جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر/محمد امین اسد

قوموں کی زندگی میں بعض فتنے ایسے ہوتے ہیں جو باہر سے حملہ آور ہو کر نہیں آتے بلکہ اندر ہی اندر جنم لیتے ہیں، پروان چڑھتے ہیں اور پھر ایک دن پوری اجتماعی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ان فتنوں کی خطرناکی اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ ان کے خلاف دفاعی دیواریں باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے نفس، اپنے اخلاق اور اپنے اجتماعی شعور کے اندر تعمیر کی جاتی ہیں۔ جب یہ دیواریں گر جاتی ہیں تو پھر معاشرے کے اندر حق و باطل، عدل و ظلم اور سچ و جھوٹ کے درمیان حدِ فاصل دھندلا جاتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ بھی ایک ایسے ہی فتنے سے دوچار ہے جسے ہم تکفیر، مذہبی اشتعال انگیزی، ہجومی انصاف اور الزام کی سیاست کے نام سے پہچان سکتے ہیں۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، قرآن مجید آخری الہامی کتاب ہے اور اسلام ہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے مکمل صورت میں نازل فرمایا۔ ان بنیادی عقائد میں کسی صاحبِ ایمان کے لیے کوئی ابہام نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان عقائد کی حفاظت کا راستہ وہی ہے جو آج بعض حلقوں نے اختیار کر رکھا ہے؟ کیا کسی شخص کے خلاف ایک آڈیو، ایک ویڈیو، ایک افواہ یا ایک الزام سامنے آجانے کے بعد اسے مجرم، مرتد، گستاخ یا واجب التعزیر قرار دے دینا اسلام کی تعلیم ہے؟ کیا کسی انسان کو صفائی کا موقع دیے بغیر اس کے خلاف نفرت کی فضا قائم کرنا عدل ہے؟ اور کیا یہ وہی اسلوب ہے جسے رحمت للعالمین ﷺ نے اپنی امت کے لیے پسند فرمایا تھا؟

قرآن مجید کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ اگر کوئی خبر تمہارے پاس آئے تو اس کی تحقیق کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ یہ حکم صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک اجتماعی اصول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں الزام کبھی دلیل کا قائم مقام نہیں بن سکتا، جذبات کبھی انصاف کا متبادل نہیں ہو سکتے اور ہجوم کبھی عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔

لیکن ہمارے ہاں گزشتہ چند دہائیوں میں ایک ایسی ذہنیت پروان چڑھی ہے جس نے اختلافِ رائے کو جرم اور اختلافِ فکر کو غداری بنا دیا ہے۔ سیاسی اختلاف ہو تو مذہبی رنگ دے دو، مسلکی نزاع ہو تو ایمان و کفر کا مسئلہ بنا دو، ذاتی دشمنی ہو تو دین کے نام پر عوامی جذبات کو بھڑکا دو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک شخص لمحوں میں ملزم بن جاتا ہے اور ہزاروں لوگ بغیر تحقیق کے اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ یوں ایک ہی شخص مدعی بھی بن جاتا ہے، گواہ بھی، وکیل بھی، جج بھی اور جلاد بھی۔

یہ طرزِ فکر اسلامی تاریخ میں بھی اجنبی نہیں۔ خوارج نے بھی یہی روش اختیار کی تھی۔ انہوں نے اپنے فہم کو حق کا واحد معیار قرار دیا اور جو ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف کرتا تھا اسے دائرۂ اسلام سے خارج کرنے میں تامل نہ کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسی ذہنیت نے امت کو ایسے زخم دیے جن کی ٹیس آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت، حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت اور ہزاروں مسلمانوں کا خون اسی فکری انتہا پسندی کا نتیجہ تھا۔ اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ جب تکفیر اصلاح کی جگہ لے لے اور جذبات علم پر غالب آ جائیں تو نقصان صرف افراد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہوتا ہے۔

برصغیر کی تاریخ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے۔ یہاں مختلف ادوار میں شاہ اسماعیل شہیدؒ، سید احمد شہیدؒ، دیوبند کے اکابر، بریلی کے علماء، اہلِ حدیث اور دوسرے مکاتبِ فکر کے متعدد اہلِ علم ایک دوسرے کے فتووں اور الزامات کا نشانہ بنتے رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ امت نے بڑی حد تک یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ علمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو اسلام سے خارج کرنا مسائل کا حل نہیں۔ مکالمے اور برداشت کی ایک فضا پیدا ہونا شروع ہوئی تھی۔ لیکن افسوس کہ اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جس میں پرانے تعصبات کو نئی ٹیکنالوجی کی طاقت میسر آ گئی ہے۔

مصنوعی ذہانت نے انسانیت کے لیے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک ایسا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے جس کی سنگینی کا ابھی پوری طرح ادراک نہیں کیا گیا۔ آج کسی شخص کی آواز، چہرے اور اندازِ گفتگو کی ایسی نقل تیار کی جا سکتی ہے جو حقیقت سے زیادہ حقیقی محسوس ہو۔ ایک جعلی ویڈیو، ایک مصنوعی آڈیو یا ایک گھڑی ہوئی تصویر چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے میں اگر معاشرہ تحقیق، احتیاط اور انصاف کے بجائے جذبات، تعصب اور جلد بازی کو اپنا شعار بنائے رکھے تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ نہ کوئی عالم، نہ کوئی مفتی، نہ کوئی سیاسی راہنما، نہ کوئی سماجی کارکن نہ کوئی فوجی نہ کوئی پولیس اور نہ کوئی عام شہری۔

یہ مسئلہ کسی ایک جماعت، ایک مسلک یا ایک علاقے تک محدود نہیں۔ آج جو آگ ایک گروہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، کل وہی آگ دوسروں کے گھروں تک بھی پہنچے گی۔ نفرت اور تکفیر کی آگ کی یہی خاصیت ہے کہ وہ اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتی۔ جو لوگ آج اسے دوسروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، کل خود بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، اور یہ ہم نے مختلف مکاتب فکر کے علماء ، افواج کے جان نثار، سیاست کے رہمنا اور عام افراد کے بہیمانہ قتل کی غورت میں دیکھا ہے۔

خصوصاً خیبر پختونخوا، قبائلی علاقوں اور ملاکنڈ کے خطے نے اس طرزِ فکر کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ یہاں مذہبی جذبات کو سیاسی اور مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے، مخالفین کو مشکوک بنانے اور معاشرتی نفرت کو منظم انداز میں ہوا دینے کے نتائج بارہا سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے اثرات صرف سیاسی جماعتوں یا افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے معاشرتی تانے بانے کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ خاندان تقسیم ہوئے، اعتماد مجروح ہوا، اور معاشرے میں خوف اور بدگمانی نے جنم لیا۔

اسلام انسانوں کے دلوں کا فیصلہ اپنے بندوں کے سپرد نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے ظاہر کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے اور باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔ آپؐ نے اس شخص پر بھی سخت ناراضی کا اظہار فرمایا جس نے ایک کلمہ گو کے بارے میں یہ سمجھ لیا کہ وہ دل سے مسلمان نہیں۔ گویا اسلام کا مزاج یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو انسان کے حق میں حسنِ ظن اختیار کیا جائے، اس کے لیے عذر تلاش کیا جائے اور اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے، نہ کہ اسے فوری طور پر مجرم، منافق یا کافر قرار دے دیا جائے۔

آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں، تنقید کو تکفیر کا درجہ نہ دیں اور مذہب کو سیاسی یا گروہی مفادات کا ہتھیار نہ بنائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دین کی خدمت نفرت پھیلانے سے نہیں بلکہ عدل، حکمت، تحقیق اور رحمت کو عام کرنے سے ہوتی ہے۔ جو بات دلیل سے کہی جا سکتی ہے اسے الزام سے کہنے کی ضرورت نہیں، اور جو مسئلہ مکالمے سے حل ہو سکتا ہے اسے نفرت سے حل کرنے کی کوشش دراصل ایک نئے فساد کو جنم دینا ہے۔

اگر ہم واقعی اللہ کو اپنا رب، محمد ﷺ کو اپنا آخری رسول اور قرآن کو اپنی ہدایت مانتے ہیں تو ہمیں اس دین کی اس بنیادی اخلاقی تعلیم کو بھی اپنی زندگیوں میں جگہ دینی ہوگی کہ انصاف کرو، تحقیق کرو، سچ بولو اور انسانوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اللہ سے ڈرو۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو انتشار سے بچا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو معاشرے کو ہجومی انصاف کے بجائے قانون کی حکمرانی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ دے سکتا ہے جس میں اختلاف جرم نہ ہو، الزام ثبوت نہ بن جائے، اور کسی انسان کی عزت و جان چند لمحوں کے جذبات کی نذر نہ ہو جائے۔

آج بھی وقت ہے کہ ہم رک کر سوچیں۔ اگر ہم نے اپنے رویّوں کا محاسبہ نہ کیا، اگر ہم نے تحقیق کی جگہ تعصب اور انصاف کی جگہ ہجوم کو بٹھائے رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب ہر شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کرے گا۔ اس وقت نہ کوئی مسلک محفوظ ہوگا، نہ کوئی جماعت، نہ کوئی ادارہ اور نہ کوئی فرد۔ مگر تب شاید واپسی کے راستے واقعی بند ہو چکے ہوں گے۔

قومیں انتقام سے نہیں، انصاف سے زندہ رہتی ہیں۔ معاشرے الزام سے نہیں، اعتماد سے تعمیر ہوتے ہیں۔ اور دین کی سربلندی نفرت کے نعروں سے نہیں بلکہ عدل، حکمت، اخوت اور رحمت کے فروغ سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی اسلام کا راستہ ہے، یہی انسانیت کا راستہ ہے، اور یہی ہمارے اجتماعی مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان بنا پھرتا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں