میرے پسندیدہ ریلوے اسٹیشن/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

پاکستان کے بیشتر علاقوں کی خاک چھاننے کے باوجود میرے لیئے اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ میرے پسندیدہ اسٹیشن کون کون سے ہیں۔۔۔۔۔
کیونکہ اس ملک کا ایک ایک اسٹیشن دلچسپ تاریخ رکھتا ہے لین کچھ نام تو لینے ہی جو زیادہ دلچسپ ہیں۔
میرے لیئے دلچسپی کا مفہوم کافی وسیع ہے۔ جہاں کچھ اسٹیشنوں کی خاموشی اور سکون پسند آ جاتا ہے وہیں کچھ کا طرز تعمیر اور جغرافیہ اسے دلچسپ بناتا ہے۔ ایسے بہت سے اسٹیشن پاکستان میں موجود ہیں۔

ترکی
ترکی یا ترکئی نام کا یہ ریلوے اسٹیشن ضلع جہلم میں سوہاوہ کے قریب ایم ون پر واقع ہے۔
یہ بکڑالہ اور سوہاوہ کے بیچ اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں پاکستان میں ریلوے کا سب سے بڑا موڑ آتا ہے۔
سڑک سے دور اور قدرے چھپا ہوا یہ ریلوے اسٹیشن چھوٹا اور پرسکون سا ہے اور اس کا یہی سکون مجھے بہت پسند ہے۔ یہ کسی ہل اسٹیشن جیسا لگتا ہے۔
عمارت کے سامنے ایک قدیم برگد کا پیڑ بھی ہے جو اندھیرے میں ایسا لگتا ہے جیسے کسی ڈراؤنی فلم کا منظر ہو۔
ترکی کے دونوں طرف خوبصورت موڑ ہیں جہاں سے خم کھاتی ریل کسی حسین دوشیزہ کی طرح لگتی ہے۔

کولپور
سطح سمندر سے 1792 میٹر بلند، روہڑی چمن لائن پر واقع کولپور، اس وقت بلوچستان کا سب سے بلند ترین ریلوے سٹیشن ہے۔ اس سے پہلے ژوب سیکشن پر واقع کان مہترزئی (2224میٹر) بلند ترین ریلوے اسٹیشن تھا جو مستقل بند ہے۔
ضلع کچھی میں واقع کولپور ایک دلکش و پُر فضا ہِل اسٹیشن ہے جس کے اطراف میں مٹی کے بنے چھوٹے چھوٹے گھر آنکھوں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔ یہاں پر جنوری اور فروری کے مہینے میں دو سے ڈھائی فٹ تک برف باری بھی ہوتی ہے۔ برفباری کے دنوں میں یہاں پاکستان بھر سے سیاح آتے ہیں۔
سال 1890 میں جب برطانوی راج اس علاقے میں ریلوے ٹریک بچھا رہا تھا تب کولپور میں برصغیر کے مختلف علاقوں (خصوصاً سندھ اور ملتان) سے مزدوروں کو لایا گیا، جن میں ہندوؤں کی بھی کثیر تعداد شامل تھی۔ چونکہ یہ قصبہ اسٹیشن بننے کے بعد ہی آباد ہوا سو بیشتر مزدوروں نے یہیں رہنا مناسب سمجھا اور آج کولپور میں ہندو برادری اکثریت میں ہے جہاں ان کے مندر بھی ملتے ہیں۔
کولپور کو مال گاڑیوں کا جنکشن بھی کہا جاتا ہے۔ سبی اور کوئٹہ، ہر دو جانب سے آنے والی مال گاڑی یہاں ٹرمینیٹ ہوتی ہے۔
ڈھلوان کی وجہ سے یہاں مکینیکل چیک (خصوصاً بریکوں کی چیکنگ) اور لوڈ چیک کے بعد انہیں روانہ کر دیا جاتا ہے۔
کولپور اسٹیشن سے ذرا آگے 1894 میں تعمیر کی گئی”سمٹ” نامی سرنگ آتی ہے جسے کولپور ٹنل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پہاڑی پتھروں سے بنی ایک مضبوط سُرنگ ہے جس کی برج اور پتھروں کی تراش خراش بھی کاریگروں کی محنت کو ظاہر کرتی ہے۔

