پاکستان: عالمی تنازعات میں امن کا سفیر/ڈاکٹر جواد ریاض

ریاستیوں کی تاریخ صرف جنگ وجدل سے عبارت نہیں ۔دنیا میں کئی ایسی ریاستیں ہیں جو عسکری طاقت، معاشی اثرورسوخ یا جنگی تاریخ کی وجہ سے جانی جاتیں ہیں، مگر چند ریاستیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو بحرانوں کے دوران امن کو فروغ دیتیں ہیں۔ امن اور استحکام سے اپنی اور دنیا ئے عالم کی بقا یقینی بناتی ہیں۔ فاصلے کم کرنے اور دشمنوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔جس نے اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ثالث، سہولت کار اور امن کے سفیر کا کردار ادا کیا۔ آج جب دنیا ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اور ممکنہ جنگی ماحول کے باعث بے یقینی کا شکار ہے، پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حثیت سے عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مگر یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ پاکستان نے عالمی تنازعات میں تصفیاتی کردار ادا کر کے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔

اس کی سب سے بڑی اور تاریخی مثال 1971 میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی، امریکہ اور چین ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے اور عالمی سیاست دو واضح بلاکس میں تقسیم تھی۔ اس وقت پاکستان نہ صرف چین کا قریبی دوست تھا بلکہ امریکہ کا اتحادی بھی شمار ہوتا تھا۔ انہی تعلقات کی بنیاد پر پاکستان دونوں طاقتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا۔ اور انکے درمیان تعلقات استوار کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

1971 میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کا خفیہ دورۂ چین دراصل اسلام آباد ہی کے ذریعے ممکن ہوا۔ پاکستان نے اس حساس سفارتی عمل کو نہایت راز داری سے آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا تاریخی دورۂ چین بھی ممکن ہوا۔ یہی وہ موڑ تھا جس نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ چین بین الاقوامی تنہائی سے باہر آگیا، امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف ایک نئی تزویراتی برتری ملی اور عالمی معیشت و سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر پاکستان اس وقت ثالث کا کردار ادا نہ کرتا تو شاید دنیا کی سیاسی تاریخ آج مختلف ہوتی۔ پاکستان امریکہ کا ہمیشہ ایک ایسا اتحادی رہا ہے جس نے ہر کڑے وقت میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ ہاں مگر یہ بات امریکہ کے لیے پاکستان کے اتحادی کے طور پر نہیں کہی جا سکتی ہے۔
افغانستان میں داخلی صورتحال، عالمی طاقتوں کی مداخلت، دہشت گردی کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر پاکستان نے متعدد مواقعوں پر مخالفین کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے پس پردہ رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1988 کے جنیوا مذاکرات ہوں یا دوحہ مذاکرات2020 ہوں۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو امریکہ سمیت کئی عالمی حلقوں نے تسلیم کیا۔اگرچہ
پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ بندوق کبھی دیرپا امن نہیں لا سکتی، اس کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ اور پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے مگر اس خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اسکی تکمیل کے لیے ملک کے داخلی امن پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان مغربی طاقتوں اور افغانستان کے تناظر میں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان نے متوازن سفارت کاری کا راستہ اپنایا۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ ملک اور اہم علاقائی طاقت ہے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے کسی ایک فریق کا واضح حلیف بننے کی بجائے تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔ پاکستانی قیادت نے تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا تاکہ مسلم دنیا مزید تقسیم کا شکار نہ ہو۔ اگرچہ یہ کوششیں فوری نتائج نہ دے سکیں، مگر پاکستان نے عالمی سیاست میں خود کو ایک ذمہ دار، معتدل اور امن پسند ریاست کے طور منوایا ہے ۔

پاکستان نے اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ مسلم امہ کے لیے امن کا پیغام دیا۔
سفارتی حلقوں سے ریاستی پالیسی تک آزاد فلسطینی ریاست ہمیشہ پاکستان کے پیش نظر رہی۔ مگر کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو مسلم امہ کے اس پلیٹ فارم سے وہ حمایت نہیں ملی جو اسکی ضرورت تھی۔

آج جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا ہے اور خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، پاکستان کا کردار دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ-ایران تنازع کا حتمی حل ابھی سامنے نہیں آیا اور سفارتی عمل جاری ہے، مگر پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے، بات چیت کی حمایت کرنے اور ممکنہ سفارتی عمل جاری رکھنے کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا، بالخصوص جنوبی ایشیا کا خطہ، توانائی کے بحران، معاشی دباؤ اور سکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے زد میں آسکتا ہے۔

پاکستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے عالمی تنازعات کے اثرات کا براہ راست شکار رہا ہے۔ مگر یہ جغرافیائی حیثیت اسے ایک باوقار بین الاقومی ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ پاکستان بیک وقت چین کا قریبی شراکت دار، امریکہ کے ساتھ روابط رکھنے والا ملک، خلیجی ممالک کا دوست اور ایران کا ہمسایہ ہے۔ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو بیک وقت مختلف اور بعض اوقات ایک دوسرے کے مخالف بلاکس میں توازن رکھنے میں کامیاب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اکثر اوقات ایک ایسے پلیٹ فارم کا کردار ادا کر پاتا ہے جو متحارب فریقین کے کو مذاکرات کی میز تک لا سکے۔

بدقسمتی سے پاکستان کے سفارتی کردار کو اکثر داخلی سیاسی مسائل، معاشی مشکلات یا سکیورٹی خدشات کے باعث وہ توجہ نہیں ملتی جس کا وہ مستحق ہے۔ عالمی سیاست میں صرف وہی ممالک اہم نہیں ہوتے جو جنگیں جیتتے ہیں، بلکہ وہ بھی اہم ہوتے ہیں جو جنگوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو امن کے سفیر ہوتے ہیں۔اگر پاکستان اپنی متوازن خارجہ پالیسی، سفارتی مہارت اور علاقائی روابط کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کرے تو وہ آنے والے برسوں میں عالمی تنازعات کے حل میں ایک زیادہ فعال اور معتبر کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں دنیا عسکری طاقت کی بجائے ذمہ دار سفارت کاری کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی شناخت کوایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے ۔ 1971 میں امریکہ اور چین کو قریب لانے سے لے کر افغانستان میں مذاکراتی کردار، ایران-سعودی تناؤ میں مصالحتی کوششوں اور اب امریکہ-ایران کشیدگی میں ممکنہ سہولت کاری تک، پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بحرانوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، دیواریں کھڑی کرنے کی نہیں۔

آج عالمی برادری پاکستان کے کردار کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے داخلی مسائل کے باوجود علاقائی اور عالمی امن کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، یقیناً توجہ اور احترام کا مستحق ہے۔ اگر پاکستان موجودہ امریکہ-ایران کشیدگی میں تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کو منطقی انجام تک لے جانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی عالمی قد میں بھی اضافہ ہوگا ۔ دنیا پاکستان کو محض ایک جغرافیائی گومگو میں جکڑی ریاست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن کے سفیر کے طور پر تسلیم کرے گی۔اور یہی وہ مقام ہے جس کی طرف پاکستان کی سفارت کاری کئی دہائیوں سے گامزن ہے۔

ایران۔امریکا مذاکرات شاید کسی بڑے بریک تھرو کے بہت نزدیک ہیں اور ممکن ہے اس بریک تھرو کا اعلامیہ اسلام آباد کی بجائے کہیں اور سائن ہو مگر یہ بات طے ہے پاکستان کا کردار قلیدی ہے اور ہو گا۔ دنیا کے لیے ابراہم آکارڈ گلے کی ہڈی ثابت ہو رہا ہے مگر پاکستان اس پر 75 سال پہلے سے ہی واضح موقف لے چکا ہے۔ اور اس موقف پر سمجھوتے کا فی الحال تو ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے۔تو یہ بات تو طے ہے پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت ملک کی بقا اور عزت پر کوئی سودا کرے گی۔ رہ گیا سوال ایران۔امریکا حالیہ اعلامیہ تو اس اعلامیے میں ایران کی سفارتی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو یورینیم کا کٹا بند ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ مگر ہرمز کے کھلنے سے ایران اور پاکستان کی معیشتوں کو کھل کر سانس لینے کا موقع ضرور ملے گا اور یہی پاکستان کی اصل کامیابی ہو گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں