باہمی فنا کاری۔۔صادقہ نصیر

باہمی فنا کاری
باہمی بقا اور عالمی محبت کے پاسداروں کو
کیا معلوم کہ؛
ہم سب مرے ہوئے لوگ ہیں
ہم کچھ نہیں سوچتے۔ سوچتے ہیں تو کچھ نہیں بولتے ،
بولتے ہیں تو کچھ نہیں تولتے،
تولتے ہیں تو؛ دوسروں کے بولنے کو تولتے ہیں۔
دوسروں کو تول کر ؛
ہم دوسروں کو مار دیتے ہیں ،
یا دوسروں کو کہتے ہیں کہ انہیں ماردو،
اور وہ بے ارتقا بندر کہنا مان لیتے ہیں ۔
باہمی فنا کاری کا سلسلہ
ہم میں سے بہت سے
سوچنے اور بولنے والے لوگوں کو فنا کر چکا ہے۔
ہم سب اب بے زبان لاشیں ہیں ۔
زندہ لوگوں کے لباسوں میں ۔
ناطقہ بند مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ تہذیب کی چیخ ہے۔۔
صادقہ نصیر
اپنا تبصرہ لکھیں