاد نے کرنا ہے جو دیانت داری سے پڑھائے گا، اس جج نے کرنا ہے جو انصاف بیچے گا نہیں، اس سیاست دان نے کرنا ہے جو اقتدار کو عبادت سمجھے، اس تاجر نے کرنا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دے، اس صحافی نے کرنا ہے جو سچ بولنے کی قیمت ادا کرنے کا حوصلہ رکھے اور سب سے بڑھ کر اس نوجوان نے کرنا ہے جو شکایت کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیت بھی بڑھائے۔

آج بھی وقت ہمارے ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ اگر ہم اجتماعی طور پر یہ عہد کر لیں کہ اس ملک کی بنیاد میرٹ، انصاف، مکالمے، قانون کی بالادستی اور پالیسیوں کے تسلسل پر استوار ہوگی، تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب پاکستان صرف دنیا کے نقشے پر ایک ریاست نہیں بلکہ ترقی، استحکام، خودداری اور امکانات کی ایک روشن مثال بن کر ابھرے گا۔ وہ وطن، جہاں نوجوانوں کے خواب سفارش کی دہلیز پر دم نہ توڑیں، جہاں فیصلے شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر ہوں، جہاں اختلاف دشمنی نہیں بلکہ بہتری کا راستہ بنے اور جہاں ہر شہری کو یہ احساس ہو کہ اس کی محنت، صلاحیت اور دیانت ہی اس کی اصل پہچان ہے۔لیکن اگر ہم نے ہمیشہ کی طرح وقتی مفادات، سیاسی انتقام، ذاتی انا، گروہی وابستگیوں اور قومی غفلت کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کیے رکھا، اگر ہر آنے والی نسل کو بھی وہی تلخ ورثہ منتقل کیا جو ہمیں ملا، تو پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ آنے والی نسلیں ہماری طرف حسرت، مایوسی اور سوالیہ نظروں سے دیکھیں گی اور صرف ایک سوال پوچھیں گی کہ”تمہارے پاس ایک زرخیز سرزمین تھی، بے شمار قدرتی وسائل تھے، باصلاحیت نوجوان تھے، عظیم تاریخ تھی، بے پناہ مواقع تھے، پھر آخر تم نے کھویا کیا تھا؟”شاید اس سوال کا جواب وسائل کی کمی، حالات کی سختی یا دشمنوں کی سازشوں میں نہیں ملے گا، بلکہ ہمارے اپنے ارادوں کی غربت، اجتماعی بے حسی، قیادت کی کمزوری اور قومی ترجیحات کے بکھراؤ میں پوشیدہ ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں پہلے اپنے خوابوں سے دستبردار ہوتی ہیں، پھر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرتی ہیں، اس کے بعد اپنی شناخت کھو دیتی ہیں شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ ہم نے مستقبل بنانے کے بجائے حال کی سیاست کو ترجیح دی اور اسی ایک فیصلے نے کئی نسلوں کی امیدیں گروی رکھ دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں