اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں گزرنے والے یہ اکیس گھنٹے محض ایک ملاقات نہ تھے، بلکہ ایک طویل تاریخ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ایک ایسے قضیے کی ابتدائی گرہیں کھولنے کی کوشش تھے جو تقریباً نصف صدی سے عالمی سیاست کا محور بنا ہوا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے جے ڈی وانس نے روانگی سے قبل جس صاف گوئی کے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ “ہم نے سنجیدہ گفتگو کی مگر معاہدہ نہ ہو سکا”، وہ دراصل اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ مسئلہ کسی ایک نشست یا چند گھنٹوں میں حل ہونے والا نہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا زیادہ قرینِ انصاف ہے کہ دروازہ بند نہیں ہوا، بلکہ پہلی بار ایک ایسا فریم ورک سامنے آیا ہے جس میں آئندہ بات چیت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ محض میزبانی کا نہیں بلکہ ذمہ دار سفارتکاری کا امتحان تھا، جسے اس نے وقار کے ساتھ ادا کیا۔ نہ صرف امریکی بلکہ ایرانی وفد کے قائدنے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان پل بننا خود ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ کردار ادا کر کے نہ صرف اپنے سفارتی وزن کو بڑھایا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ وہ محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ثالث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مذاکرات کے بنیادی اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکہ کا مطالبہ واضح ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم افزودگی، سے دستبردار ہو جائے، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے عالمی قوانین کے تحت اس کا حق حاصل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں بیانیے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور جہاں سے کسی بھی پیش رفت کی راہ دشوار ہو جاتی ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر اصولی مؤقف کو اسی شدت کے ساتھ برقرار رکھنا ہی دانشمندی ہے، یا کبھی کبھی حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہی اصل حکمت ہوتی ہے؟ ایران کے لیے یہی وہ لمحہ ہے جہاں اسے اپنے قومی مفاد کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک لچکدار راستہ اختیار کرے، تو اس کے بدلے میں اسے جو معاشی مواقع میسر آ سکتے ہیں، وہ اس کے عوام کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہو سکتے ہیں۔
ایران ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، خصوصاً تیل و گیس، سے مالا مال ہے۔ مگر پابندیوں کی زنجیروں نے اس کی معیشت کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر یہ پابندیاں ختم ہو جائیں تو ایران نہ صرف اپنی معیشت کو بحال کر سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔ یہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کا ماضی میں تجربہ ہو چکا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اس ممکنہ پیش رفت کے اثرات غیر معمولی ہوں گے۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن، جو برسوں سے تعطل کا شکار ہے، عملی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ سستی توانائی کی فراہمی نہ صرف صنعتی ترقی کو تیز کرے گی بلکہ مہنگائی کے بوجھ کو بھی کم کرے گی۔ یوں ایک ایسا اقتصادی سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس کے اثرات عام آدمی تک محسوس ہوں گے۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان ایک نہایت نازک جغرافیائی اور سفارتی توازن میں کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران، دوسری جانب سعودی عرب، اور عالمی سطح پر چین اور ریاست ہائے متحدہ جیسے طاقتور ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات جڑے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ وہ کشیدگی کے بجائے مفاہمت کو فروغ دے، کیونکہ خطے میں امن ہی اس کے اپنے استحکام کی ضمانت ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سفارتکاری ایک صبر آزما عمل ہے۔ جیسا کہ کارل وان نے کہا تھا کہ جنگ دراصل سیاست کا تسلسل ہے، مگر پرتشدد ذرائع سے۔ اسی اصول کو الٹ کر دیکھا جائے تو مذاکرات دراصل جنگ کو روکنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ ایک یا دو نشستوں میں دہائیوں پر محیط تنازعات حل ہو جائیں گے، حقیقت پسندی نہیں۔
اس تناظر میں اسلام آباد کے یہ مذاکرات ناکامی نہیں بلکہ ایک ابتدائی مرحلہ ہیں۔ ایک ایسا مرحلہ جس میں فریقین نے ایک دوسرے کی سرخ لکیروں کو سمجھا، اپنے مؤقف واضح کیے، اور یہ طے کیا کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی کسی بھی پیش رفت کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔
تاہم اس پورے عمل میں خطرات بھی کم نہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اس کا فائدہ ان قوتوں کو ہو گا جو خطے میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔ ازرائیل کی پالیسیوں اور بھارت کے بعض حلقوں کی خواہش یہی ہے کہ خطہ مسلسل کشیدگی کا شکار رہے، تاکہ پاکستان اور دیگر ممالک اپنی داخلی ترقی پر توجہ نہ دے سکیں۔
ایسے ماحول میں میڈیا کے بعض حلقوں، خصوصاً بھارتی میڈیا، کی جانب سے پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے کی کوششیں بھی اسی بڑی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے، اور اس کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔
ایران کے لیے اس موقع پر سب سے اہم سوال یہی ہے کہ وہ اپنے طویل المدتی مفاد کو کس طرح دیکھتا ہے۔ کیا وہ ایک محدود مگر متنازع جوہری صلاحیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے، یا ایک کھلی معیشت، عالمی روابط، اور خطے میں قائدانہ کردار کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے؟ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ دوسرے راستے کا انتخاب کرے۔
اگر ایران ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کے معاملے میں لچک دکھاتا ہے، تو یہ صرف اس کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی ابتدا ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا دور جس میں تجارت، توانائی، اور باہمی انحصار جنگ اور کشیدگی کی جگہ لے لیں۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں سب کا فائدہ ہے، اور نقصان کسی کا نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب فیصلے صرف حال کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر کو بھی بدل دیتے ہیں۔ آج ایران، امریکہ اور اس پورے خطے کے سامنے ایسا ہی ایک لمحہ کھڑا ہے۔ اگر اسے حکمت، صبر اور دور اندیشی کے ساتھ سنبھال لیا جائے تو یہ خطہ واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے, امن، خوشحالی اور استحکام کے دور میں۔
محمد امین اسد


