لیڈر بننے کا سفر اعتماد سازی: دل جیتنے کی اصل طاقت(8)-مصور خان

قیادت کا آغاز اختیار سے نہیں بلکہ اعتماد سے ہوتا ہے۔ لوگ کسی کے حکم پر وقتی طور پر چل سکتے ہیں، مگر دل سے صرف اسی کے ساتھ چلتے ہیں جس پر انہیں یقین ہو۔ وژن راستہ دکھاتا ہے، کردار انسان کی بنیاد بناتا ہے اور دیانت اس بنیاد کو مضبوط کرتی ہے، مگر اعتماد وہ رشتہ ہے جو لیڈر اور لوگوں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ جب یہ رشتہ قائم ہو جائے تو مشکل فیصلے بھی قبول ہو جاتے ہیں، اور جب یہ ٹوٹ جائے تو بہترین منصوبے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اعتماد تقریروں سے پیدا نہیں ہوتا، رویّوں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک لیڈر کی بات اور عمل میں جتنا فاصلہ کم ہو گا، اتنا ہی اعتماد بڑھے گا۔ لوگ الفاظ بھول جاتے ہیں مگر رویہ یاد رکھتے ہیں۔ اسی لیے قیادت کا پہلا عملی امتحان یہ نہیں کہ لیڈر کیا کہتا ہے بلکہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی اعتماد سازی کی بے مثال مثال ہے۔ نبوت سے پہلے بھی مکہ کے لوگ اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھتے تھے۔ ہجرت کی رات جب دشمن جان لینے کے درپے تھے تب بھی کئی لوگوں کی امانتیں آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے مدینہ روانہ ہونے سے پہلے حضرت علیؓ کو اسی لیے مکہ میں ٹھہرایا کہ وہ سب امانتیں ان کے اصل مالکان تک واپس پہنچا دیں۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اعتماد دشمنی سے بھی بڑا رشتہ ہوتا ہے — hatred کے باوجود لوگ امانت اسی کے پاس رکھتے ہیں جس پر یقین ہو۔
جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی قیادت بھی اعتماد کی بنیاد پر کھڑی تھی۔ 27 سال قید کے بعد جب وہ صدر بنے تو لوگوں کو توقع تھی کہ وہ انتقام لیں گے، مگر انہوں نے جیل کے اپنے محافظوں کو صدارتی تقریب میں مدعو کیا۔ اس عمل نے سفید فام اقلیت کو خوف سے نکالا اور سیاہ فام اکثریت کو ضبط سکھایا۔ ایک تقریب نے برسوں کی نفرت کم کر دی، کیونکہ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ رہنما بدلہ نہیں بلکہ مستقبل چاہتا ہے۔
برصغیر میں خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے اعتماد کا رشتہ تشدد کے بغیر قائم کیا۔ خدائی خدمتگار تحریک کے کارکن نہتے رہتے تھے۔ ایک موقع پر برطانوی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی مگر کارکن بھاگے نہیں۔ یہ باچا خان کی تقریر کا اثر نہیں تھا بلکہ برسوں کے اخلاقی تعلق کا نتیجہ تھا—لوگ جانتے تھے کہ ان کا رہنما انہیں اپنی خاطر نہیں بلکہ ان کی خاطر کھڑا کر رہا ہے، اس لیے وہ اس کے ساتھ ڈٹے رہے۔
امریکہ میں ابراہم لنکن کی مثال بھی اعتماد کی قوت کو ظاہر کرتی ہے۔ خانہ جنگی کے دوران انہوں نے اپنی کابینہ میں اپنے سخت سیاسی مخالفین کو شامل کیا۔ لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ دشمنوں پر کیسے بھروسا کیا جا سکتا ہے؟ لنکن نے جواب دیا کہ “مجھے ذاتی وفاداری نہیں، قومی وفاداری چاہیے۔” یہی فیصلہ بعد میں قومی اتحاد کا سبب بنا، کیونکہ قوم نے دیکھا کہ لیڈر اپنی انا سے زیادہ ملک کو ترجیح دے رہا ہے۔
یوراگوئے کے صدر خوسے موخیکا جدید دور میں اعتماد کی سادہ مثال بنے۔ انہوں نے صدارتی محل میں رہنے کے بجائے اپنے چھوٹے فارم ہاؤس میں رہائش رکھی اور اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ فلاحی کاموں میں دے دیا۔ عوام کے لیے یہ معاشی پالیسی نہیں بلکہ کردار کا پیغام تھا—جب لیڈر اپنی زندگی میں سادگی اختیار کرتا ہے تو لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ ان کے وسائل محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
اعتماد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ طاقت سے نہیں جیتا جا سکتا۔ خوف اطاعت پیدا کرتا ہے، مگر اعتماد وابستگی پیدا کرتا ہے۔ خوف ختم ہوتے ہی اطاعت ختم ہو جاتی ہے، مگر اعتماد وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے تاریخ میں وہی قیادت باقی رہی جس نے دل جیتے، صرف نظام نہیں چلایا۔
اعتماد ٹوٹنے میں ایک لمحہ لگتا ہے اور بننے میں برسوں۔ ایک غلط بیانی، ایک وعدہ خلافی یا ایک خود غرض فیصلہ پورے رشتے کو ختم کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک سچا عمل خاموشی سے ہزار تقاریر سے زیادہ اثر پیدا کرتا ہے۔ لوگ کامل لیڈر نہیں چاہتے، مگر قابلِ یقین لیڈر ضرور چاہتے ہیں۔
قیادت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ مشکل وقت میں لوگ لیڈر کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر لوگ حالات کے بدلتے ہی ساتھ چھوڑ دیں تو سمجھنا چاہیے کہ اطاعت تھی، اعتماد نہیں تھا۔ لیکن اگر لوگ نقصان کے باوجود ساتھ رہیں تو یہ اعتماد کی نشانی ہے۔
اعتماد سازی دراصل دلوں کی تعمیر ہے۔ جب لیڈر لوگوں کو یہ یقین دلا دے کہ اس کے فیصلے ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ مشترکہ بھلائی کے لیے ہیں تو قیادت مضبوط ہو جاتی ہے۔ اسی مقام پر اختیار حکم سے خدمت میں بدل جاتا ہے اور قیادت محض عہدہ نہیں بلکہ تعلق بن جاتی ہے۔ یہی تعلق “لیڈر بننے کا سفر” کو حقیقی معنوں میں کامیاب بناتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں