پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے بارے میں ہماری رائے اکثر دلیل سے پہلے وابستگی طے کر دیتی ہے۔ کوئی عمران خان کی محبت میں تحریکِ انصاف کی ہر بات درست سمجھتا ہے، کوئی شریف خاندان یا اپنی برادری کی نسبت سے مسلم لیگ ن کو ہر حال میں بہتر قرار دیتا ہے، کوئی بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت سے جذباتی وابستگی رکھتا ہے، کوئی مذہبی، مسلکی یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر کسی جماعت کا حامی ہے۔ یہ انسانی کمزوری اپنی جگہ درست، مگر ایک ذمہ دار شہری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پسند، خاندان، برادری، علاقے، مسلک اور جماعتی وابستگی سے کچھ دیر کے لیے بالاتر ہو کر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہی پیمانے پر پرکھے۔ محبت یا نفرت میں دیا گیا فیصلہ رائے تو ہو سکتا ہے، غیر جانب دار تجزیہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر جماعت کو واضح پیمانوں پر نمبر دیے جائیں، اور مجموعی کارکردگی دیکھ کر رائے قائم کی جائے۔
اسی اصول کے تحت پاکستان کی سات اہم سیاسی جماعتوں کو عوامی مقبولیت، انتخابی صلاحیت، تنظیم، نظریاتی وضاحت، اندرونی جمہوریت، قیادت، میرٹ، نوجوانوں اور خواتین کی شرکت، حکمرانی، پارلیمانی کردار، احتساب، مالی شفافیت، اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت، غیر منتخب قوتوں سے تعلق، قومی وسعت اور طویل المدت سیاسی وژن جیسے بیس پیمانوں پر پرکھا جائے تو ایک دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ کوئی حتمی سائنسی فیصلہ نہیں، بلکہ دستیاب تاریخی شواہد اور سیاسی رویوں کو ایک ہی ترازو میں تولنے کی ایک کوشش ہے۔ سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت کے بارے میں ماضی کے آزادانہ جائزوں میں بھی پارٹی انتخابات، قیادت کی تبدیلی، داخلی اداروں، مقامی تنظیم، اختلافِ رائے، خواتین و نوجوانوں کی شرکت اور مالی شفافیت جیسے عوامل کو ہی بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
اس پیمانے پر جماعتِ اسلامی 78، تحریکِ انصاف 72، جمعیت علمائے اسلام (ف) 70، پیپلز پارٹی 68، عوامی نیشنل پارٹی 66، مسلم لیگ ن 64 اور ایم کیو ایم پاکستان 55 نمبروں کے قریب آتی ہیں۔ لیکن ان نمبروں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جماعتِ اسلامی سب سے مقبول یا مسلم لیگ ن سب سے کمزور جماعت ہے۔ سوال مقبولیت کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سی جماعت ایک مثالی، جمہوری، منظم اور بااصول قومی سیاسی جماعت کے تصور کے کتنا قریب ہے۔
جماعتِ اسلامی اس معیار پر سب سے آگے اس لیے آتی ہے کہ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی تنظیم، کارکن سازی، نظریاتی تسلسل اور داخلی نظم ہے۔ قیادت کی پُرامن تبدیلی اور موروثی سیاست سے نسبتاً آزادی بھی اس کی نمایاں خوبیاں ہیں۔ مگر اس کی کمزوری بھی اتنی ہی واضح ہے: وہ اپنی مضبوط تنظیم کو وسیع عوامی انتخابی قوت میں تبدیل نہیں کر سکی۔ دوسرے لفظوں میں، جماعتِ اسلامی ایک مثالی تنظیم ہے، مگر ابھی تک بڑی عوامی جماعت نہیں بن سکی۔
تحریکِ انصاف کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس نے نوجوانوں کو سیاست سے جوڑا، سوشل میڈیا کو سیاسی طاقت میں ڈھالا، روایتی سیاسی خاندانوں کے مقابلے میں ایک مؤثر عوامی بیانیہ تشکیل دیا اور قومی سطح پر بے مثال عوامی حمایت پیدا کی۔ یہ اس کی غیر معمولی کامیابی ہے۔ لیکن مثالی جماعت صرف مقبول قائد کے گرد قائم نہیں ہوتی، اسے مضبوط ادارے، داخلی جمہوریت، قیادت کی آئندہ نسل، پالیسی سازی کی صلاحیت اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔ تحریکِ انصاف کے پاس عوامی طاقت بے پناہ ہے؛ اب اسے یہ طاقت مضبوط سیاسی ادارے میں ڈھالنی ہے۔
مسلم لیگ ن کو اگر صرف انتخابات جیتنے، حکومت بنانے اور نظام چلانے کی صلاحیت سے پرکھا جائے تو اس کے نمبر بہت بلند ہوں گے۔ حلقہ بندی، امیدواروں کا انتخاب، مقامی سیاسی روابط، انتخابی انتظام اور حکومتی تجربہ ایسے میدان ہیں جہاں یہ جماعت کئی دوسری جماعتوں سے آگے ہے۔ لیکن مثالی سیاسی جماعت کے معیار پر خاندان مرکزیت، موروثی قیادت اور نظریاتی وضاحت کی کمی اس کے نمبر گھٹا دیتی ہے۔ مسلم لیگ ن ایک مضبوط انتخابی اور حکومتی جماعت ہے، لیکن ایک مضبوط ادارہ جاتی جماعت بننے تک اسے ابھی سفر طے کرنا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی سیاسی خوبی اس کی بقا اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلنے کی صلاحیت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی سیاست سے لے کر بے نظیر بھٹو کی مزاحمت اور بعد کی اتحادی سیاست تک، اس جماعت نے کئی کڑے موسم دیکھے اور ہر بار اپنی سیاسی اہمیت بچا لی۔ مفاہمت، مذاکرات اور اتحاد سازی میں اس کا تجربہ قابلِ رشک ہے۔ لیکن سندھ سے باہر اس کی عوامی بنیاد کمزور پڑ چکی ہے اور موروثی قیادت کا سوال بھی اسی طرح موجود ہے جیسے مسلم لیگ ن کے سامنے۔ پیپلز پارٹی سیاسی بقا اور مفاہمت کی ماہر جماعت ہے، مگر دوبارہ حقیقی قومی جماعت بننے کے لیے اسے سندھ سے باہر اپنی بنیاد نئے سرے سے استوار کرنا ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اصل طاقت اپنی محدود انتخابی قوت کو بڑے سیاسی اثر میں بدل دینے کی صلاحیت ہے۔ مذہبی اور سماجی نیٹ ورک، منظم کارکن، پارلیمانی تجربہ اور مذاکراتی مہارت اسے اس کی نشستوں سے کہیں زیادہ سیاسی وزن عطا کرتے ہیں۔ لیکن قومی سطح پر اس کا پھیلاؤ محدود ہے۔ یہ جماعت سیاسی وزن پیدا کرنے میں مضبوط ہے، مگر وسیع قومی جماعت بننے کے لیے اسے اپنی روایتی حدود سے باہر نکلنا ہوگا۔
عوامی نیشنل پارٹی کی طاقت اس کی نظریاتی شناخت، جمہوری روایت اور سیاسی تسلسل ہے، لیکن اس کی علاقائی بنیاد محدود ہے۔ ایک قومی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف صوبوں، زبانوں اور طبقات کے درمیان وسیع سیاسی رشتہ قائم کرے، اور یہی اے این پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے شہری تنظیم اور مخصوص علاقے کے ووٹ کو سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کی ایک غیر معمولی مثال قائم کی، مگر جغرافیائی محدودیت، قیادت کی مرکزیت اور تنظیمی بحران نے اس ماڈل کو کمزور کر دیا۔ آج اسے ایک نئی، زیادہ جمہوری اور وسیع تر شہری سیاسی شناخت تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
اس تجزیے سے ایک دلچسپ فرق سامنے آتا ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ کون سی جماعت سب سے مؤثر انداز میں اقتدار حاصل کر سکتی ہے، تو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف نمایاں ہو جاتی ہیں۔ اگر سوال یہ ہو کہ کون عوام کو سب سے زیادہ سیاسی طور پر متحرک کر سکتی ہے، تو تحریکِ انصاف آگے ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ کون سی جماعت تنظیم اور داخلی نظم کے اعتبار سے مضبوط ہے، تو جماعتِ اسلامی نمایاں ہے۔ اور اگر سوال یہ ہو کہ کون مذاکرات اور سیاسی مفاہمت میں زیادہ ماہر ہے، تو پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سامنے آتی ہیں۔ یعنی ہر جماعت کسی نہ کسی سوال کا بہترین جواب ہے، مگر کوئی بھی جماعت ہر سوال کا جواب نہیں۔
اسی لیے ایک مثالی سیاسی جماعت کے لیے صرف انہی خوبیوں میں سے ایک کافی نہیں۔ مثالی جماعت وہ ہوگی جو مقبول بھی ہو مگر شخصیت پرست نہ ہو، نظریاتی بھی ہو مگر تنگ نظر نہ ہو، منظم بھی ہو مگر آمرانہ نہ ہو، اقتدار چلانے کی اہل بھی ہو مگر اقتدار کو اپنی ملکیت نہ سمجھے، اپوزیشن میں مزاحمت بھی کرے مگر ریاست کو مفلوج نہ کرے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے مخالف کے سیاسی حق کو بھی اتنا ہی تسلیم کرے جتنا اپنے حق کو۔
یہ آخری معیار دراصل سب سے اہم ہے، کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تقریباً ہر بڑی جماعت نے کبھی نہ کبھی اسٹیبلشمنٹ سے قربت اختیار کی، کبھی مزاحمت کی، اور کبھی مخالف جماعت کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کو قبول یا خاموشی سے برداشت کیا۔ پھر اقتدار سے باہر آ کر اسی رویے کو جمہوریت کے خلاف قرار دیا۔ یہی دوہرا معیار ہماری سیاست کا سب سے بڑا عارضہ ہے۔ جو اصول اقتدار میں کچھ اور اور اپوزیشن میں کچھ اور ہو جائے، وہ اصول نہیں رہتا، محض سیاسی مصلحت بن جاتا ہے۔
اسی لیے کسی بھی سیاسی جماعت کو جانچنے کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کے لیے کیا کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؛ اقتدار ملنے کے بعد اداروں کو کتنا آزاد چھوڑتی ہے؛ شکست کے بعد نتائج کو کس حد تک تسلیم کرتی ہے؛ اپنے اندر اختلاف کو کتنا برداشت کرتی ہے؛ اور کیا وہ اپنے بعد آنے والی حکومت کے لیے بھی وہی جمہوری راستہ چھوڑتی ہے جس کا مطالبہ وہ اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے لیے کرتی ہے۔
اگر ان تمام پیمانوں کا حاصل ایک جملے میں سمیٹا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے: پاکستان کی کسی ایک بڑی سیاسی جماعت میں ابھی تک مثالی سیاسی جماعت کی تمام خوبیاں یکجا نہیں ہوئیں۔ ہر جماعت کے پاس کچھ نہ کچھ ہے، اور ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ کمی بھی ہے۔ شاید اسی لیے پاکستان کو کسی ایک موجودہ جماعت کی اندھی حمایت سے زیادہ ایسی سیاسی جماعت کے تصور کی ضرورت ہے جس میں جماعتِ اسلامی کی تنظیم، تحریکِ انصاف کی عوامی رابطہ کاری، پیپلز پارٹی کی سیاسی بصیرت، مسلم لیگ ن کی انتظامی صلاحیت، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مذاکراتی مہارت اور اے این پی کی نظریاتی مستقل مزاجی جیسی خوبیاں تو جمع ہوں، مگر شخصی سیاست، موروثیت، موقع پرستی اور داخلی عدم برداشت جیسی کمزوریوں سے پاک ہوں۔
تب شاید ہماری سیاست کا سوال بھی بدل جائے۔ پھر ہم یہ نہیں پوچھیں گے کہ “میری جماعت کون سی ہے؟” بلکہ یہ پوچھیں گے کہ “ملک کے لیے بہتر جماعت کون سی ہے؟”
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک شہری واقعی سیاسی کارکن سے آگے بڑھ کر ذمہ دار ووٹر بنتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ اپنے ووٹ سے پہلے اپنی رائے کو تعصب، محبت، نفرت، خاندان، برادری اور مسلکی وابستگی سے آزاد کرنے کا نام بھی ہے۔ آخرکار کسی قوم کی سیاسی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ اپنے پسندیدہ رہنما کی کتنی تعریف کرتی ہے، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطی کو بھی غلط کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے یا نہیں۔


