جب احتیاط جمود بن جائے/محمد امین اسد

اسلامی تاریخ کا مطالعہ اگر سنجیدہ نظر سے کیا جائے تو ایک نہایت سبق آموز حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ حقیقت کسی ایک فقہی مسئلے، کسی ایک عالم یا کسی ایک خطے تک محدود نہیں، بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک اجتماعی ذہنی کیفیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ جب بھی کوئی نیا علمی، سائنسی، معاشی یا سماجی مظہر ہمارے سامنے آیا، ہمارا پہلا ردِّ عمل احتیاط سے زیادہ خوف پر مبنی رہا۔ ہم نے اس کے امکانات پر غور کرنے سے پہلے اس کے خطرات کو نمایاں کیا، اس کے مفاسد کو بیان کیا، اور اکثر اسے دین کے لیے چیلنج یا تہذیبی یلغار قرار دیا۔ پھر وقت گزرا، حالات نے دباؤ ڈالا، ضرورت نے اپنا فیصلہ سنایا، اور وہی چیز جسے کل تک ممنوع کہا جاتا تھا، آج ہمارے دینی و اجتماعی ڈھانچے کا حصہ بن گئی۔ مگر اس درمیانی وقفے میں جو ذہنی جمود پیدا ہوا، اس کے اثرات وقتی نہ تھے بلکہ دور رس ثابت ہوئے۔

اگر ہم صرف ان مسائل کے نام گنوائیں جن پر ابتدا میں ممانعت یا شدید تحفظات ظاہر کیے گئے اور بعد میں ان پر نظرِ ثانی ہوئی، تو فہرست خاصی طویل ہو جاتی ہے بلکہ کئی جلدوں تک: چھاپہ خانہ، قرآن کے تراجم، کاغذی نوٹ، جدید بینکاری، فوٹوگرافی، ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ، لاؤڈ اسپیکر، فلکی حساب سے رؤیتِ ہلال، گھڑی کے ذریعے اوقاتِ نماز کا تعین، جدید طب، ویکسینیشن، انسانی اعضا کی پیوندکاری، خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی تعلیم، خواتین کی ملازمت اور ڈرائیونگ، دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق، موسیقی کے بعض مباحات، جمہوریت اور پارلیمانی سیاست، دارالاسلام و دارالکفر کی کلاسیکی تقسیم، اور حکومت کے بغیر جہاد کے تصورات۔ ان میں سے ہر مسئلہ اپنے دور میں ایک شدید بحث کا موضوع بنا، فتاویٰ صادر ہوئے، سخت بیانات دیے گئے، اور معاشرے میں ایک خاص نوع کا اضطراب پیدا ہوا۔ مگر چند دہائیوں بعد وہی مسائل نئی تعبیرات کے ساتھ قبول کیے گئے، یا ان کے بارے میں نرم اور متوازن موقف اختیار کر لیا گیا۔

یہ کہنا نہ انصاف ہوگا کہ ہر ابتدائی فتویٰ غلط تھا۔ اہلِ علم نے اپنے زمانے کے علم، تجربے اور حالات کے مطابق اجتہاد کیا۔ ان کے سامنے بہت سے حقیقی خدشات بھی تھے۔ مثال کے طور پر جب چھاپہ خانہ آیا تو یہ اندیشہ واقعی موجود تھا کہ قرآن مجید کی طباعت میں اغلاط ہوں گی اور مقدس متن کی بے حرمتی ہوگی۔ جب ریڈیو اور ٹی وی آئے تو ان کے ذریعے فحاشی اور گمراہی پھیلنے کا خطرہ حقیقی تھا۔ جب انٹرنیٹ آیا تو اخلاقی بے راہ روی کے دروازے کھلنے کا اندیشہ محض وہم نہ تھا۔ اسی طرح جدید مالیاتی نظام میں سودی استحصال کی صورتیں واقعی موجود تھیں۔ لہٰذا احتیاط کی اصل نیت کو مشکوک قرار دینا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

لیکن مسئلہ نیت کا نہیں، مزاج کا ہے۔ اگر احتیاط عارضی ہو اور تحقیق و تجربہ کے بعد متوازن رائے اختیار کر لی جائے تو وہ علمی دیانت ہے۔ مگر اگر احتیاط عمومی مزاج بن جائے، اور ہر نئی چیز کو پہلے سے طے شدہ بدگمانی کی نظر سے دیکھا جائے، تو یہ مزاج رفتہ رفتہ تخلیقی قوت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ امتیں صرف اس بنیاد پر ترقی نہیں کرتیں کہ ان کے پاس درست اصول موجود ہوں، بلکہ اس بنیاد پر ترقی کرتی ہیں کہ وہ ان اصولوں کو بدلتے ہوئے حالات پر بروقت منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ جہاں یہ صلاحیت کمزور پڑ جائے، وہاں علمی جمود پیدا ہوتا ہے۔

مسلم تاریخ کے ابتدائی ادوار کو دیکھیے۔ وہی امت جو بعد کے زمانوں میں ہر نئی چیز سے خائف دکھائی دیتی ہے، ابتدائی صدیوں میں یونانی فلسفے کا ترجمہ کرتی ہے، ایرانی و ہندی علوم کو جذب کرتی ہے، ریاضی، فلکیات اور طب میں نئی راہیں کھولتی ہے۔ اس وقت اس کے پاس بھی نصوص وہی تھیں، اصول وہی تھے، مگر ذہنی رویہ مختلف تھا۔ وہ خطرات سے آگاہ تھی، مگر امکانات سے بھی چشم پوشی نہ کرتی تھی۔ اس نے “سدّ ذرائع” کے ساتھ “فتحِ ذرائع” کو بھی سمجھا تھا۔ بعد کے ادوار میں ہم نے دروازے بند کرنے کی صلاحیت تو برقرار رکھی، مگر دروازے کھولنے کی بصیرت کمزور پڑ گئی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جب یورپ میں طباعت عام ہوئی اور علمی انقلاب آیا، ہم اس عمل سے فاصلے پر رہے۔ جب جدید سائنسی تحقیق نے دنیا کا نقشہ بدل دیا، ہم پہلے اسے شکوک کی نظر سے دیکھتے رہے، پھر آہستہ آہستہ اسے قبول کیا۔ جب خواتین کی تعلیم نے معاشروں کی نصف آبادی کو علمی و معاشی عمل میں شریک کیا، ہم طویل بحثوں میں الجھے رہے۔ جب جدید ابلاغی ذرائع نے فکری میدان کو عالمی بنا دیا، ہم ابتدا میں پیچھے رہے، پھر اسی میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ تاخیر خود اپنے اندر ایک نقصان تھی۔ علمی دنیا میں تاخیر کا مطلب صرف چند سال پیچھے رہ جانا نہیں، بلکہ نسلوں کا فرق پیدا ہو جانا ہے۔

اس جمود کے معاشی اثرات بھی کم نہ تھے۔ جدید بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں متوازن اور بروقت فکر نہ ہونے کی وجہ سے مسلم دنیا بڑی حد تک دوسروں کے تیار کردہ نظام پر انحصار کرتی رہی۔ سائنسی تحقیق میں پسپائی نے صنعتی میدان میں کمزوری پیدا کی۔ طبی میدان میں شکوک نے بعض خطوں میں صحتِ عامہ کے مسائل کو بڑھایا۔ خواتین کی محدود شرکت نے افرادی قوت کا بڑا حصہ غیر فعال رکھا۔ یہ سب عوامل مل کر اجتماعی کمزوری کا سبب بنے۔

اس سے بھی بڑھ کر نقصان ذہنی سطح پر ہوا۔ نئی نسل نے بارہا یہ منظر دیکھا کہ جس چیز کو کل حرام یا فتنہ کہا جا رہا تھا، چند برس بعد وہی چیز مباح یا مفید قرار دی جا رہی ہے۔ اس نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا مسئلہ دین میں ہے یا ہماری تعبیر میں؟ اگر ہم نے اجتہاد کی تغیر پذیری کو خود واضح نہ کیا تو اس ابہام نے بعض ذہنوں میں دین کے بارے میں شکوک پیدا کیے۔ حالانکہ دین کی بنیادیں ثابت تھیں، تغیر انسانی فہم میں تھا۔

آج بھی یہی رجحان کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ مصنوعی ذہانت، جینیاتی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت، نئی سماجی تبدیلیاں، ان سب کے بارے میں پہلا ردِّ عمل اکثر دفاعی ہوتا ہے۔ گویا ہم نے اپنے اندر ایک غیر شعوری قاعدہ بنا لیا ہو کہ ہر نئی چیز پہلے سازش ہے، بعد میں ضرورت ہے، اور پھر معمول بن جاتی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو ہم ہمیشہ دوسروں کے بنائے ہوئے سانچوں میں اپنے آپ کو ڈھالتے رہیں گے، خود سانچے بنانے والے نہ بن سکیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فتویٰ کو جامد اور ابدی حکم سمجھنے کے بجائے اسے ایک مخصوص زمانی و مکانی سیاق میں دیا گیا اجتہاد سمجھیں۔ شریعت کے اصول غیر متغیر ہیں، مگر ان اصولوں کا اطلاق حالات کے بدلنے سے مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ اگر ہم نے اس حقیقت کو علمی دیانت کے ساتھ تسلیم کر لیا، تو نہ ہمیں ہر نئی چیز سے خوف ہوگا، نہ ہمیں بار بار دفاعی پوزیشن اختیار کرنی پڑے گی۔ ہم احتیاط بھی کریں گے، تحقیق بھی کریں گے، مگر پیش قدمی کا حوصلہ بھی رکھیں گے۔

امت کی علمی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب ہم جمود کو تقویٰ نہ سمجھیں، اور تغیر کو بغاوت نہ قرار دیں۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا تو آئندہ ہم نئی تبدیلیوں کا استقبال اصولی بصیرت کے ساتھ کر سکیں گے۔ اور اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا تو تاریخ خود کو دہراتی رہے گی، ہم پہلے انکار کریں گے، پھر تاخیر سے قبول کریں گے، اور اس دوران دنیا ایک اور قدم آگے بڑھ چکی ہوگی۔
محمد امین اسد

اپنا تبصرہ لکھیں