مصنوعی ذہانت اور ادب کا ممکنہ نقشہ کیسا ہوگا؟-ناصر عباس نیَر

’’عین ممکن ہے‘‘: مصنوعی ذہانت اور ادب کا ممکنہ نقشہ
عین ممکن ہے،عنقریب ایسا ہو۔

کسی ناول نگار کا مخصوص اے آئی ایجنٹ ہو۔ وہ پہلے یہ تحقیق کر ے کہ کس موضوع پر ناول کے مقبول ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

وہ صرف فکشن کی مارکیٹ کو نہیں، فکشن کے انعامات کے مصنفین کی ترجیحات، معیارات ، یہاں تک کہ ان کے تعصبات اور ہم دردیوں کے نظام کا مطالعہ کرے۔

فکشن کے نقادوں کے کینن کو سمجھے۔ یہی اے آئی ایجنٹ بعد میں ، عالمی ناولوں کے اسلوب، تکنیک ، منظر نگاری ، کردار نگاری ، بیانیے کے تنوعات کو اپنے مخصوص الگوردم سے سمجھے اور اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں محفوظ کرے۔

پھر یہی ایجنٹ پورا ناول لکھے۔بس مصنف کو ٹیکسٹ کے ذریعے اپنی پیش رفت سے مطلع کرتارہے۔

یہی ایجنٹ پبلشنگ ہاؤس کو ناول کا مسودہ ای میل کرے۔

پبلشنگ ہاؤس کے پاس ، اپنا ے آئی ایڈیٹر ہو۔ وہی اس ناول کی اشاعت کا فیصلہ کرے۔

دوسرا اے آئی ایجنٹ ، ناول کی فارمیٹنگ کرے، اسے اشاعت کے لیے پریس بھیجیے۔

پھر اس کی مارکیٹنگ کرے۔ اس سب کا احوال ، پبلشنگ ہاؤس کے مالک کو واٹس ایپ پر بھیجا جاتا رہے۔

عین ممکن ہے کہ اس ناول پر تبصرے، جن بڑے اخبارات میں شائع ہوں ، انھیں بھی کسی نام رو مبصر کے اے آئی ایجنٹ نے لکھا ہو۔

اخبار میں بھی ایڈیٹر کا اپنا اے آئی ایجنٹ ہو، وہی ،اس تبصرے کی کانٹ چھانٹ کرے۔

ہوسکتا ہے ،کچھ تبصرے، نقاد لکھیں،اور براہ راست سوشل میڈیا پر شیئر کریں، یہ غیر ممکن نہیں کہ یہ تبصرے ، اے آئی کے مفت دستیاب چیٹ بوٹ سے لکھوائے گئے ہوں۔

اس وقت بھی ناول کی سوفٹ کاپی پر اے آئی ایک نگاہ ِبرق ڈال کر، پل بھر میں ، تبصرہ لکھ سکتی ہے۔عنقریب، اے آئی کی دنیا سو قدم آگے ہوگی۔

عین ممکن ہے کہ اسی مصنف کا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بھی ،اس کا اے آئی ایجنٹ چلاتا ہو۔

وہ ناول کی اشاعت ،اور اس پر تبصروں کو مسلسل شیئرکرتا رہے۔ مصنف کو وہ ناول کی مقبولیت سے آگاہ کرتا رہے۔ وہ ناول سے ، منتخب اقتباسات مسلسل شیئر کرتا رہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ناولوں پر تبصروں پر قارئین کے کمنٹس بھی ، اے آئی کے لکھے ہوں،اور ان تبصروں کے جواب بھی ، اے آئی نے دیے ہوں۔

عین ممکن ہے کہ اس ناول کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں شائع ہو۔

یہ سب ترجمے ، مترجمین کے اے آئی ایجنٹ کریں۔ ان ترجموں کی ادارت بھی اے آئی کرے، پھر ان ترجموں پر تبصرے بھی ، اے آئی کرے۔

ایک بار وہی چکر تمام ز بانوں میں دہر ایا جائے، جو اس ناول کی بنیادی زبان میں دہرایا گیا تھا۔

یہ بھی امکان ہے کہ اس ناول پر فیسٹیول میں نشستیں ہوں۔

ان نشستوں کے مقررین نے ، نشست میں شامل ہونے سے پہلے، اے آئی سے،اس ناول پر نئے انداز کا تبصرہ کروا لیا ہو،اور اسے نوٹس کی صورت سامنے رکھے ، گفتگو کررہے ہوں۔

امکان ہے کہ ان کے بعض جملوں پر تالیاں بھی بجیں، اور کسی کو خیال تک نہ آئے کہ وہ جملے، پچاس برس پہلے کی فکشن کی کسی مشہور تنقیدی کتاب سے لیے گئے تھے۔

اس کا قوی امکان ہے کہ انھی میں سے ایک ناول کو دنیا کا سب سے بڑا انعام مل جائے۔

اور اس ناول کو انعام کے لیے منتخب کرنے کی ادبی وجوہات بھی جیوری کے اے آئی ایجنٹ نے ترتیب دی ہوں۔

کیا خبر، اس انعام کے حق اور مخالفت میں سب تبصرے ، اے آئی سے کروائے جائیں۔

ہوسکتا ہے کہ یہ ناول بڑی تعداد میں فروخت ہو۔

دنیا کی سب بڑی لائبریریوں میں پہنچے۔ لوگ،قطاروں میں کھڑے ہوکر، مصنف کی دست خط شدہ کاپیاں خریدیں، اوراسے اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کریں۔

غیر اغلب نہیں کہ اس ناول پر مقدمہ چلے۔ وہی فحاشی ، کفر، کسی مقتدرہ پر تنقید کی بنیاد پر۔

استغاثہ ،جواب ِ استغاثہ ، دلائل ، سوال ، جوابی سوالات اور آخر میں فیصلہ بھی اے آئی کے دستِ برق معجز نما کا لکھا ہو۔

عین ممکن ہے اس شہر ہ آفاق ناول کو مصنف، ایڈیٹر، مبصر، مترجم ، جیوری کے اراکین، وکیل ،جج سمیت کسی نے بھی نہ پڑھا ہو۔

کسی بے خواب قاری نے پڑھ لیا ہو اور اس پر ذاتی نوٹس لکھ دیے ہوں تو اور بات ہے!

عین ممکن ہے کہ ناول کی یہی کاپی، چند سوسال بعد، ایک نادر نسخے کے طور پر کسی عجائب گھر میں محفوظ کی گئی ہو کہ یہ واحد کتاب تھی،جسے ایک آدمی نے پڑھا،اور اس پر پنسل سے نوٹس بھی لکھے!

عین ممکن ہے کہ لوگ، اس بے خواب قاری کو اے آئی کے ذریعے سرچ کریں،اور ائ آئی، خود ہی اس کا ناک نقشہ بنادیے اور سوشل میڈیا، اس ناول کے نشان زدہ صفحات اور اس قاری کی فرضی تصویروں سے بھر جائے،

اور کون کہہ سکتا ہے کہ ایک پورا ناول ،پھر کسی ناول نگار کا ایجنٹ، اس بے خواب قاری کی کتاب پڑھنے کی عادت پر لکھ دے ،اور وہ اسی ناول کی طرح مشہور ہوجائے، جسے بعد میں کوئی ایک قاری بھی نہ ملے!

اپنا تبصرہ لکھیں