وہ حسین راتیں/ مبارکہ منور

گھروں میں بجلی کے آنے سے حضرت انسان نے بہت ساری سہولتیں تو پالیں لیکن وہیں بہت سارے الطاف گنوا بھی دئیے ہیں لطائف اور خوبصورتیوں کا مجموعہ وہ رات گنوا دی ہے جس سے ہماری آج کی نوجوان نسل واقف ہی نہیں۔
جب سر شام ہی رات ہو جاتی اور مغرب کے بعد گھر سے نکلنا منع ہوتا تھا، جب لکڑیوں سے آگ جلا کر ماں کھانا بناتی اور ہم سب چولہے کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھ جاتے اور کھانا تیار ہونے کا انتظار کرتے اور اسی انتظار کے دوران دن بھر کی روداد سنتے اور سناتے جو کہ سننے والے کو کہانی لگتی اور سنانے والے کی آپ بیتی ہوتی اسی سننے سنانے کی وجہ سے گھر کے افراد ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے تھے مسائل کے حل پر گفتگو بھی ہوتی اور دلچسپ بات پر کھل کر ایک دوسرے پر ہنس بھی لیتے تھے۔ اسی دوران نگاہ مسلسل چولہے میں جلتی آگ پر ہی ہوتی جس کی دو وجوہات تھیں پہلی وجہ یہ کہ کھانا اب تیار ہو کے تب بلکہ اکثر اوقات تو کسی فرد کی طرف سے پیشگی اعلان بھی ہوجاتا کہ پہلی روٹی میری ہے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ چولہے یا آگ کے علاوہ ارد گرد اندھیرا ہونے کی وجہ سے کوئی اور چیز دکھائ بھی نہیں دیتی تھی ہمارے ایک بھائی صاحب اس عمل کو خیالات مجتمع کرنے اور کسی خاص مضمون پر توجہ مرکوز کئے رکھنے کے لیے اکسیر بتاتے تھے وہ اس سلسلے کو چولہے تک ہی محدود نہ رکھتے بلکہ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ایک معصوم سے مٹی کے تیل سے جلنے والے دئے کو گھنٹوں اس امید پر ٹکٹکی باندھے تکتے رہتے تھے کہ ایسا کرتے رہنے سے وہ ایک دن ٹیلی پیتھی کا علم سیکھ لیں گے۔ خدا معلوم انہیں ٹیلی پیتھی کا علم حاصل ہوا یا نہیں لیکن یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ اندھیرے میں ہمارے وہ حواس بھی کام کرنے لگتے ہیں جو کہ روشنی میں عام طور پر معطل رہتے ہیں مثلاً اس زمانے میں ہمارے گھر میں مٹی کے تیل سے جلنی والی فقط ایک ہی لالٹین ہوتی تھی اور اس کی روشنی محدود دائرے میں ہی رہتی اور ترجیحاً لالٹین وہیں رہتی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی مثلاً کوئی چھوٹا بچہ، مریض، یا ضعیف وغیرہ اس کے علاوہ کسی کو ضرورت پڑتی تو اندھیرے میں ہی چلے جاتے اور اندھیرے میں کام کرنے کی اس مشق نے باقی حواس کو بھی ترقی یافتہ کردیا تھا مثلاً اندھیرے میں سمت اور مطلوبہ حدف سے دوری کا درست اندازہ اور راہ میں موجود رکاوٹوں کا یاد ہونا، بعض چیزوں کو چھو کر معلوم کرنا کہ یہ کیا ہے اور بعض آہٹوں کو سن کر یا کپڑوں کی سرسراہٹ سے ہی اندازہ لگا لینا کہ حامل شخصیت کون آس پاس موجود ہے۔ صرف بینائ کے معطل ہونے سے یادداشت،شنوائی، محسوس کرنا اور کتنے ہی حواس بیدار ہو جاتے تھے
ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ برا مندے میں پہنچنے کے بعد دس قدم چلیں تو الٹے ہاتھ پر کمرے کا دروازہ آ جاتا ہے جس کے اندر داخل ہونے کے بعد تین چار قدم کے فاصلے پر ناک کی سیدھ میں بستر رکھے ہوئے ہیں جنہیں یہاں سے اٹھا کر باہر کھلے صحن میں رکھی چارپائیوں تک پہنچانا ہے جہاں چٹکی چاندنی میں گھر کے بزرگ بیٹھے بی بی سی اردو پر بڑے انہماک سے خبریں سن رہے ہوتے تھے جنہیں سننے کے بعد وہ ایک دوسرے سے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے، مجھے یاد ہے ان دنوں خبروں کے دوران ایک لائن بار بار دہرائی جاتی تھی
” آزادانہ مصفانہ اور غیر جانبدارانہ” مجھے اس کی سمجھ نہیں تھی تو والد صاحب سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ والد صاحب نے کیا جواب دیا مجھے اب یاد نہیں لیکن مجھے ان باتوں کی سمجھ اب تک بھی نہیں آئ، یہ لائن انتخابات کے موسم میں اب بھی بہت شد و مد سے دہرائی جاتی ہے لیکن انتخابات کے بعد فیصلہ تو برعکس ہی ہوتا ہے خدا معلوم ہمیں اس فقرے کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا یا پھر انتخابات کا۔
بہر حال بات ہورہی تھی چٹکی چاندنی کی کیا ہی وہ راتیں تھیں شاید نصیب والوں کو اب بھی میسر ہوں بادلوں سے آنکھ مچولی کھیلتا چاند اور افق پر اپنی اپنی پوزیشن پر کھڑے ستارے جنہیں دیکھ کر ہمارے بزرگ رات کے وقت وقت کا صحیح صحیح اندازہ لگالیتے تھے۔ ہواؤں کے دوش پر جھولتے درخت جن کی ہیئت رات کو بدل سی جاتی وہ درخت جن کی تناور شاخوں میں سنگل {لوہے کی زنجیر} سے جھولا ڈال کر دن بھر جھولتے رہتے تھے رات کو وہی درخت دیو ہیکل سے معلوم ہوتے اور خوف زدہ کرتے تھے غرض ایک ان کہی تلسمات سے بھرپور رات ہوتی تھی جس کے مبطلان سحر آج بھی اسکو یاد کرتے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں حسنین جمال صاحب اس بارے یوں رقم طراز ہیں کہتے ہیں

“تمہیں پتا ہے کہ رات کو چائے کی خوشبو بدل جاتی ہے،
موتیا خود سے آوازیں دے کر بلاتا ہے، جسے رات اپنا بنالے وہ پھر روشنیوں میں کسی کام کا نہیں رہتا۔
رات کے اس ملکوتی حسن کا تو مرزا غالب بھی قائل تھے اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں کہ

تھیں بنات النعش گردون دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئ کہ عریاں ہو گئیں
یعنی وہ ہستیاں جو دن کی روشنی میں بے جان بصورت نعش پردوں میں چھپی رہتی ہیں ان میں بھی رات کے جادو سے جان پڑ جاتی ہے اور ایسا اثر ہوتا ہے کہ از خود ہی عریاں ہو جاتی ہیں ۔
جو لوگ رات کے حسن سے صاحب تجربہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مضمون اس حسن کا پوری طرح سے احاطہ نہیں کر پا رہا کیونکہ جو بات رات کے حسن میں ہے وہ بات بیان سے باہر ہے جنہیں ابھی اس کا تجربہ نہیں ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ مصنوعی روشنیوں اور رابطوں سے دور کسی پر سکون فضا میں کھلے آسمان تلے ایک رات چاند تاروں کے ساتھ گزاریں، رات کی ہواؤں کے دوش پر جھولتے درختوں کو دیکھیں چاندنی سے بنی ان کی پرچھائی کو دیکھیں، مٹی سے اٹھتی مہک کو پرکھیں، پھولوں سے اٹھتی خوشبو کو محسوس کریں جو مانوس ہونے کے باوجود اپنے ساتھ ایک اجنبیت کا پہلو بھی رکھے ہوئے ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں