انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر نئی ایجاد نے انسان کے کام کرنے کے طریقے کو ضرور بدلا ہے، مگر انسان کی اصل ضرورت کو کبھی ختم نہیں کیا۔ پتھر کے اوزار سے لے کر بھاپ کے انجن تک، چھاپہ خانے سے کمپیوٹر تک، اور اب مصنوعی ذہانت تک، ہر دور میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ شاید اب انسان غیر ضروری ہو جائے گا۔ آج یہی سوال تعلیم کے میدان میں بھی پوری شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب مصنوعی ذہانت لمحوں میں کتابیں پڑھ سکتی ہے، لیکچر تیار کر سکتی ہے، سوالوں کے جواب دے سکتی ہے اور تحقیق میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تو کیا استاد کا زمانہ ختم ہونے والا ہے؟ بظاہر یہ سوال بہت وزنی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال تعلیم کی حقیقت کو سمجھے بغیر پیدا ہوا ہے۔
اگر تعلیم صرف معلومات کا نام ہوتی تو شاید مصنوعی ذہانت استاد کی جگہ لے چکی ہوتی۔ آج دنیا کی بڑی سے بڑی لائبریری، ہزاروں تحقیقی جرائد، لاکھوں کتابیں اور بے شمار لیکچرز ایک چھوٹی سی اسکرین میں سمٹ آئے ہیں۔ مگر اسی فراوانی نے ایک نئی مشکل بھی پیدا کر دی ہے۔ معلومات کے انبار بڑھ گئے ہیں، لیکن بصیرت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معلومات علم نہیں ہوتیں، علم بھی تعلیم کی آخری منزل نہیں ہوتا، بلکہ تعلیم وہ عمل ہے جس کے ذریعے علم انسان کے فکر، کردار، مزاج اور شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشین رک جاتی ہے اور استاد کا سفر شروع ہوتا ہے۔
استاد محض معلومات منتقل کرنے والا فرد نہیں، بلکہ وہ انسان سازی کا معمار ہے۔ اس کی حیثیت ایک ماہر ظروف ساز کی سی ہے جو گِلِ خام میں وہ صورت دیکھ لیتا ہے جو ابھی کسی اور کی نگاہ میں نہیں آئی۔ وہ ایک باغبان ہے جو ہر پودے کی ضرورت الگ پہچانتا ہے، کسی کو دھوپ دیتا ہے، کسی کو سایہ، کسی کی شاخیں تراشتا ہے اور کسی کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ہر طالب علم اپنی ذہنی استعداد، نفسیاتی ساخت، خاندانی ماحول اور داخلی کیفیات کے اعتبار سے منفرد ہوتا ہے۔ ان فرقوں کو محسوس کرنا، خام صلاحیتوں کو جگانا، اعتماد پیدا کرنا اور شخصیت کی تراش خراش کرنا نہ کسی الگورتھم کے بس کی بات ہے اور نہ کسی روبوٹ کے۔
یہ کام محض تدریس نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی تعلق کا تقاضا کرتا ہے۔ استاد کے الفاظ، اس کا لہجہ، اس کی خاموشی، اس کی شفقت، اس کی تپکی، اس کی متانت، اس کی علمی دیانت، اس کی حرکات و سکنات، اس کی نشست و برخاست، اس کے چہرے کے تاثرات، اس کے جملوں کا اتار چڑھاؤ، اس کے سوال کرنے اور جواب سننے کا انداز، حتیٰ کہ اس کی مسکراہٹ اور اس کی ناراضی تک، سب کچھ خاموشی سے طالب علم کی شخصیت میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ تعلیم کا ایک ایسا غیر مرئی نصاب بھی ہوتا ہے جو کتابوں میں درج نہیں ہوتا مگر دلوں پر سب سے گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔ ہماری روایت نے اسی کو فیضانِ نظر کا نام دیا ہے۔ یہی وہ روحانی و نفسیاتی تاثیر ہے جو لفظوں سے زیادہ شخصیت کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور یہی وہ کرشماتی قوت ہے جو ایک استاد کو محض مدرس نہیں بلکہ مربی اور معمارِ قوم بنا دیتی ہے۔
مگر یہ تاثیر ظاہری وجاہت یا خوش بیانی سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی بنیاد وہی ہے جسے علامہ اقبال نے “خونِ جگر” کہا تھا۔ استاد کا مطالعہ، اس کی مسلسل علمی ریاضت، اس کا اخلاص، اس کی قربانی، اس کی فکر مندی، اس کا صبر، اس کی خود احتسابی اور اس کی زندگی کا عملی نمونہ وہ سرمایہ ہے جس سے اس کی شخصیت میں کشش پیدا ہوتی ہے۔ طلبہ استاد کی زبان سے کم اور اس کی زندگی سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ وہ اس کے الفاظ سے پہلے اس کے کردار کو پڑھتے ہیں، اس کے لیکچر سے پہلے اس کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اساتذہ کی چند باتیں پوری زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہیں جبکہ بعض کے سینکڑوں لیکچر بھی ذہن میں جگہ نہیں بنا پاتے۔
جدید اعصابی سائنس اور تعلیمی نفسیات بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ انسانی دماغ صرف منطقی معلومات سے نہیں بلکہ جذباتی تعلق، اعتماد اور مثبت انسانی تجربات سے بھی سیکھتا ہے۔ ایک حوصلہ افزا جملہ، ناکامی کے بعد استاد کا اعتماد، ایک شفقت بھری نگاہ یا بروقت کی گئی اصلاح بعض اوقات وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو درجنوں کتابیں اور سیکڑوں لیکچر بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ مصنوعی ذہانت لاکھوں صفحات کا تجزیہ کر سکتی ہے، مگر کسی طالب علم کی آنکھوں میں چھپی بے یقینی کو اعتماد میں تبدیل نہیں کر سکتی، نہ اس کے دل میں مقصد کا چراغ روشن کر سکتی ہے اور نہ اس کی شخصیت میں وہ حرارت پیدا کر سکتی ہے جو ایک صاحبِ دل استاد کے قرب سے پیدا ہوتی ہے۔
اگر استاد اس نئی ٹیکنالوجی کو حکمت کے ساتھ اختیار کرے تو یہ اس کی قوت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ سبق کی منصوبہ بندی، سوالناموں کی تیاری، مختلف سطحوں کے مطابق تدریسی مواد مرتب کرنا، تازہ تحقیقی حوالوں تک رسائی، بصری معاونات کی تیاری، مختلف مثالوں اور مشقوں کی تشکیل اور طلبہ کی ضروریات کے مطابق مواد کو ڈھالنے جیسے بے شمار کام مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں انجام دے سکتی ہے۔ اس طرح استاد کا قیمتی وقت معمولی اور تکراری کاموں میں ضائع ہونے کے بجائے اس بنیادی فریضے کے لیے محفوظ رہتا ہے جسے کوئی مشین انجام نہیں دے سکتی، یعنی سوچ پیدا کرنا، کردار سنوارنا، اخلاقی حساسیت بیدار کرنا، سوال اٹھانے کا سلیقہ دینا اور طالب علم کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا۔
اس لیے مصنوعی ذہانت کو استاد کا متبادل نہیں بلکہ اس کا معاون سمجھنا چاہیے۔ جو استاد اسے اپنا حریف سمجھے گا، وہ زمانے سے پیچھے رہ جائے گا، اور جو اسے اپنا خادم بنا لے گا، وہ اپنی تدریس کو پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر بنا سکے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک حقیقت ہمیشہ یاد رہنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت خود کوئی مستقل شعور نہیں رکھتی۔ وہ انسانوں کے پیدا کیے ہوئے علم، تجربے اور افکار سے سیکھتی ہے۔ گویا وہ اسی علمی سرمائے پر کھڑی ہے جسے صدیوں سے اساتذہ نے اپنے خونِ جگر سے پروان چڑھایا ہے۔
تعلیم کی پوری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ نصاب بدلتے رہے، ذرائع بدلتے رہے، کتابیں بدلتی رہیں، تدریسی وسائل بدلتے رہے، مگر انسان کا انسان سے سیکھنے کا فطری عمل کبھی ختم نہیں ہوا۔ کلاس روم اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ وہ فضا ہے جہاں ایک زندہ شخصیت دوسری شخصیت سے ہم کلام ہوتی ہے، جہاں علم صرف ذہن میں نہیں اترتا بلکہ روح میں سرایت کرتا ہے، جہاں استاد کا فیضانِ نظر خام ذہنوں کو روشن فکر انسانوں میں تبدیل کرتا ہے۔
چنانچہ مصنوعی ذہانت کے اس تیز رفتار دور میں بھی استاد کا مقام کم نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مشین معلومات دے سکتی ہے مگر محبت نہیں، جواب دے سکتی ہے مگر حوصلہ نہیں، تجزیہ کر سکتی ہے مگر تعلق قائم نہیں کر سکتی، الفاظ ترتیب دے سکتی ہے مگر شخصیت تعمیر نہیں کر سکتی۔ انسان سازی آج بھی خونِ جگر، فیضانِ نظر، کردار کی حرارت اور زندہ تعلق کی محتاج ہے، اور جب تک تعلیم کا مقصد صرف معلومات نہیں بلکہ انسان کی تعمیر رہے گا، تب تک دنیا کی کوئی مصنوعی ذہانت اس استاد کا نعم البدل نہیں بن سکتی جو اپنے علم، اپنے عمل، اپنی شخصیت اور اپنے اخلاص سے ایک نسل کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔


