پروٹوکول سے پرے: آغا خان قیادت، عالمی اثرورسوخ اور پاکستان/محمد امین اسد

پروٹوکول سے پرے: آغا خان قیادت، عالمی اثرورسوخ اور پاکستان

پاکستان میں جب بھی اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا آغا خان کی آمد ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر غیر معمولی پروٹوکول، اعلیٰ حکومتی شخصیات کی موجودگی اور میڈیا کی خصوصی توجہ ایک عمومی منظر بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک مذہبی رہنما کو ایسا مقام کیوں حاصل ہے جو بعض اوقات سربراہانِ مملکت کے استقبال سے مشابہ دکھائی دیتا ہے؟ کیا یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ دنیا بھر کے کروڑوں اسماعیلیوں کے روحانی امام ہیں، یا اس کے پیچھے کوئی گہرا عالمی، معاشی، سفارتی اور سیاسی پس منظر بھی موجود ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب محض مذہبی وابستگی میں نہیں بلکہ جدید دنیا کے اس بدلتے ہوئے نظام میں پوشیدہ ہے جہاں طاقت صرف فوج، سیاست اور معیشت سے نہیں بلکہ “سافٹ پاور”، عالمی نیٹ ورکس، فلاحی اداروں اور بین الاقوامی اعتماد سے بھی جنم لیتی ہے۔

آغا خان خاندان کو اگر صرف ایک مذہبی قیادت کے دائرے میں سمجھا جائے تو یہ تصویر کا ادھورا رخ ہوگا۔ گزشتہ ایک صدی میں اس خاندان نے ایک ایسا عالمی ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جسے دنیا “آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ نیٹ ورک ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک میں صحت، تعلیم، دیہی ترقی، ثقافتی ورثے، مائیکروفنانس اور انسانی بہبود کے شعبوں میں سرگرم ہے۔ جدید دنیا میں وہ شخصیات یا ادارے جو کمزور ریاستوں کے اندر تعلیم، صحت اور سماجی استحکام کے خلا کو پُر کریں، انہیں صرف خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک “اسٹریٹجک پارٹنر” سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ممالک آغا خان قیادت کو محض مذہبی امام نہیں بلکہ ایک عالمی ترقیاتی شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ کے بعض علاقوں میں آغا خان نیٹ ورک نے جو کام کیا، وہ محض چند رفاہی منصوبوں تک محدود نہیں رہا۔ ان علاقوں میں سڑکیں، پل، مائیکرو ہائیڈل منصوبے، اسکول، ہسپتال، خواتین کی تعلیم، دیہی تنظیمیں اور مائیکروفنانس کے ایسے ماڈلز متعارف کرائے گئے جنہوں نے مقامی معاشرت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ خاص طور پر آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے شمالی پاکستان میں کمیونٹی بیسڈ ڈیویلپمنٹ کا ایسا تصور پیش کیا جسے بعد میں کئی عالمی اداروں نے بطور ماڈل اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست کے پالیسی ساز حلقوں میں آغا خان نیٹ ورک کو ایک سنجیدہ، منظم اور دیرپا شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح آغا خان یونی ورسٹی اور اس سے وابستہ طبی و تعلیمی ادارے پاکستان کے اعلیٰ ترین اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ کراچی میں قائم آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے پاکستان میں جدید طبی تعلیم اور صحت کے نظام میں جو کردار ادا کیا، اس کا اعتراف ناقدین بھی کرتے ہیں۔ ہزاروں پاکستانی ڈاکٹرز، نرسز اور ماہرین انہی اداروں سے تربیت حاصل کرکے دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی شخصیت ملک میں صحت، تعلیم اور معیشت کے شعبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور ہزاروں افراد کے روزگار سے جڑی ہو تو ریاستی سطح پر اس کے لیے خصوصی احترام اور پروٹوکول غیر معمولی بات نہیں رہتی۔

یہ پہلو بھی اہم ہے کہ آغا خان خاندان کو مغربی دنیا، یورپ، کینیڈا اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں میں ایک معتدل، تعلیم دوست اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور مختلف عالمی ڈونر ایجنسیاں ان کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتی رہی ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے کرداروں کی اہمیت صرف مذہبی نمائندگی سے نہیں بلکہ ان کے عالمی رابطوں، سفارتی رسائی اور اعتماد سازی کی صلاحیت سے متعین ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک، جو بیرونی سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون اور عالمی ساکھ کے محتاج ہوتے ہیں، ان شخصیات کے ساتھ قریبی تعلقات کو اپنے قومی مفاد کا حصہ سمجھتے ہیں۔

یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اسماعیلی کمیونٹی کی اپنی سماجی ساخت نے بھی اس احترام میں کردار ادا کیا۔ پاکستان میں اس برادری کو عمومی طور پر تعلیم یافتہ، منظم، معاشی طور پر متحرک اور ریاستی نظم و قانون کا احترام کرنے والی کمیونٹی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی ہر ریاست ان طبقات اور قیادتوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے جو استحکام، تعلیم، معاشی سرگرمی اور سماجی نظم میں مثبت کردار ادا کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی قیادت کو پاکستان میں ہمیشہ ایک سنجیدہ اور باوقار مقام حاصل رہا۔

البتہ اس تمام بحث کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ بعض حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کسی مذہبی یا سماجی قیادت کو غیر معمولی پروٹوکول دینا ایک مساوی ریاستی رویہ ہے؟ کیا دیگر مذہبی یا سماجی شخصیات کو بھی اسی معیار پر پرکھا جاتا ہے؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں اور ایک جمہوری معاشرے میں ان پر گفتگو ہونی چاہیے۔ مگر یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے کہ جدید عالمی سیاست میں احترام اور اثرورسوخ صرف آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ ادارہ سازی، عالمی روابط، معاشی طاقت، سماجی خدمات اور سفارتی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ آغا خان قیادت اسی حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے۔

پاکستان کو بھی اس پورے معاملے کو جذبات یا سازشی نظریات کی عینک سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا اب صرف توپ، ٹینک اور اقتدار کے ایوانوں سے نہیں چلتی بلکہ یونیورسٹیوں، اسپتالوں، فلاحی نیٹ ورکس، بین الاقوامی اعتماد اور سماجی سرمایہ کاری سے بھی چلتی ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ لیتی ہیں وہ عالمی منظرنامے میں باوقار مقام حاصل کرلیتی ہیں، اور جو صرف نعروں میں الجھی رہتی ہیں وہ تاریخ کے حاشیوں میں گم ہوجاتی ہیں۔
محمد امین اسد

اپنا تبصرہ لکھیں