امریکہ ‘اسرائیل اور ایران کی جنگ کے بارے میں مکالمہ: ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر منظر حسین

ڈاکٹر خالد سہیل کا خط۔۔
محترمی و معظمی ڈاکٹر منظر حسین منظر صاحب !
میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے نوجوانی کا وہ دور یاد آ جاتا ہے جب ہم دونوں خیبر میڈیکل کالج کے طالب علم ہوا کرتے تھے اور دختران خوش گل کی مدح میں غزلیں اور نظمیں لکھا کرتے تھے۔ میں آپ کی شاعری کا شروع سے ہی مداح تھا۔ مجھے آپ کے دو اشعار آج بھی یاد ہیں جو کچھ یوں ہیں
؎ غمزدہ ہوں اداس رہنے دو
یاس کو محو یاس رہنے دو
میری خوشیاں تو چھین لیں تم نے
میرے غم میرے پاس رہنے دو
پھر ہم دونوں پاکستان سے ایران چلے گئے۔ فرق یہ تھا کہ ایران میں میرا قیام عارضی تھا اور دو سال بعد میں ایران سے کینیڈا چلا آیا لیکن آپ نصف صدی کے بعد آج بھی اپنی اہلیہ ‘اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں کے ساتھ ایران میں قیام پزیر ہیں۔ آپ نے ایران میں شاہ کا دور بھی دیکھا اور خمینی کا انقلاب بھی جھیلا۔
اس سال اٹھائیس فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا اور جنگ کا آغاز ہوا تو میں آپ کے بارے میں فکرمند ہو گیا۔ مجھے خطرہ تھا کہ جس طرح اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے کہیں امریکہ اس عمل کو ایران میں نہ دہرائے۔ وہ خطرہ عارضی طور پر ٹلا ہے پوری طرح ختم نہیں ہوا ۔
امریکہ کا خیال تھا کہ وہ چند دن کی جنگ لڑ کر وینی زویلا کی طرح ایران کی حکومت کا تختہ الٹ دے گا ۔ شاہ ایران کے بیٹے کو واپس ایران بھیج کر اور اپنی مرضی کی حکومت بنا کر ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لے گا لیکن اسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ ایران کی حکومت امریکہ کی بھرپور مزاحمت کرے گی اور اس کے سامنے ایک آہنی دیوار بن جائے گی۔ پچھلے چند ہفتوں کی جنگ میں جہاں ساری دنیا کے سامنے امریکہ ذلیل و خوار ہوا ہے وہیں ایران سرخ رو اور باوقار ہوا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ امریکہ کو ایسی شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے اوراس کا غرور و تکبر خاک میں مل گیا ہے۔امریکہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایران ایک طویل عرصے سے ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔
حضور والا !
ہم تو دور دور سے ایران کے بارے میں سوشل میڈیا ‘ ٹیلی ویژن اور یو ٹیوب پر اڑتی اڑاتی ایرانیوں کی دلیری اور بہادری کی خبریں سن رہے ہیں لیکن آپ تو ان ایرانیوں کے ساتھ نصف صدی سے رہ رہے ہیں۔ آپ زمینی حقائق سے ہم سب سے زیادہ واقف ہیں۔
میری خواہش ہے کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ
اس جنگ سے پہلے ایرانیوں کی سماجی اور سیاسی صورت حال کیا تھی ؟
جنگ کی وجہ سے ان میں کیا نفسیاتی تبدیلی آئی ہے؟ جنگ کے دوران ایرانی حکومت کا رویہ عوام کے ساتھ کیسا رہا؟
اس جنگ کے امریکہ پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
آپ کے ادبی و سیاسی محبت نامے کا انتظار رہے گا۔
آپ کی شخصیت اور شاعری کا مداح
خالد سہیل
کینیڈا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر منظر حسین کا جواب

پیارے درویش دانشور دوست، ڈاکٹر خالد سہیل:
سدا مسکراتے رہو۔
2012 میں جب چالیس سال بعد اپنی نوجوانی کے بنگالی دوستوں سے ملاقات میں ” آپ ” کہہ کر خطاب کیا تو سامنے سے مخلصانہ جواب آیا :
“تم ہمارے ساتھ ایرانی تکلف تو نہ کرو یار ” ۔
1971 کے جبری رخصت اور 1972 کی رنج تنہائی میری زندگی کا ایک خوبصورت دور تھا جب میں نے تم اور تمہارے جیسے مخلص ساتھیوں سے زندگی کے حقائق سیکھے۔
” سبز پتے ” والے منظر سے “سرخ دائرہ ” والا سہیل مخاطب ہوا۔
(نوٹ : اشارہ خیبر میڈیکل کالج کے مشاعرے کی طرف ہے جس میں خالد سہیل کو پہلا انعام اور منظر حسین کو دوسرا انعام ملا تھا)
تو عرض کیا ہے کہ :
عشق سفر میں، سنگ راہ، چور کر گئے،
ترک وطن کے درد کو یوں دور کر گئے ۔
عہد شباب،علم و ہنر، شمع بزم یار ،
ظلمت کدہ ء یاس کو پرنور کر گئے۔
…………………………….

آج تیسری عالمی اقتصادی جنگ کا مرکز ایران ہی ہے جہاں ظاہرا دو مہینے لیکن در حقیقت وبائی کورونا کے بعد یعنی پچھلے چھ سال سے سرد جنگ جاری ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ زندگی کی آٹھویں دہانی میں بھی مجھے پانچویں بار جنگ کے شدید بحران کا سامنا کرکے، صبر ، شکر استقامت اور احترام انسانیت کی طاقت سے کامیابی حاصل ہے۔
بہر حال، آجکل یہاں عوام و خواص سب اس جنگ سے پریشان مگر اپنی انا پر آڑے ہوئے ہیں۔
اپنی ریٹائرڈ زندگی کی سرگرمیوں میں دیہاتی زمین پر کھیتی، کسان مزدوروں سے سروکار، ہفتے وار، فلاحی درمانگاہ میں غریب مریضوں سے واسطہ ، اپنے کلینیک میں ضعیف العمر دل کے بیماروں کو مشورہ اور کاسمیٹک سرجری کروانے والی دولتمند جوان خواتین کے پیش از جراحی معائنہ قلب کے کاموں میں مصروف رہتا ہوں۔ اس طرح یہاں کی آبادی کے ہر طبقہ کے لوگوں کے ساتھ میرا میل جول ہے۔
آجکل لوگوں کے اعصاب متزلزل ہیں مگر اخلاق و آداب معاشرت نبھاتے ہوئے ہر شخص اپنی اپنی حسرت اور آرزو کے حصول کا منتظر ہے۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ:
” من مست و تو دیوانہ،
ما را کی برد خانہ؟ ”

اس مقدمه‌ کے بعد ، ایران کے موجودہ سماجی، سیاسی نفسیاتی حالات سے متعلق سوالوں کے جواب قدرے تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔
(نوٹ : میری آنکھوں دیکھی کتھا کا ایڈیٹر یا پڑھنے والوں کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)
……………………………………

ڈیر ڈاکٹر سہیل
موجودہ جنگ سے پہلے ایران کے سماجی اور سیاسی حالات کو سمجھنے کے لئے اسلامی انقلابی حکومت کی چالیس سالہ تاریخ کے مختلف ادوار کو جاننا ضروری ہے۔

پہلا دور امام خمینی کا جس میں شاہ ایران کے درباری اور حمایتیوں نے ملک سے فرار ہو کر امریکہ کینیڈا اور یورپی ممالک میں پناہ لی۔

دوسرا دور ایران عراق جنگ اور بائیں بازو کے مجاہدین خلق کے جوانوں کی ناکام ضدانقلاب تحریک آزادی ، جس کے بعد سینکڑوں ایرانی جوان مارے گئے اور ہزاروں نے عراق اور یورپ بھاگنا مناسب سمجھا۔
اسی دس سال میں غیر اسلامی غیر شیعہ اقلیت( سنی کرد، بلوچ خودمختار طلب ، عیسائی، یہودی، بہائئ ) پر بھی سماجی زندگی تنگ ہوئی اور انہوں نے بھی مخالفت کا اظہار کیا اور ملک بدر ہوئے۔

تیسرا دور 1990 کی دھائی میں ھاشمی رفسنجانی کی ترقی پسند سرمایہ کار حکومت جس میں سپاهان پاسداران کو اقتصادی اور تجارتی اقتدار حاصل ہوا۔

اسکے بعد پاپولسٹ عوام دوست مذہبی نعروں کے حامی صدر احمدی نژاد نے ملک کے تمام غریب اور دیہاتی عوام کی بھرپور اقتصادی حمایت کرکے حکومت کا طرفدار بنایا۔

اس کے مقابلے میں، متوسط اور دولتمند طبقے میں حکومتی نظام سے تعلق رکھنے والے امیروں کے بچوں میں سرمایہ کاری اور مغربی ممالک کی جانب جھکاؤ کا رحجان سامنے آئے۔ جس کے نتیجے میں حکومت کے اندر سے صدر روحانی، عارف کی سرپرستی میں اصلاح طلب ریفارمسٹ گروپ ابھرے۔ جنگ سے پہلے متوسط اقتصادی طبقے ، انتہا پسند مذہبی گروہ سے بددل مگر خاموش تماشائی اصلاحات کے منتظر تھے ۔ جبکہ حکومت پر قابض شاہانہ مراعات حاصل کرنے والے مسلح گروپ کا نھتے لادینی نوجوانوں سے مقابلہ ہوتا رہا۔ 2022 اور 2024 میں بھی اعتراضی تحریک، غیر عدالتی قتل اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں نے حکومت مخالف دائرے کو وسعت دی۔
مگر عوام کی خاموش تماشائی اکثریت کسی راہنما کی منتظر رہی۔

روزمرہ زندگی میں ایرانیوں کا طرز عمل تکلف تضادات اور مزاح سے بھرا ہوا ہے۔ وہ قانون کے دائرہ کار میں اپنے مفادات کے لیے غیر قانونی ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔ عام طور پر بہت منظم، شائستہ، فرمانبردار اور مہمان نواز ہوتے ہیں۔ لیکن رقابت برداشت نہیں کرتے اور چند منٹوں میں اپنے حقوق کے لیے دشمن بن سکتے ہیں۔

ایران میں ہر صبح طلوع آفتاب گلیوں کی صفائی، میونسپلٹی کے صفائی کرنے والوں کی کوششوں، پولیس کی حفاظت، ہر دیہی یونین میں لوکل باڈی گورننس کی گواہی دیتا ہے۔ شہری اور انٹرسٹی روڈ ٹریفک کا باقاعدگی سے چلنا، ہر نکڑ اور کونے پر صبح سویرے تندور سے نان کی خوشبو، جنگ اور شدید بمباری کے باوجود روزی روٹی کی فراہمی، بازار میں اشیائے صرف کی فراوانی، پانی، بجلی، گیس اور پٹرول کی سہولیات پورے ملک میں ایک ہی قیمت پر تمام لوگوں کے لیے موجود ہے ۔ بچوں کی تعلیم، سماجی تحفظ اور صحت کی سہولیات ہر ایک کے لیے دستیاب ہیں، جو ملک کے ہر سماجی و اقتصادی سطح کے لیے موزوں ہیں۔ اس ملک کے اکثر باشندے نعمتوں کی فراوانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن اکثر ایرانی بے صبرے، یورپی تہذیب سے موازنہ کرتے، اور ناشکرے لگتے ہیں۔ زیادہ تر فارسی لوگ اپنا موازنہ عرب شیخوں یا مغربی سرمایہ داروں سے کرتے ہیں۔ اپنے ملک کے خزانے سے بڑا حصہ چاہتے ہیں۔

ان کے غیر متوقع اور اچانک رویے میں تبدیلی، اندر سے مخالف باہرموافق زرتشتی فارسیوں کی دوہری سیاست Persian Dualism کی نمائندگی کرتی ہے۔
ہمیشہ جیت جیت کے لیے سودے بازی کرنا انکی خودغرض ظاہر کرتا ہے ۔

ہر ایرانی ذہن کے اندر ایک بادشاہ بیٹھا ہے جو تخت و تاج کی خواہش میں رو رہا ہے۔ غربت پر آہیں بھرتے ہوئے ہر ایرانی تیل کے کنوؤں کا حصہ دار ہے۔

ایرانی جوانوں کی غیر مذہبی اکثریت اب حکومتی سیاست میں مذہبی مداخلت نہیں چاہتی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بزرگان دین کے احترام میں مشہد مقدس، قم کے مزار و مدرسہ، شیراز کے شاہ چراغ، جمکران اور ہر شہر و قصبے کے مزارات پر ہر جگہ خوب رونق چل رہی ہیں۔

اکثر لوگوں کی ذاتی زندگی میں قرآن، خدا اور پیغمبر امام علیؑ کی قسم، امام حسینؑ کی شہادت کو فراموش نہیں کیا جاتا۔ لیکن دنیاوی اقتصادی تجارت و کاروبار میں، ان کے ملحد پڑوسی، سیکولر، اور بہائی، عیسائی بھی شراکت دار ہیں۔ ہر ایرانی کسی نہ کسی طرح ایک پیشہ ور تاجر ہے، جس پر بینکوں کے قرضوں کا بوجھ ہے اور خود حکومت کا مقروض ہے۔

آج ایسا لگتا ہے کہ یہاں کی موجودہ حکومت آہستہ آہستہ ملاؤں کو چھوڑ کر مذہبی نعروں کی جگہ حب الوطنی، قومی اتحاد اور عام لوگوں کے ساتھ مفاہمت کو اپنا رہی ہے۔ آج کے ایرانی عوام خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ دوستانہ معاہدے کریں گے اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات دوبارہ شروع کریں گے۔ لیکن وہ روس اور چین کے ساتھ تعاون بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی عوام کبھی خود کو تباہ کرنے والے نہیں ہیں۔ نئے سال میں ملک کی 98 فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے اور وہ خواتین کو مکمل آزادی کے قائل ہیں۔ پچھلے 47 سال میں بھی سوائے حجاب کی پابندی کے خواتین کو باپ شوہر اور اپنے فرزندکی جانب سے پورے حقوق حاصل ہیں۔

ڈیر ڈاکٹر سہیل !

آپ کا سوال ہے کہ حکومت کا رویہ عوام کے ساتھ کیسا ہے؟
اس بات کو سمجھنے کے لئے، مختلف حکومتی سطح اور عوام و خواص کے مختلف گروہوں کو جاننا ضروری ہے۔
یہاں اصل سرکاری کام، میونسپلٹی اور پلیس کے ادارے انجام دیتے ہیں ۔ تعلیم، صحت ، عدالت ٹیکسیش مواصلات صنعت و تجارت سمیت بائیس وزارت کے نمائندہ دفاتر آٹھ سو شہروں کے مرکز میں موجود اور خودمختار ہیں جو صوبے کے گورنر اور وزیروں کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ادارے پر ایک حراست اور حفاظتی انتظامات کا کنٹرول ہے جو پاسداران انقلاب اسلامی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی دینی اور عقیدتی راهنمایی کے لئے ہر دفتر میں ایک مولوی نما بندہ ہے جو مقام معظم رهبری روحانیت کی طرف سے منسوب ہوتا ہے۔ دفتری اوقات میں نماز جماعت کی امامت بھی کرتا ہے۔ سرکاری ملازمین اور ہر سطح پر فائز سارے لوگ عوام سے الگ ،خواص میں شامل ہیں جن کو خاص مراعات حاصل ہیں اور ان پر روحانیت اور سپاهان پاسداران دونوں کا کنٹرول ہے۔ یہ لوگ بہت صاف ستھرے خوش اخلاق اور تنظیم یافتہ ہوتے ہیں۔

عوامی امور کے لئے ہر ادارے نے رابطہ ایجنسی بنا رکھی ہے، جو سیمی پرائیویٹ دونوں طرف سے تھوڑی سی رقم لے کر عوام کے کام جگاڑ کرتا ہے۔ آجکل انٹرنیٹ کے ذریعے آنلاین ہوتا ہے۔ ان ایجنسیوں کے مالک ریٹائرڈ افسران ہوتے ہیں جو اکثر ملک سے باہر بزنس بھی چلاتے ہیں اور ملک کے اندر اپنے کارندے رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا حکومت اور عوام کے درمیان دو تین سطح پر بفر زون قائم ہے۔

چند اور خواص الخاص ادارے مثل شرکت نفت یا تیل کمپنی، نیشنل براڈکاسٹ، بینکاری، ڈیفنس، بارڈر سیکورٹی، ملک کے ساٹھ ائرپورٹ اور وزارت امور خارجہ ، ساواک کی متبادل تنظیم اطلاعات پر ایک خاص مخلوق کی اجارہ داری ہے جو عوام کی نظروں سے دور ہیں۔ ان خاص اداروں میں اکثر گمنام افراد شہیدوں اور روحانیت کے خاندان سے مامور ہیں جن کا ظاہری پیشہ کوئی اور ہے۔

اوپر سے نیچے تک حکومتی گروہ ملک کا پانچ فی‌صد ہوں گے ۔ اور بیس فی‌صد ان سے وابستہ روٹی روزی کمانے والے عوام۔

دوسری طرف مذہبی اقلیت اور حکومت مخالف مختلف ادوار میں زخم خوردہ بد ظن 5 فی‌صد سخت مخالف اسرائیلی لابی کے ساتھ اس امید پر کہ آئندہ حکومت میں ملکی دولت پر انکا قبضہ ہو۔

ستر فی‌صد عوام خاموش تماشائی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے روزمرہ زندگی گزار رہے ہیں۔

آخرکار حکومت مخالف اعتراضات اور موجودہ جنگ کے نتیجے میں ہر سطح پر حکومت کی کوشش رہی ہے کہ بنیادی سہولیات عوام تک پہنچیں۔

لیکن تیل کی فروخت پر امریکی تحریم کے بعد بتدریج افراط زر میں اضافہ سے منہگائی بڑھتی گئی اور لوگ بد ظن ہو کر حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کرنے لگے۔

باہر سے وائس آف امریکہ کی فارسی سرویس، بی بی سی فارسی اور لندن سے اسرائیلی نواز شاہ پہلوی کا چینل ایران انٹرنیشنل نے ایرانی مخالفان کو بھڑکانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ آہستہ آہستہ ستر فی‌صد خاموش عوام کی مخالفت بڑھتی گئی یہاں تک کہ ان کی نوجوان نسل کھل کر سامنے آئی اور رضا پہلوی کی دعوت پر 8 جنوری کی رات ملک کے بڑے شہروں میں آنارشیسم کی حد تک حکومتی اور حفاظتی اداروں، بازار مساجد دکانوں کو آگ لگادی گئی، اس کے رد عمل میں 9، 10 جنوری کو غیر علنی کرفیو کے دوران ھزارون مخالفان فوت اور زخمی ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملے کے بعد حکومت مخالف اور غیر مذہبی نوجوانوں میں خوشی اور امید کی لہر دوڑ گئی۔ ٹرمپ یاھو اور پہلوی کے وعدے کے مطابق، آیت اللہ کے جانے کے بعد- تین چار دنوں میں ملک آزاد ہوگا ۔ مگر مقامی حکومت نے سرکاری خزانے کھول کر اور سماجی رکاوٹیں ہٹا کر ، عورتوں کی بےحجابی سے آنکھیں بند کر کے ملک سنبھال لیا اور اکثریتی غیرجانبدار، مظلوم معذور عام عوام پھر خاموش تماشائی ہیں۔ لوگ امن پسند ہیں اور صرف اقتصادی بحالی چاہتے ہیں۔ جنگ کی تباہی کے بعد عوام امریکی اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔ رجیم چینج کے حامیوں کی سخت پکڑ دھکڑ ہے اور نظم انتظامات برقرار رکھنے والے حکومتی ملیشیا کے پاس ملک بھر میں دس لاکھ مسلح افراد برسر کار ہیں۔

تاریخی تبدیلی

ڈیر ڈاکٹر سہیل!
اس جنگ کی وجہ سے ساری دنیا نے جو تاریخی تبدیلی دیکھئ ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور آدمی نے تاریخ میں پہلی بار وہ الفاظ کہے جو کسی امریکی صدر نے کبھی نہیں کہے تھے — “میں نے دنیا کی مدد کی، لیکن جب میں نے مدد مانگی تو کوئی نہیں آیا۔”

یہ جملہ سنتے ہی دل میں ایک عجیب سی مسکراہٹ آتی ہے — وہی مسکراہٹ جو اس وقت آتی ہے جب کوئی ظالم پہلی بار خود کو بے بس محسوس کرے۔

Donald Trump نے فروری 2026 میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا —
بغیر کسی اقوام متحدہ کی منظوری کے،
بغیر دنیا کی رائے لیے،
بغیر کسی کو پوچھے۔
کیونکہ وہ “دنیا کا محافظ” تھا، اسے کسی سے اجازت نہیں لینی تھی۔ ایران نے جواب دیا اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی — وہ گزرگاہ جس سے دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ تیل چالیس سے پچاس فیصد مہنگا ہو گیا،

امریکی معیشت لڑکھڑانے لگی، اور ٹرمپ کو احساس ہوا کہ اب اکیلے نہیں چلے گا۔

تو اس نے فون اٹھایا۔ چین کو، جاپان کو، جنوبی کوریا کو، برطانیہ کو، فرانس کو — سب کو کہا “آؤ، ہرمز میں بحری جہاز بھیجو، ہماری مدد کرو۔” اور پھر وہ ہوا جو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا —
جرمنی نے صاف کہا “یہ تمہاری جنگ ہے، ہم نے نہیں چھیڑی۔”
جاپان نے انکار کر دیا،
آسٹریلیا نے معذرت کر لی،
اسپین نے دروازہ بند کر لیا۔
وہی ممالک جن کی دہائیوں سے امریکہ رکھوالی کرتا آیا تھا —
وہی ممالک جو نیٹو کے چھتری تلے چین سے بے فکر سوتے تھے —
انہوں نے ٹرمپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔

اور یہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
ٹرمپ نے
پیر کو کہا “کئی ممالک آ رہے ہیں”،
منگل کو سوشل میڈیا پر غصے میں لکھا
“ نیٹو اتحادی مدد نہیں کریں گے”، اور
بدھ کو Oval Office میں بیٹھ کر خود کو تسلی دی
“ہمیں کسی کی ضرورت ہی نہیں۔”
تین دن میں تین مختلف بیانات — یہ طاقت نہیں، یہ گھبراہٹ ہے۔ یہ وہی انسان ہے جس نے دنیا کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا
“جو ہماری مدد نہیں کرے گا، ہم اسے یاد رکھیں گے۔” لیکن آج دنیا نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ طاقت صرف بموں میں نہیں ہوتی —
طاقت وہاں ہوتی ہے جہاں لوگ اپنی مرضی سے ساتھ آئیں۔

اصل سوال یہ ہے — کیا ٹرمپ نے واقعی دنیا کی مدد کی تھی، یا دنیا کو اپنا مطیع بنایا تھا؟ کیا نیٹو کے ممالک کو امریکہ کا احسان تھا، یا وہ امریکہ کی مارکیٹ، امریکہ کا ہتھیار اور امریکہ کی جنگیں لڑ کر قرض چکاتے رہے؟ افغانستان میں کس نے اپنے بیٹے بھیجے؟
عراق میں کس کا خون بہا؟
لیبیا میں کس نے بمباری کی؟
“مدد” وہ نہیں جو طاقتور کمزور پر کرے اور پھر واپسی مانگے — وہ تجارت ہے، احسان نہیں۔

آج ٹرمپ کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب ایک سلطنت کو پہلی بار اپنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔ روم کو بھی ایسا ہی لمحہ آیا تھا۔ برطانوی سلطنت کو بھی۔ اور آج امریکہ کو۔ دنیا بدل رہی ہے — اور وہ آدمی جو بدلاؤ کو سب سے زیادہ ماننے سے انکاری تھا، آج اسی بدلاؤ کی زد میں ہے۔
جس نے بویا، اس نے کاٹا۔

آپ کا نوجوانی کا دوست
منظر حسین
رشت ایران

3 تبصرے ”امریکہ ‘اسرائیل اور ایران کی جنگ کے بارے میں مکالمہ: ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر منظر حسین

  1. بہت معلوماتی مکالمہ ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر منظر حسین کا تبصرہ ایران کے رہنے والے ایک شہری کا آنکھوں دیکھا حال پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت معلوماتی ہے۔ اور دونوں مصنفین کےاپنے اپنے منفرد انداز تحریر کا مزہ معلومات کے علاوہ۔

  2. Very insightful detailed article by two accomplished writers. It is amazing that law and order situation is fully under control in .
    I still woder how Iran is handling more than 3.2 million displaced people because of the war.

  3. 1)اس تضاد سے کیا مراد ہے؟
    ”وہ قانون کے دائرہ کار میں اپنے مفادات کے لیے غیر قانونی ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔”
    2)ان کے غیر متوقع اور اچانک رویے میں تبدیلی، اندر سے مخالف باہرموافق زرتشتی فارسیوں کی دوہری سیاست Persian Dualism کی نمائندگی کرتی ہے؟؟؟
    ان دونوں سوالات کی کیا توجیہہ ممکن ہے؟ ایک خاموش قاری کا سوال۔ (میں صرف یہاں ان سوالات کو رکھ رہا ہوں برائے مکالمہ)احمد رضوان

اپنا تبصرہ لکھیں