رائے اور فیصلے میں بہت فرق ہے۔ رائے وہ دانش ہے جو شخص کی شخصیت کے پس منظر سےابھرنے والے وہ خیالات ہیں جو پیش منظرکے ساتھ مل کر پیدا ہوتے ہیں۔ اب یہ ضرروی نہیں کہ ہر شخص کا شخصی پس منظر ایک جیسا ہو اور اس کو درپیش، پیش منظر بھی وہی ہو جو دوسرے کو میسر ہے۔
ایک اور طرح اس مسئلے کو سمجھتے ہیں۔ شخصیت ، خالصتاً ایک فرد کے تجربات، سماجی حالات یا ماحول، زبان، مطالعہ، خوہشات، تعصبات اور ترجیحات سے مل کر بنتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہر شخص ایک ہی طرح کی شخصیت کا مالک ہو۔ پیش منظر یعنی جن حالات یا جس طرح کے مسئلے سے کوئی شخص دوچار ہے وہ بھی ایک طرح کا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا رائے یعنی Opinion ہمیشہ مختلف ہو گی۔ فیصلہ یا Judgemnt کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ فیصلہ عموماً مشینی نوعیت کا عمل ہے جو اپنے پیش منظر اور پس منظر سے منقطع ہو کے نتیجہ اخذ کرنے کا نام ہے، جو انسانی سطح پر ناممکن عمل ہے۔کوئی شخص اپنی شخصیت کو منہا نہیں کرسکتا۔ یہ ممکن ہی نہیں۔
اس لیے فیصلہ بھی اپنی اصل میں رائے ہی ہوتا ہے۔ تنقیدی آرا ، یا تصورات اصل میں وہ خیالات ہیں جو خاص شخصی پس منظر کے مخصوص ادبی متون یا مسائل کے ساتھ الجھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ تنقیدی عمل بنیادی طور پر آرا ہیں جو کبھی حتمی یاغیر تبدیل شدہ حالت میں نہیں ہوسکتیں۔ان کو چیلینج کیا جا سکتا ہے۔ ان کو بدلا جا سکتا ہے۔ ان پر مزید آرا قائم کی جا سکتی ہیں اور ان کے آرا کو نئے زاویوں سے نئے معنی پہنائے جا سکتے ہیں۔نقاد اب منصف یاJudge نہیں رہا جو یہ بتائے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا، یا جو میں نے کہ دیا وہ حتمی ہے،بلکہ وہ ایک مبصرہے جو متن کے ساتھ اپنے شخصی مکالمے کو ریکارڈ کرتا ہے۔

یہاں ایک مثال سے مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک گاوں میں کوئی جوتے نہیں پہنتا تھا۔ سب ننگے پاوں چلتے تھے۔ایک جوتا بنانے والی فیکٹری کو خیال آیا کہ اس گاوں میں جوتے بیچے جائیں۔ ایک ماہر سیل مین کو بھیجا گیا۔ اس نے کئی دن تک سروے کیا، لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور بلاخر ایک رپورٹ تیار کی کہ اس گاوں میں کوئی جوتا نہیں پہنتا ۔ اس گاوں کے لوگ جوتوں کی تہذیب سے مکمل ناآشنا ہیں۔ ان کی تاریخ میں کسی نے جوتا نہیں پہنا۔ لہٰذا یہاں وقت ضائع کرنا بے کار ہے۔ اس سیل مین کی رپورٹ کی رپورٹ کے جواب میں ایک اور سیل مین کو اسی گاوں میں بھیجا گیا۔ اس نے بھی کچھ دن گزارے اور ایک رپورٹ لکھی جو پہلی رپورٹ سے یک سر اُلٹ تھی۔ اس نے لکھا کہ یہاں چوں کہ کوئی جوتا نہیں پہنتا لہٰذا یہاں جوتے بیچنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ان کی تہذیب میں جوتا ہے ہی نہیں، لہٰذا ان کو ایک نئی تہذیب سے روشناس کروایا جا سکتا ہے۔ لوگوں نے جوتوں کے متعلق بہت حیرانی اور ناآشنائی کا اظہار کیا ہے۔
آپ اندازہ لگا لیں کہ حالات کے ایک جیسے ہونے باوجود جسے ہم ’’پیش منظر‘‘ کہہ رہے ہیں ، دو آرا مختلف نتائج سامنے لا رہی ہیں۔ کیا ہم کسی ایک رپورٹ کو حتمی یا فیصلہ کہہ سکتے ہیں؟
بالکل اسی طرح کسی بھی تنقدی رائے کو فیصلہ یا ججمنٹ نہیں کہا جا سکتا۔ حتیٰ کہ ججمنٹ کا لفظ ہی نامعقول اور انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ انسان کبھی معنی کی تشکیل کرتے وقت حتمی نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی رائے یا خیال ’’فیصلہ‘‘ نہیں ہو سکتا ہے۔
تنقیداصل میں ایک طرح کی موضوعی سچائی ہےجونقاد کی اپنی شخصیت، اس کے مطالعے اور اس کے عہد کے تعصبات کا آئینہ ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں