پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی نزاکت اور اہمیت پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلی بات جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ محض دو ہمسایہ ممالک نہیں ہیں بلکہ ایک مشترکہ تاریخ، تہذیب اور ایمان کے رشتے میں بندھی دو مسلمان برادر ریاستیں ہیں۔ سرحد کی لکیر ان کے درمیان فاصلہ نہیں بلکہ ان کے دائمی تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہ خطِ فراق کشیدگی اور بدگمانیوں کا سبب بنا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرویا ہے اور انہیں باہمی اتفاق و اتحاد کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “إنما المؤمنون إخوة فأصلحوا بين أخويكم” (المؤمنون تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو)۔ یہ حکم محض ایک وقتی مصلحت نہیں بلکہ ہر دور اور ہر صورت حال کے لیے ایک دائمی اصول ہے۔ جب دو مسلم گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان صلح کرائیں۔ آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشیدگی ہے، وہ اس قرآنی حکم کو ہمارے سامنے ایک عملی مسئلہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اس برادرانہ صلح کی ذمہ داری اٹھائے؟ کس کی وساطت سے دونوں طرف کی تلخیاں دور ہو سکتی ہیں اور بھائی چارے کا وہ رشتہ بحال ہو سکتا ہے جس کا تقاضا ہمارا دین اور ہماری مشترکہ تاریخ ہے؟
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر ہر ممکن کوشش کی ہے۔ براہ راست مذاکرات ہوئے، دوست ممالک کو ثالث بنایا گیا، علما کرام کے ذریعے پیغامات بھیجے گئے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ تھما نہیں اور پاکستان کو اپنے بے گناہ شہریوں اور جوانوں کی قیمتی جانوں کا ماتم کرنا پڑا۔ یہ صورت حال ریاست کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے کیونکہ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر خطرے کے مراکز سرحد پار قائم ہوں تو صبر اور تحمل کی پالیسی بھی ایک حد تک ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس کے باوجود ہر عقل سلیم رکھنے والا جانتا ہے کہ جنگ اور تصادم کبھی بھی پہلی ترجیح نہیں ہوتے۔ طاقت کا استعمال آخری علاج ہے، پہلا نہیں۔ پاکستان نہ افغانستان کی تباہی چاہتا ہے اور نہ خطے میں مستقل محاذ آرائی کا خواہاں ہے۔ اگر کبھی کسی مجبوری میں سخت قدم اٹھانا پڑے تو وہ مجبوری کا اظہار ہوگا، پالیسی کا نصب العین نہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مفاہمت اور صلح کے ہر ممکن دروازے کو کھٹکھٹایا جائے۔ آج ضرورت ہے کہ رسمی سفارت کاری کی حدود کو عبور کرتے ہوئے غیر رسمی اور شخصی روابط سے بھی استفادہ کیا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے مفادات اس بات کے متقاضی ہیں کہ سرحد کشیدگی کی لکیر نہ رہے بلکہ تعاون اور خوشحالی کی راہداری بنے۔ افغانستان کو عالمی تنہائی سے نکلنے اور معاشی بحالی کی اشد ضرورت ہے، اور پاکستان کو داخلی استحکام اور علاقائی امن درکار ہے۔ اس مساوات میں تصادم نہیں بلکہ مفاہمت ہی دانش مندی کا تقاضا ہے۔
اسی مقام پر مولانا فضل الرحمان کی شخصیت خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ انہیں افغان قیادت تک وہ رسائی حاصل ہے جو عام سیاستدانوں کو میسر نہیں۔ قندھار میں امیرالمؤمنین مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ سے ان کی گذشتہ خصوصی ملاقات محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ اعتماد اور قربت کی علامت تھی۔ افغان قیادت کا محدود حلقہ ملاقات کسی بیرونی شخصیت کے لیے آسانی سے وا نہیں ہوتا۔ اس سے مولانا کی شخصی وقعت اور ان کے اثر و رسوخ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مولانا کی سیاست کا مرکزی وصف ان کی دور اندیشی ہے۔ وہ معاملات کو وقتی جذبات کی سطح پر نہیں بلکہ طویل المدت نتائج کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے ان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ وہ بارہا اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کی باہمی کشیدگی کا فائدہ کوئی تیسرا اٹھا سکتا ہے، مگر نقصان براہ راست دونوں اقوام کو ہوگا۔ ان کی سفارتی حکمت کا جوہر یہ ہے کہ وہ مشکل سے مشکل پیغام کو بھی خیر خواہی اور اخلاص کے لہجے میں پیش کرتے ہیں۔ کابل میں گفتگو کرتے ہوئے وہ پاکستان کے موقف کو واضح اور دوٹوک انداز میں رکھتے ہیں، مگر اس میں تلخی نہیں ہوتی بلکہ نصیحت اور اصلاح کی فکر ہوتی ہے۔ سفارت کاری کا اصل کمال یہی ہے کہ پیغام کی سختی لہجے کی نرمی میں تحلیل ہو جائے اور مخاطب اسے الزام نہیں بلکہ خیر خواہانہ مشورہ سمجھے۔
افغان حکمرانوں کے ساتھ مولانا کے روابط محض نظریاتی ہم آہنگی تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے تجارت، سرحدی نظم، مہاجرین کے مسائل اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں جیسے انتہائی حساس موضوعات پر ان کے ساتھ براہ راست گفتگو کی ہے۔ یہ طرز عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مسائل کو نعروں اور جذبات سے نہیں بلکہ عملی حکمت عملی اور استدلال سے حل کرنے کے قائل ہیں۔
اب پاکستان کے لیے یہ غور و فکر کا مقام ہے کہ کیا ایسے شخصی روابط کو ریاستی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے؟ رسمی سفارتی چینل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر بعض اوقات پردۂ اخفا میں کی جانے والی سفارت کاری وہ نتائج دے دیتی ہے جو کھلے عام ہونے والے مذاکرات سے حاصل نہیں ہوتے۔ مولانا فضل الرحمان کی حیثیت ایک ایسے پل کی ہے جو کابل اور اسلام آباد کے بیانیوں کے درمیان فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔ وہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے آشنا کرا سکتے ہیں اور غلط فہمیوں کے پردے چاک کر سکتے ہیں۔
افغان قیادت کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا اور ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ سرحد کے ایک جانب بدامنی ہو تو دوسری جانب بھی اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ متوازن اور دوستانہ تعلقات افغانستان کے لیے معاشی اور سیاسی دونوں اعتبار سے ناگزیر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اس حقیقت کو افغان حکمرانوں کے سامنے اس انداز میں رکھ سکتے ہیں جس میں الزام کم اور خیر خواہی زیادہ ہو۔
سیاست میں بعض شخصیات اپنی جماعتی قوت سے زیادہ اپنی ذاتی وقعت، تجربے اور روابط کی وجہ سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا تجربہ، ان کی روابط سازی کی مہارت اور ان کا متوازن اسلوب انہیں اس قابل بناتا ہے کہ وہ انتہائی کشیدہ ماحول میں بھی مکالمے کی راہ ہموار کر سکیں۔ ان کی اس صلاحیت کو داخلی سیاست کے تنگ ترازو میں تولنا دانش مندی نہیں، بلکہ اسے علاقائی امن اور مسلم امہ کی مصلحت کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
آج جب پورا خطہ ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے، حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر وہ دروازہ کھٹکھٹایا جائے جس سے امن کی کوئی کرن پھوٹ سکتی ہو۔ جنگ کا راستہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے، مگر دانش مند اقوام وہ ہیں جو طاقت کے باوجود مفاہمت کو ترجیح دیتی ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمان کی دور اندیشی اور افغان قیادت کے ساتھ ان کے گہرے روابط کو بروئے کار لایا جائے تو امید ہے کہ کشیدگی کی موجودہ فضا نرم ہو سکتی ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ تاریخ انہیں کو امن کا معمار قرار دیتی ہے جو تصادم کے شور و غل میں بھی حکمت اور دانائی کا چراغ روشن رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد امین اسد


