میرے سامنے محکمہ صحت پنجاب کا ایک نیا نوٹیفکیشن پڑا ہوا ہے۔ جسکے مطابق جنوری 2027 کی پوسٹ گریجویٹ سینٹرل انڈکشن ( سی آئی پی / پی آر پی) کے لئے ایک نیا پی جی اینٹرینس ( PG ENTRANCE) ٹیسٹ لیا جائے گا،یعنی کہ ایک ڈاکٹر امیدوار پہلے ایف سی پی ایس -I یا جے کیٹ -I کا امتحان پاس کرے گا۔
پنجاب میں انڈکشن لینے کے لئے کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان ایف سی پی ایس پارٹ ون اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور جے کیٹ ون کا امتحان لیتی ہے۔ یہ دونوں یا ایک امتحان پاس کرنے کے بعد آپ ٹریننگ کرنے کے لئے اہل ہوتے ہیں،لیکن اب ان دونوں کے بعد نیا ٹیسٹ رکھ دیا گیا ہے،جو ڈاکٹر یہ ٹیسٹ پاس کرے گا،اسکے بعد وہ انڈکشن کے لئے اہل تصور کیا جائے گا۔
بنیادی طور پر یہ ٹیسٹ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے ایک چھوٹا سا عارضی پل باندھنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ پنجاب سمیت پاکستان بھر میں ڈاکٹرز کی سپلائی ڈیمانڈ سے کہیں زیادہ ہے۔ فیلڈ میں ہر سال ہزاروں نئے ڈاکٹرز داخل ہو رہے ہیں تو سبکا خواب یہی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ٹریننگ ملے،ظاہری بات ہے کہ ٹریننگ سلاٹس کم ہیں،تو اس اووسپلائی کو ایک نئے ٹیسٹ سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جیسے حالات چل رہے ہیں کہ کیا پتا کہ کل کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی) دوبارہ این ایل ای ( نیشنل لائسنسنگ ایگزام) لاگو کر دے،تاکہ کم لوگ فیلڈ میں آئیں ۔ NLE ہو یا PG ENTRANCE ٹیسٹ ہو، ان سبھی حربوں کا مقصد کم سے کم ڈاکٹرز کو فیلڈ میں لانا ہے،تاکہ ڈیمانڈ کے حساب سے سپلائی کو ممکن بنایا جا سکے اور اوور سپلائی کو روکا جائے ۔
اس نئے ٹیسٹ کی حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے میرٹ کا بول بالا ہو گا، اضافی ٹیسٹوں سے جان چھوٹے گی، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ڈاکٹرز پر مزید معاشی بوجھ بڑھ جائے گا ۔
مسئلہ یہ ہے کہ حکومت مسلئے کی جڑ کو نہیں سمجھ پا رہی۔ وہ ہے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بھرمار۔ صرف لاہور شہر میں پچیس سے زائد پرائیویٹ میڈیکل کالجز کھل چکے ہیں ۔ یہ ڈاکٹرز بنانے کی فیکٹریاں دھڑا دھڑ ڈاکٹرز بنائی جا رہی ہیں ،لیکن یہ فیکٹریاں اپنے ہی گریجویٹس کو پیڈ ٹریننگ دینے سے قاصر ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں اتنی ہی سیٹیس ہیں جتنی آج سے دس قبل تھیں (19/20 کا فرق پڑا ہو گا). آبادی کے تناسب سے نئے بڑے ہسپتال نہیں بن پا رہے جو کہ ڈاکٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو accommodate کر سکیں ۔ جابز ہیں نہیں،ٹرینگ سلاٹس کم ہیں تو اسی چیز کو عارضی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
پوری دنیا میں پوسٹ گریجویٹ ٹرینگ حاصل کرنے کے لئے ایک ہی امتحان لیا جاتا ہے۔لیکن وطن عزیز میں ٹرینگ حاصل کرنے کے لئے پہلے دونوں امتحان تھے،اب تیسرے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اتنی مشکل کے بعد ٹریننگ حاصل کر کے بھی ڈاکٹرز کو جو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے وہ اس مہنگائی کے دور میں بہت کم ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ڈاکٹرز کے حالات پہلے ہی زیادہ اچھے نہیں ،ایسے میں ایک نیا ٹیسٹ انکی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔
ہم ڈاکٹرز کیا کریں؟ اسکا آسان حل یہ ہے کہ ہر میڈیکل سٹوڈنٹ و ڈاکٹر سیونگ کرنے کی عادت ڈالے۔ ہاؤس جاب کے وظیفے کو ضائع مت کرے، ان سیونگز سے بیرون ملک کے ٹیسٹوں کی فیس بھرے اور محنت کر کے ٹیسٹ پاس کرے اور ویزا لگنے کی دعا کرے ۔
اگر پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں تو جیسے ہی ہاؤس جاب ختم ہو، چپ کر کے اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں کلینک کھول لیں اور جنرل پریکٹس سٹارٹ کر دیں۔ مریضوں کو 24/7 میسر ہوں۔ اگر ٹریننگ مل بھی جائے تو آپکا یہ ہوم کلینک چلتا رہنا چاہیے،کیونکہ اسی کلینک نے کل کو آپکو مریض دینے ہیں،ٹریننگ نے نہیں .


