بلتستان میں سیاحت/سید کاشف رضا

اسکردو اور اردگرد کے اضلاع میں اس سال سیاحوں کی ریکارڈ تعداد آئی ہے۔ کوئی بھی بزنس کرنے والا ہمیشہ یہ رونا روتا ہوا ملے گا کہ آج کل کاروبار مندا چل رہا ہے مگر اسکردو میں سیاحت سے وابستہ جس بھی شخص سے بات ہوئی اس کا یہی کہنا ہے کہ اس برس یہاں بہت سیاح آئے ہیں۔
خود میں نے غیر ملکی سیاح اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں نہیں دیکھے۔ خدا نظر بد سے بچائے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس برس کشمیر جانے والے سیاحوں کی بڑی تعداد نے بھی دوسرے علاقوں کا رخ کیا ہے جن میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔
گلگت بلتستان میں رقبہ بہت زیادہ ہے اور یہاں بڑے بڑے ہوٹل اور ریزارٹ قائم کرنے کا خاصا پوٹینشل ہے۔ ایسے ہوٹل اور ریزارٹ قائم بھی ہو رہے ہیں اور یہ ساری انوسٹمنٹ زیریں پاکستان خاص طور پر پنجاب سے آ رہی ہے۔ یہاں کے عوام یہ رونا بھی رو سکتے ہیں کہ غیر یہاں کیوں آ رہے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ بڑی انوسٹمنٹ اس علاقے میں باہر ہی سے آ سکتی ہے جس سے انوسٹمنٹ لانے والے کو تو انفرادی فائدہ ہوگا ہی مگر اجتماعی فائدہ مقامی افراد کو ہوگا۔
اس انوسٹمنٹ کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔ امن ہو تو اب پاکستانی مڈل کلاس کی ایک بڑی تعداد گرمیوں میں سیاحت پر نکلنے کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے لیے سیاحتی مقامات محدود تھے: مری، ناران، کاغان اور بس۔ حالاں کہ ملک میں سیاحت کے قابل علاقے کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے بھی علاقے ہیں جو اب تک سیاحوں کی نظر سے اوجھل ہیں جیسے بلوچستان، آزاد کشمیر، سندھ میں تھر ڈویژن، پنجاب میں پوٹھوار رینج، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے اور پورا گلگت بلتستان۔ ان میں سے جو علاقہ امن کی ضمانت دے گا، جہاں اچھے ٹوائلٹ (جو کے پی میں نایاب ہوتا ہے) اور بنیادی لیول کی سہولیات ہوں گی اور جہاں کے لوگ مہمانوں سے کلچرلی شاکڈ نہیں ہوں گے بلکہ سیاحوں کے لیے ویلکمنگ ہوں گے (جیسے ہنزہ کے لوگ) وہ علاقہ ترقی کر جائے گا۔
سیاح بھی آپ ہی جیسے لوگ ہیں۔ وہ سج سنور کر اس لیے آتے ہیں کہ وہ تفریح کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ جہاں بھی مقامی لوگ سیاحوں کے کلچر سے اجنبیت محسوس کریں گے، ان کے علاقے میں امن نہیں ہوگا اور وہ روتے گاتے ہوں گے وہاں سے سیاح پہلی فرصت میں رفوچکر ہو جائے گا اور باقی لوگوں کو بھی ہدایت کر جائے گا کہ اس طرف نہ آنا۔
اسکردو اور اس کے ساتھ ساتھ گانچے، شگر اور استور کی طرف (جسے بلتستان کہا جاتا ہے) اب تک سیاح اس لیے کم آتے تھے کہ زیادہ تر ناران کاغان سے گلگت اور ہنزہ چلے جاتے تھے۔ گلگت اسکردو روڈ اکثر بند رہتا تھا۔ خود میں پہلے اسی وجہ سے یہاں نہ آ سکا۔ لیکن اب یہ روڈ بہتر ہے۔ مزید سڑکیں بھی بن رہی ہیں۔ اسکردو نیلم روڈ بھی سنا ہے جلد بنے گی۔ اسکردو کے لوگ بھی شان دار ہیں اور یہاں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی بدولت یہ علاقہ آیندہ برسوں میں سیاحت کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں