مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اوقات ایک معاہدہ کاغذ پر چند دستخطوں سے زیادہ نہیں ہوتا، مگر اس کے پیچھے تاریخ کے پہیے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی بظاہر تین ملکوں کا دفاعی سمجھوتا ہے، مگر اس کے باطن میں ایک ایسے خطے کی بے چینی، بے اعتمادی اور نئے توازن کی تلاش چھپی ہوئی ہے جسے کئی دہائیوں سے دوسروں کی جنگوں، دوسروں کے مفادات اور دوسروں کے فیصلوں کا میدان بنا دیا گیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ. تین مختلف ریاستیں، تین مختلف جغرافیے، تین مختلف قومی مفادات، مگر ایک مشترک احساس: اب دوسروں کی چھتری پر ہمیشہ بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی احساس کسی بھی نئے اتحاد کی پہلی اینٹ ہوتا ہے۔
مکہ کا یہ معاہدہ اگر صرف ایک سفارتی تصویر، چند گرم جوش بیانات اور رسمی مشترکہ اعلامیے تک محدود رہتا ہے تو تاریخ اسے چند سطروں میں دفن کر دے گی۔ لیکن اگر یہ معاہدہ مشترکہ دفاع، انٹیلی جنس، اسلحہ سازی، فضائی و بحری تعاون اور سیاسی مشاورت کا ایک مؤثر نظام بن گیا تو پھر یہ محض تین ملکوں کا دفاعی معاہدہ نہیں رہے گا؛ یہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان طاقت کے ایک نئے پل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اصل سوال معاہدہ نہیں، ارادہ ہے. دنیا میں اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں معاہدوں کی کمی نہیں۔ مسئلہ معاہدے کا نہیں، عزم کا ہے۔
کاغذ پر لکھا ہوا یہ جملہ کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، سننے میں بہت طاقتور معلوم ہوتا ہے۔ مگر جنگ کے میدان میں کاغذ نہیں، فیصلے بولتے ہیں۔
اگر کل سعودی عرب پر میزائل گرتے ہیں تو کیا انقرہ اپنی فوج حرکت میں لائے گا؟
اگر پاکستان کی سرحد پر ایک بڑی جنگ چھڑتی ہے تو کیا ریاض اور انقرہ اسلام آباد کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟
اگر ترکیہ کسی بڑے عسکری بحران میں پھنس جاتا ہے تو کیا پاکستان اور سعودی عرب محض تشویش کا اظہار کریں گے یا عملی مدد بھی دیں گے؟
یہ سوال ابھی باقی ہیں۔
اور یہی اس اتحاد کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اور سب سے بڑا امتحان بھی۔
اتحاد کی طاقت اس کے اعلامیے میں نہیں، اس کے ردِعمل کے وقت میں ہوتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی گزشتہ کئی دہائیوں کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: امریکہ اس خطے کا سب سے بڑا بیرونی طاقت کا مرکز رہا ہے۔
سعودی عرب نے طویل عرصے تک امریکی سکیورٹی نظام پر اعتماد کیا۔ ترکیہ نیٹو کا اہم رکن ہے۔ پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ مختلف ادوار میں دفاعی اور تزویراتی شراکت داری رکھتا رہا ہے۔
مگر اب عالمی سیاست بدل رہی ہے۔
واشنگٹن کی ترجیحات بدل رہی ہیں، چین کا اثر بڑھ رہا ہے، روس نے اپنے لیے نئی جگہ بنائی ہے، ایران نے اپنے علاقائی نیٹ ورک کو مضبوط کیا ہے اور اسرائیل نے فوجی طاقت کے ذریعے اپنے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
ایسے ماحول میں ہر ریاست ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے:
اگر کل ہمارے لیے خطرہ پیدا ہوا تو کیا واشنگٹن واقعی ہمارے لیے جنگ کرے گا؟
یہ سوال جتنا سعودی عرب کے لیے اہم ہے، اتنا ہی ترکیہ اور پاکستان کے لیے بھی۔ امریکہ کے اتحادی اب صرف اتحادی نہیں رہنا چاہتے؛ وہ متبادل طاقت کے مراکز بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی مکہ معاہدے کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔
پاکستان اس اتحاد میں صرف ایک مسلم ملک کی حیثیت سے شامل نہیں ہوا۔
پاکستان کے پاس ایک بڑی اور جنگ آزمودہ فوج ہے، وسیع عسکری تجربہ ہے، میزائل صلاحیت ہے، دفاعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی صنعت ہے اور سب سے بڑھ کر جوہری صلاحیت ہے۔
مسلم دنیا میں پاکستان واحد جوہری طاقت ہے۔
یہ حقیقت مکہ اتحاد کو ایک ایسی عسکری سنجیدگی عطا کرتی ہے جو محض سفارتی اتحادوں میں نہیں ہوتی۔
لیکن پاکستان کے لیے بھی یہ اتحاد محض طاقت دکھانے کا معاملہ نہیں۔
اسلام آباد کو اپنی مغربی سرحد پر افغانستان کا مسئلہ درپیش ہے، مشرق میں بھارت ایک مستقل سکیورٹی چیلنج ہے اور اندرونِ ملک معاشی استحکام قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہے گا جو اس کے قومی مفادات سے باہر ہو۔
لہٰذا اسلام آباد کی حکمتِ عملی غالباً یہی ہوگی:
اتحاد مضبوط کرو، مگر جنگ اپنے دروازے پر مت آنے دو۔
ترکیہ اس اتحاد کی دوسری غیر معمولی طاقت ہے۔ ترکیہ صرف فوج نہیں رکھتا؛ وہ فوجی ٹیکنالوجی بھی پیدا کرتا ہے۔
ڈرونز، دفاعی صنعت، بحری صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی اور نیٹو کے ساتھ طویل فوجی تجربہ اسے اس اتحاد کا ایک اہم تکنیکی ستون بنا سکتے ہیں۔
ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف مغربی دفاعی ٹیکنالوجی کا خریدار نہیں رہنا چاہتا بلکہ اپنا دفاعی صنعتی کمپلیکس بھی کھڑا کر رہا ہے۔
اگر پاکستان کی عسکری قوت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی ایک مربوط نظام میں بدل جائیں اور سعودی عرب کی مالی قوت اس نظام کو سرمایہ فراہم کرے تو معاملہ محض تین ریاستوں کی دوستی نہیں رہتا۔
پھر ایک دفاعی صنعتی مثلث وجود میں آ سکتا ہے۔
اور دفاعی صنعت، کسی بھی اتحاد کی سب سے پائیدار بنیاد ہوتی ہے۔
سعودی عرب کو اکثر صرف مالی طاقت کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصویر اب نامکمل ہے۔ ریاض اب اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ خودمختاری چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ مفاہمت، ترکیہ سے قربت، پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازی روابط اس بات کا اشارہ ہیں کہ سعودی عرب ایک ہی طاقت کے سہارے کھڑا رہنے کے بجائے کثیرالجہتی توازن پیدا کرنا چاہتا ہے۔
مکہ معاہدہ اسی حکمتِ عملی کا دفاعی پہلو ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب شاید یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں کسی ایک محافظ کی ضرورت نہیں؛ ہمیں ایسے شراکت داروں کی ضرورت ہے جو اپنے مفاد کو ہماری سلامتی سے جوڑیں۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ اتحاد اسرائیل مخالف ہے؟ یا ایران مخالف؟
ممکن ہے جواب دونوں میں سے کوئی ایک نہ ہو۔
تینوں ممالک شاید جان بوجھ کر اس اتحاد کو کسی ایک ریاست کے خلاف محاذ کے طور پر پیش نہ کریں۔ کیونکہ اگر معاہدے کا نام ہی کسی مخصوص دشمن کے خلاف رکھ دیا جائے تو اتحاد دفاعی سے زیادہ جارحانہ تصور ہونے لگتا ہے۔
مگر سیاست میں بعض اوقات وہ چیز زیادہ اہم ہوتی ہے جو لکھی نہیں جاتی۔
اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں، ایران اور اسرائیل کی باہمی دشمنی، خطے میں پراکسی نیٹ ورکس، خلیج کی سلامتی اور امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان اپنے لیے ایک الگ تزویراتی گنجائش پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کسی ایک دشمن کے خلاف اتحاد سے زیادہ اپنے لیے جگہ بنانے کا اتحاد ہو سکتا ہے۔
اور یہی اسے زیادہ دیرپا بنا سکتا ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ نیا سنی محور ہے؟
اسے ’’سنی محور‘‘ کہنا آسان ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
مذہبی مماثلت اتحاد کی ایک تہہ ہو سکتی ہے، مگر ریاستیں مذہب سے زیادہ اپنے مفادات پر چلتی ہیں۔
ترکیہ کی ایران کے ساتھ اپنی معاشی اور سیاسی ضرورتیں ہیں۔
پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور اسے اپنے مغربی پڑوسی کے ساتھ کھلی دشمنی کی ضرورت نہیں۔
سعودی عرب بھی ایران کے ساتھ مکمل جنگ نہیں چاہتا۔
لہٰذا اگر مکہ اتحاد کو صرف ’’سنی بمقابلہ شیعہ‘‘ کے فریم میں بند کر دیا گیا تو اس کی اصل جغرافیائی سیاسی اہمیت ضائع ہو جائے گی۔
یہ مذہبی جنگ کا اعلان نہیں؛ طاقت کے نئے توازن کی تلاش ہے۔
اور اگر مصر، قطر اور امارات بھی آگئے؟
یہاں اصل کھیل شروع ہوگا۔
مصر اس اتحاد کو ایک نئی عسکری ذمہ داری کے طور پر دیکھ سکتا ہے اور اپنی معاشی مشکلات کے باعث محتاط رہے گا۔
قطر کی اپنی آزاد خارجہ پالیسی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان سے تعلقات اگرچہ اہم ہیں، مگر کئی علاقائی مسائل پر اس کے مفادات مختلف بھی رہے ہیں۔
شام کا معاملہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
اس لیے یہ تصور کہ مکہ معاہدہ کل ہی پورے مسلم مشرقِ وسطیٰ کو ایک جھنڈے تلے جمع کر دے گا، سیاسی سادگی ہوگی۔
اتحاد بنانا آسان ہے۔
مفادات کو ایک صف میں کھڑا کرنا مشکل ہے۔
اصل امتحان: پہلی گولی
تاریخ میں اتحادوں کی عمر امن کے زمانے میں نہیں ناپی جاتی۔
پہلی گولی کے بعد ناپی جاتی ہے۔
اگر کل سعودی تنصیبات پر حملہ ہوتا ہے اور ترکیہ صرف بیان جاری کرتا ہے تو معاہدے کی حیثیت بدل جائے گی۔
اگر پاکستان کی سرحد پر بحران آتا ہے اور سعودی عرب صرف سفارتی حمایت تک محدود رہتا ہے تو سوال اٹھیں گے۔
اگر ترکیہ کسی جنگ میں داخل ہوتا ہے اور باقی دونوں دارالحکومت ’’ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘ کا بیان جاری کرتے ہیں تو مکہ اعلامیہ تاریخ کا ایک خوبصورت مگر بے اثر کاغذ بن جائے گا۔
لیکن اگر تینوں ریاستیں بحران کے وقت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں، مشترکہ کمان، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور دفاعی منصوبہ بندی کا نظام قائم کیا اور ایک دوسرے کی سلامتی کو حقیقی قومی مفاد بنا لیا تو پھر نقشہ بدل سکتا ہے۔
دنیا پہلے ہی دو بڑی طاقتوں کی کشمکش سے گزر رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کی رقابت نے خطے کو مسلسل عدم استحکام میں رکھا ہے۔
اب اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی الگ تزویراتی شناخت قائم کرتے ہیں تو ایک ’’تیسری قوت‘‘ کا تصور محض تجزیاتی اصطلاح نہیں رہے گا۔
لیکن اسے محور بننے کے لیے تین چیزیں درکار ہوں گی:
مشترکہ دشمن نہیں، مشترکہ مفاد۔
مشترکہ بیان نہیں، مشترکہ حکمتِ عملی۔
اور مشترکہ خواہش نہیں، مشترکہ قربانی۔
اگر یہ تین چیزیں پیدا ہوگئیں تو مکہ کا معاہدہ محض ایک دفاعی دستاویز نہیں رہے گا۔
یہ اس خطے کی طویل تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔
اور اگر یہ تینوں چیزیں پیدا نہ ہوئیں تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ چند برس بعد مورخین اس معاہدے کو ایک ایسے دور کی علامت قرار دیں جب تین ملکوں نے تاریخ کے دروازے پر دستک تو دی تھی، مگر دروازہ کھولنے کے لیے ضروری قیمت ادا نہ کی۔
آخری سوال
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے پر دستخط کیوں کیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب تاریخ ان سے دستخطوں کی قیمت مانگے گی تو کیا وہ قیمت ادا کریں گے؟
مکہ کی سرزمین سے نکلنے والی اس آواز کا وزن اعلامیے کے الفاظ میں نہیں، آنے والے بحران میں ہوگا۔
اگر تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھ لیا تو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان طاقت کا ایک نیا پل تعمیر ہوگا۔
اگر ایسا نہ ہوا تو یہ معاہدہ بھی ان بے شمار معاہدوں کی صف میں کھڑا ہوگا جن کے الفاظ بڑے تھے، مگر تاریخ نے ان کے لیے جگہ چھوٹی رکھی۔
دنیا بدل رہی ہے۔
محور بدل رہے ہیں۔
دوستیاں بدل رہی ہیں۔
دشمنیاں نئے نام اختیار کر رہی ہیں۔
اور شاید پہلی مرتبہ مسلم دنیا کے چند بڑے ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دوسروں کی جنگوں میں مہرہ بننے کے بجائے اپنے مفادات کی بساط خود بچھائی جائے۔
مکہ معاہدہ اسی سوال کا پہلا جواب ہے۔
مگر آخری جواب ابھی تاریخ کے پاس ہے۔


