اسلام آباد کا ماسٹر سٹروک/ڈاکٹر جواد ریاض

سنا تھا دو ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیاں ماری جاتی ہیں مگر وہی چیونٹی جب حکمت سے کام لیتی ہے تو پورا ہاتھی بھی گرا لیتی ہے۔ پاکستان آجکل وہی چیونٹی ثابت ہوا ہے جس نے بیک وقت اپنی حکمت، سفارتی فہم اور حوصلہ مند قیادت کی بدولت امریکا، ایران، سعودی عرب، افغانستان اور بھارت جیسے سب ہاتھی گرا دیے ہیں۔

وہ پاکستان جسے 9 مئی 2024 گزرنے کے بعد اپنے وجود کے بھی لالے پڑے ہوئے تھے پھر 9 مئی 2025 کے دن اس ملک کے لیے ایک نیا سورج طلوع ہوا۔ اور اسکی روشنی سے بھارت ہی کیا پوری دنیا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ پاک بھارت جنگ روکوانے پر پاکستان کی طرف سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا اتنا بڑا ماسٹر سٹروک تھا کہ اس کے نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔ پاکستانی قیادت کو لعن تعن کرنے والوں نے اب زبانیں دانتوں کے نیچے داب لی ہیں۔

ایران۔امریکا جنگ میں دو دن پہلے تک تہذیبوں کو مٹایا جا رہا تھا۔ ایران جنگ کو جوابی وار کے طور پر ریجن تک لے جانے کی بات کر رہا تھا۔ اس سب میں ظاہر ہے دونوں اطراف نے بہت نقصان بھی اٹھایا مگر پاکستان کے لیے یہ صورتحال سب سے زیادہ اعصاب شکن تھی۔ ایک طرف ہمسایہ ملک۔ کہا جاتا ہے آپ دوست دشمن بدل سکتے ہیں ہمسائے نہیں۔ دوسری طرف دفاعی پارٹنرز کی امیدیں اور دھمکیاں ۔ پاکستان کے لیے تو آگے کنواں پیچھے کھائی والی بات تھی۔ اور پاکستان کا نصیب دیکھیں پاکستان نے ایران اور امریکہ کو فیس سیونگ دی۔ یو اے ای کا احسان اسکے منہ پر مار کہ اقوام متحدہ میں وہی کیا جو اسکو کرنا چاہیے تھا۔ افغانستان کو سبق سکھا کر اب اچھے بچوں کی طرح چین کا لیکچر سن رہے ہیں۔ رہ گیا بھارت تو اسکے ساتھ تو اگلے پچھلے سارے کھاتے پورے کر دئے ہیں۔ ٹی از فنٹاسٹک سے چھ طیارے اور اب پاکستان کا بین الاقوامی ثالث کے طور پر ابھرنا بھارت کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔

پاکستان نے ان حالیہ دہایئوں میں کیا کیا نہیں دیکھا۔ کبھی پاکستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کہا گیا۔ بین الاقوامی سیاست میں ہر واقعہ ہم سے جوڑا گیا۔ ہر سبز پاسپورٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ناکام ریاست تک پکارا گیامگر سب کا دن آتا ہے اور آج اسلام آباد کا دن ہے۔
پچھلے سال بھارت کی منجی ٹھوکنے سے آبنائے ہرمز کھلوانے تک پاکستان کا ہر سٹروک ماسٹر سٹروک ہے۔
نہ لندن میں نہ پیرس میں دنیا کی نگاہیں لگی ہیں بیجنگ اور اسلام آباد میں۔ قائداعظم زندہ ہوتے تو دیکھتے آج واقعی ہی اقوام عالم کے فیصلے اسلام آباد میں ہو رہے ہیں تو پاکستانی ہونے پر فخر کر کے جیو۔

اپنا تبصرہ لکھیں