قومی وحدت کا امتحان/ علی عباس کاظمی

پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان ہمیشہ ایک ایسا خطہ رہا ہے جو اپنے وسیع رقبے، بے پناہ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور منفرد تہذیبی شناخت کی وجہ سے قومی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ مگر افسوس کہ جتنا یہ خطہ معدنی دولت سے مالا مال ہے، اتنا ہی امن، ترقی اور اعتماد کے حوالے سے محرومیوں کا شکار بھی رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اور مختلف علاقوں میں کیے گئے آپریشنز نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا بلوچستان کا مسئلہ صرف بندوق سے حل ہو سکتا ہے یا اس کے لیے سیاست، مکالمے، معاشی انصاف اور عوامی اعتماد کی بھی ضرورت ہے؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقیقت پسندی سے تلاش کرنا ہوگا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ جب دہشت گرد عام شہریوں، مزدوروں، سرکاری اہلکاروں یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تو ریاست کے پاس قانون نافذ کرنے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔لیکن یہ حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے کہ فوجی کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کر سکتی ہیں، مگر صرف طاقت کے ذریعے دِلوں میں اعتماد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں مسائل کی جڑیں سیاسی، معاشی اور سماجی ہوں، وہاں صرف سیکیورٹی اقدامات دیرپا امن کی ضمانت نہیں بنتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب ریاست کی طاقت کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہو۔

بلوچستان کی سرزمین کئی دہائیوں سے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی اور تخریب کاری ہے، دوسری طرف ترقیاتی محرومیاں، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور احساسِ شمولیت سے متعلق سوالات بھی موجود ہیں۔ ان تمام پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر مسئلے کی نوعیت مختلف ہے، اس لیے اس کا حل بھی مختلف ہونا چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی اکثریت امن پسند، محب وطن اور قانون پسند شہریوں پر مشتمل ہے۔ وہاں کے اساتذہ، طلبہ، مزدور، کسان، تاجر، ڈاکٹر اور نوجوان بھی وہی خواب دیکھتے ہیں جو لاہور، کراچی، پشاور یا اسلام آباد کا کوئی شہری دیکھتا ہے۔ وہ بھی اچھی تعلیم، روزگار، محفوظ زندگی اور ترقی کے مواقع چاہتے ہیں۔ اس لیے پورے صوبے کو چند شرپسند عناصر کے عمل سے جوڑنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد عوام میں غم و غصہ پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ایسے حالات میں جذباتی بیانات اور سخت مؤقف سامنے آتے ہیں، لیکن ریاستی فیصلے ہمیشہ تحمل، حکمت اور آئین کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وہاں ضروری ہوتا ہے جہاں قانون کو چیلنج کیا جائے، مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ، عوامی نمائندگی اور ترقیاتی منصوبے بھی مسلسل جاری رہنے چاہییں۔

دنیا کے کئی ممالک کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جب سیکیورٹی، سیاست، معیشت اور سماجی اصلاحات ایک ساتھ آگے بڑھتی ہیں تو امن زیادہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ صرف ایک پہلو پر انحصار اکثر مسئلے کو وقتی طور پر دبا دیتا ہے، مگر اس کی بنیادی وجوہات برقرار رہتی ہیں۔ اسی لیے بلوچستان کے بارے میں بھی ایک جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اس حکمت عملی کا پہلا ستون مؤثر سیکیورٹی ہونا چاہیے، تاکہ دہشت گرد عناصر شہریوں کی زندگیوں کو یرغمال نہ بنا سکیں۔ دوسرا ستون سیاسی شمولیت ہونا چاہیے، جہاں اختلافِ رائے کو آئینی اور جمہوری دائرے میں سنا اور سمجھا جائے۔ تیسرا ستون معاشی ترقی ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار، صنعت، سیاحت اور کاروبار کے نئے دروازے کھلیں۔ چوتھا ستون سماجی اعتماد ہے، جو ریاست اور عوام کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔بلوچستان کا مستقبل صرف وہاں کے عوام کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مستقبل ہے۔ گوادر کی بندرگاہ، معدنی وسائل، ساحلی پٹی، سرحدی تجارت اور جغرافیائی محل وقوع پورے ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر اس خطے میں مستقل امن قائم ہو جائے تو اس کے مثبت اثرات ہر پاکستانی تک پہنچ سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اکثر ہر مسئلے کو دو انتہاؤں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ ایک طبقہ صرف طاقت کو حل سمجھتا ہے، دوسرا صرف مذاکرات کو۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان موجود ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن امن کی تعمیر پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جگہ اہم ہیں، جبکہ سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، میڈیا، دانشور، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی اور مقامی قیادت بھی اسی قدر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حساس معاملات کو ذمہ داری، تحقیق اور توازن کے ساتھ پیش کرے۔ ایسی زبان سے گریز کیا جائے جو نفرت، تقسیم یا غلط فہمی کو ہوا دے۔ قومی مسائل کا حل جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، باہمی احترام اور قومی اتحاد سے نکلتا ہے۔

پاکستان کی طاقت اس کی وحدت میں ہے۔ یہ ملک مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا حسین گلدستہ ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سب مل کر پاکستان کی شناخت بناتے ہیں۔ جب کسی ایک حصے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے تو اس کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دیتی ہے، اور جب کسی ایک حصے میں امن آتا ہے تو اس کی خوشبو بھی پورے وطن میں پھیلتی ہے۔

بلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا، بلکہ ہم سب اس امن کے لیے اپنا کردار کیسے ادا کریں گے؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ پیدا کریں گے؟ کیا ہم نفرت کے بجائے اعتماد کی بنیاد رکھ سکیں گے؟ کیا ہم ہر اس پاکستانی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے جو دہشت گردی کی آگ میں اپنا پیارا کھو دیتا ہے؟ کیا ہم اپنے نوجوانوں کو بارود کے بجائے کتاب، ہنر اور امید کا راستہ دے سکیں گے؟ کیا ہم اس وطن کو وہ پاکستان بنا سکیں گے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا، جہاں ہر شہری خود کو برابر کا پاکستانی محسوس کرے؟ اگر جواب “ہاں” ہے، تو پھر یہی وہ لمحہ ہے جہاں طاقت اور سیاست، قانون اور انصاف، ترقی اور اعتماد، سب ایک ہی منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔۔۔ایک پرامن، مستحکم اور متحد پاکستان کی طرف۔

اپنا تبصرہ لکھیں