اٹک خورد
کسی برطانوی محل یا سکاٹش حویلی کی طرح دکھنے والا اٹک خورد، اباسین کنارے ضلع اٹک میں واقع ہے۔ یہ برسوں سے پنجاب اور پختونخواہ کی سرحد پر پہرا دے رہا ہے کیونکہ اسکے ساتھ واقع اٹک پل کے پار پختونخواہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ اسٹیشن نہ صرف جغرافیائی و تاریخی بلکہ سیاحتی حوالے سے بھی اہم ہے۔ ہفتے میں ایک بار اتوار کو سفاری ٹرین یہاں کئی سیاحوں کو لے کر پہنچتی ہے جو اپنی علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔
اسٹیشن کی عمارت وکٹورین طرزِ تعمیر کی عمدہ مثال ہے۔ پتھروں سے بنی اس تاریخی عمارت کے عقب میں منگلوٹ کے پہاڑ اور سامنے دریائے سندھ کا دلکش منظر اسے غیر معمولی حسن عطا کرتے ہیں۔
اٹک خورد ریلوے اسٹیشن ایک صدی سے زائد عرصے سے ریلوے ورثے کی علامت ہے۔ پاکستان بھر سے تاریخ، ریلوے اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد یہاں آتے ہیں تاکہ قدیم ریلوے فنِ تعمیر، اٹک پل اور دریائے سندھ کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
یہاں پاکستان ریلوے کا ایک چھوٹا سا میوزیم بھی موجود ہے۔
اس کی انہی خصوصیات کے باعث یہ میرا پسندیدہ اسٹیشن ہے۔

بوستان
جہاں پنجاب و سندھ کے زیادہ تر اسٹیشن پُر ہجوم اور یکساں مناظر کے حامل ہیں وہیں بلوچستان کے اسٹیشن چھوٹے، خاموش اور قدرتی مناظر کے بیچ گھرے ہوئے ہیں۔ انہی میں سے ایک ضلع پشین کا ”بوستان“ ہے جو میرا پسندیدہ اسٹیشن ہے۔

بوستان کا نام کاکڑ قبیلے کے ایک سردار اور افغان جنگِ آزادی کے ہیرو، بوستان کے نام سے موسوم ہے۔
بوستان کوئٹہ کو ژوب، ہرنائی اور چمن سے ملانے والی مختلف ریلوے لائنوں پر ایک دور میں اہم جنکشن ہوا کرتا تھا لیکن ریلوے کی تباہی کے ساتھ ساتھ بوستان بھی اجڑتا گیا اور اب یہاں برف پوش پہاڑوں کے بیچ ریل کے چند ڈبے کھڑے نظر آتے ہیں۔
بوستان کو ژوب سے ملانے والی تنگ پٹڑی ایک دور میں برصغیر کی سب سے لمبی تنگ پٹڑی تھی جس پر گیارہ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ انہی میں سے ایک ”کان مہترزئی” کو پاکستان کے سب سے بلند ریلوے اسٹیشن کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ایک دور میں خوب آباد رہنے والا بوستان اب ایک ویران اسٹیشن ہے (اگرچہ کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پیسنجر یہاں سے گزرتی ہے) جہاں لال پہاڑوں کے بیچ بوسیدہ لاٸنوں پہ کھڑے ریل کے چند ڈبے اس انتظار میں ہیں کہ کسی مخلص وزیر کے ایک حکم پر کوئی انجن آئے گا اور انہیں کھینچ کہ ملک کے طول و عرض میں لیتا جائے گا۔
مگر حیف اس چھوٹے سے شہر کی قسمت۔۔۔۔۔۔
اسٹیشن کی چھوٹی سی عمارت کے ایک طرف لڑکیوں کا سکول ہے، سامنے بوستان کا ریلوے اسپتال جبکہ عقب میں کچھ سر سبز کھیت ہیں۔

لنڈی خانہ
آپ لوگوں میں سے بیشتر نے یہ نام پہی بارسنا ہو گا۔ میں بھی ایک بار چونک گیا تھا جب مجھے پتہ چلا کہ افغان سرحد پر پاکستان کا آخری اسٹیشن لنڈی کوتل نہیں بلکہ لنڈی خانہ ہے۔
جیہاں
لنڈی خانہ ہی پاکستان کا آخری ریلوے اسٹیشن ہے۔
لنڈی خانہ کا چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن پاکستان کے تاریخی ریلوے اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ضلع خیبر میں، مشہور تاریخی درۂ خیبر کے اندر واقع ہے اور پاکستان کا مغربی سمت میں واقع آخری ریلوے اسٹیشن سمجھا جاتا ہے۔
یہ برطانوی دور میں خیبر پاس ریلوے کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد دفاعی اہمیت کے پیش نظر پشاور کو افغان سرحد کے قریب علاقوں سے ملانا تھا۔ یہ ریلوے لائن انجینئرنگ کا ایک شاہکار سمجھی جاتی ہے کیونکہ اسے دشوار گزار پہاڑوں، سرنگوں اور گہری وادیوں کے درمیان تعمیر کیا گیا۔ راستے میں درجنوں سرنگیں اور کئی پل بنائے گئے، جنہوں نے خیبر ریلوے کو دنیا کی منفرد پہاڑی ریلوے لائنوں میں شامل کر دیا۔
لنڈی خانہ کا اسٹیشن افغان سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے۔ ایک زمانے میں یہاں تک سیاحتی اور خصوصی ٹرینیں چلتی تھیں، لیکن بعد ازاں سروس معطل کر دی گئی۔ آج اس کی قلعہ بند عمارت افواج پاکستان کےزیر استعمال ہے لیکن باہر ایک نام اب بھی جگمگا رہا ہے
لنڈی خانہ۔۔۔۔۔۔

رتیال
مرکزی لائن ایم ون پر واقلع ضلع جہلم کا ایک اور منفرد ریلوے اسٹیشن رتیال ہے، جو اب متروک شدہ ہے۔ یہ مجھے اپنیتمام تر منفردخصوصیات کی وجہ سے پسند ہے۔ اس کو سانپوں والا ریلوے اسٹیشن بھی کہا جاتا ہے کے اس کے اطراف میں کافی سانپ ہیں اور اس کا راستہ بھی بہت دشوار گزار ہے۔
مرکزی جی ٹی روڈ سے ایک چھوٹی سڑک جو کچے راستے اور پھر کھیتوں کی پگڈنڈیوں میں تبدیل ہوتی ہے اس اسٹیشن تک لے کر جاتی ہے جس کے راستے میں چھوٹا ساجنگل نما علاقہ بھی ہے۔ نیز رتیال کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس کی عمارت ایک اونچے ٹیلے پر ہے جبکہ ٹرین نیچے سے گزرتی ہے۔
آپ پیدل یا بائیک پر یہاں پہنچ سکتے ہیں۔

ماڑی انڈس
اپنی خوبصورت اور قدیم طرز تعمیر اور تاریخی حیثیت کی بدولت ماڑی انڈس کا ریلوے اسٹیشن پورے ضلع میانوالی میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس شہر کی رونق بھی اسی اسٹیشن سے ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔
بچپن سے ہی ریلوے کے یادگار دور کو قریب سے دیکھا ہے اور شاید اسی وجہ سے ٹرینیں اور ریلوے اسٹیشن ہر سیاح کی طرح مجھے بہت مسحور کن لگتے ہیں۔ ٹرین کی آواز اور اس کے ہارن میں بھی ایک کشش سی محسوس ہوتی ہے۔ خالی مال گاڑیاں اور ویران پٹریاں مجھے بہت لبھاتی ہیں۔ اور میرے جیسے لوگوں کے لیئے ماڑی انڈس کا ریلوے اسٹیشن انتہائی خوبصورت ہے۔

قدیم سفید عمارت، خوبصورت پرانے طرز کے شیشوں والے دروازے اور کھڑکیاں، لکڑی کی پرانی بنچیں، سادہ سا پلیٹ فارم، لکڑی کی اونچی پانی کی ٹینکی اور ریلوے کا پرانا سامان، یوں لگتا ہے جیسے بندہ اسی یا نوے کی دہائی میں موجود کوئی دور دراز ریلوے اسٹیشن دیکھ رہا ہو۔ اِس کے دو اطراف میں پہاڑیاں اور تھوڑے ہی فاصلے پر دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔
یہاں جگہ جگہ مختلف پٹریاں بکھری ہوئی ہیں۔ 1891 میں بنائی گئی اسکی عمارت آج بھی کچھ مرمت کے بعد اسی طرح دلکش اور جاذبِ نظر ہے۔ گو اسٹیشن کے بہت سے حِصے اب استعمال میں نہیں اور انہیں بند کر دیا گیا ہے۔ کئی جگہوں پر ریل کے پہیئے اور دیگر سامان ضائع ہونے کے لیئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ پہلے یہاں صرف ایک گاڑی ”اٹک پسنجر” آیا کرتی تھی لیکن اب دو نئی ٹرینیں چلانے کے بعد یہاں کی رونق میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔

اس اسٹیشن کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں چوڑی اور تنگ پٹریوں کا ملاپ ہوتا ہے۔
اس کے ایک جانب چوڑے گیج والی پٹری ہے جو اسے لاہور سے ملاتی ہے جبکہ دوسری جانب تنگ پٹری ہے جو ماڑی کو کالاباغ ،کمر مشانی ،عیسیٰ خیل، لکی مروت اور آگے بنوں اور پھر ٹانک سے ملاتی ہے جو اب بند کر دی گئی ہے۔ اس کی تاریخ انتہائی دلچسپ اور سبق آموز ہے۔
قصہ یوں ہے کے تاجِ برطانیہ نے ماڑی انڈس کے مقام پر اپنی فوج کے لیئے ایک اسلحہ ڈپوقائم کیا تھا۔ یہ ڈپو ان افواج کو اسلحہ فراہم کرتا تھا جو دریائے سندھ کے پار مغربی علاقوں جیسے بنوں، ٹانک، کوہاٹ اور وزیرستان میں مغربی سرحد کی حفاظت کے لیئے تعینات تھے۔ یہ ڈپو آج بھی اسٹیشن کے ساتھ قائم ہے۔ ماڑی انڈس تک اسلحہ مرکزی چوڑی پٹری کے ذریعے لایا جاتا تھا لیکن اس کے پار مغرب میں اس قسم کا نظام بنانا آسان نہ تھا سو یہاں 2 فٹ 6 انچ کی تنگ پٹری بچھائی گئی جو ماڑی تا بنوں جاتی تھی۔ آگے بنوں کو ٹانک سے برانچ لائن کے ذریعے جوڑا گیا۔ یوں ریلوے کا ایک سستا اور چھوٹا نظام وجود میں آ گیا جو برطانوی فوجوں کی سرحد تک نقل و حمل کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔


پَیشی ؛
پنیر کے بعد جس جگہ ٹرین کی پَیشی پڑتی ہے وہ ضلع کچھی بولان کا یہ چھوٹا سا قصبہ ہے۔
چھوٹی چھوٹی کٹی ہوئی پہاڑیوں کے بیچ بنایا گیا یہ ننھا سا کاٹیج نما اسٹیشن، دریائے بولان کے قریب واقع ہے اور دریا کے دوسری جانب ”بی بی نانی“ ہے جو وادئ بولان کا مشہور پکنک سپاٹ ہے۔ پیشی کی بلندی سطح سمندر سے ۴۴۵ میٹر ہے۔
یہ اسٹیشن صحرا میں موجود کسی نخلستان کا منظر پیش کرتا ہے۔
پیشی اسٹیشن کے قریبی پل پر سے جب ٹرین مڑتی ہے تو یہ منظر دیکھے لائق ہوتا ہے تبھی یہی منظر پاکستان ریلوے کی ٹکٹ پر بھی چھاپا گیا ہے۔

ان سب کے علاوہ مجھے تخت محل، پہروکنری، ہیسٹڈ پور، پنڈ دادن خان اسٹیشن کا نام۔۔۔۔۔ بہاولپور، لاہور، کندیاں، پائی خیل، اور راول پنڈی اسٹیشن کی عمارت۔۔۔۔۔۔۔ کھوکھراپار، کیماڑی، چمن اور لنڈی کوتل اسٹیشن کا جغرافیہ بھی بہت پسند ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں