پاکستان کو درپیش مسائل، قانون کی کمزوری، احتساب کا سیاسی استعمال، انتخابی بے اعتمادی، سست انصاف، بدامنی، اور اداروں پر اشرافیہ کا غلبہ، محض عوام کی “بے شعوری” کا نتیجہ نہیں ہیں۔ سیاسیات اور حکمرانی کے مطالعے میں ایسے مسائل کو نظامی (Systemic) اور ساختیاتی (Structural)خرابیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناکامیاں وقتی یا کسی ایک حکومت کی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے، طاقت کے توازن، قانونی ساخت، وسائل کی تقسیم اور احتسابی نظام کی کمزوریوں میں پیوست ہوتی ہیں۔
جب ایک ہی نوعیت کی کمزوریاں مختلف حکومتوں اور ادوار میں برقرار رہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ مسئلہ شخصیات نہیں بلکہ نظام ہے۔
کسی ریاست میں ساختیاتی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ چند اہم اشاریوں سے لگایا جاتا ہے اور جس قانون کی حکمرانی (عدالتیں، پولیس، بنیادی حقوق)، بدعنوانی کا پھیلاؤ، ریاستی کمزوری یا نازکی (Fragility)، شہری آزادیوں پر قدغن سب سے بنیادی کمزوریاں ہے۔
بین الاقوامی اشاریوں میں پاکستان مسلسل قانون کی حکمرانی، سکیورٹی، شہری انصاف اور اختیارات پر قدغن کے حوالے سے کم درجہ بندی میں آتا رہا ہے۔ خاص طور پر امن و امان کے اشاریوں میں پاکستان نچلے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ عارضی نہیں بلکہ گہرا اور ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تمام ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ریاست کے بعض شعبے (جیسے ٹیکس وصولی میں بہتری یا کچھ انتظامی اقدامات) کام کر رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر احتساب اور خدمت کی فراہمی غیر متوازن اور غیر یقینی ہے۔
پاکستان کا آئین شہریوں پر ریاست سے وفاداری اور قانون کی اطاعت کو لازم قرار دیتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ آئین ریاست پر بھی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، جیسا بنیادی حقوق کا تحفظ، سستا اور فوری انصاف، نمائندہ اداروں کا مؤثر قیام لیکن اگر انصاف مہنگا، سست اور ناقابلِ رسائی ہو جائے تو یہ ریاست کی آئینی ذمہ داری کی ناکامی ہے، نہ کہ عوام کی۔
پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا بحران سب سے نمایاں ادارہ جاتی مسئلہ ہے۔ لاکھوں مقدمات زیرِ التواء ہیں، جن میں اکثریت ضلعی عدالتوں میں ہے۔ عام شہری زمین، خاندانی تنازعات یا فوجداری مقدمات میں برسوں انتظار کرتے ہیں۔
جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ غیر رسمی ذرائع، سفارش، مقامی بااثر افراد یا نجی طاقت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ رجحان برابری کی شہریت کو کمزور کرتا ہے اور “ساختیاتی بدعنوانی” کو جنم دیتا ہے۔
حالیہ آئینی ترامیم نے عدالتی تقرریوں اور آئینی تشریح کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ کی آزادی کمزور ہو جائے تو وہ ریاستی اختیارات پر غیر جانبدارانہ قدغن نہیں لگا سکتی۔ اس کا براہِ راست اثر عام شہری کے حقوق پر پڑتا ہے۔
ریاستی نازکی کے عالمی اشاریوں میں پاکستان کو ایک انتہائی دباؤ کا شکار ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب ریاست عوام کو بنیادی تحفظ فراہم نہ کر سکے تو اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ نتیجتاً طاقت کا توازن غیر منتخب یا غیر نمائندہ مراکز کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں عسکری ادارے تاریخی طور پر طاقت کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ جب اہم فیصلے پارلیمان کے باہر طے ہوں تو قانون سازی عوامی مفاد کے بجائے اشرافیائی مفاہمتوں کی عکاسی کرنے لگتی ہے۔
یہ دعویٰ کہ “عوام بے شعور ہیں” شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حالیہ عام انتخابات میں کروڑوں افراد نے ووٹ ڈالے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام سیاسی عمل میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔
البتہ اگر انتخابی ماحول پر سوالات اٹھیں، یا سیاسی مقابلہ غیر مساوی ہو، تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ جب ووٹ کی قدر مشکوک ہو جائے تو شہری سیاسی عمل سے بددل ہو سکتے ہیں۔ یہ عوام کی بے شعوری نہیں بلکہ نظام پر عدم اعتماد کا نتیجہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، خصوصاً لڑکیاں۔ تعلیم کی کمزوری شہری شعور، معاشی صلاحیت اور سیاسی شرکت کو محدود کرتی ہے۔ جب ریاست تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں میں کمزور ہو تو طاقتور طبقات کو اپنی برتری برقرار رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
یہ ایک ساختیاتی چکر (feedback loop) ہے
جو کہ کمزور تعلیم، کمزور شہری شرکت، کمزور احتساب، مزید ادارہ جاتی کمزوری پیدا کرتی ہے۔
آئینی طور پر پالیسی سازی کی ذمہ داری منتخب نمائندوں پر ہے، مگر عملی سیاست میں طاقت کا توازن پیچیدہ ہے۔ اگر عدلیہ کمزور ہو، میڈیا پر دباؤ ہو، اور سول سوسائٹی محدود ہو تو احتساب کے قدرتی ذرائع سکڑ جاتے ہیں۔
علماء، دانشور، میڈیا اور مذہبی قیادت بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر وہ تنقیدی سوچ کے بجائے سرپرستی کے نظام کا حصہ بن جائیں تو ادارہ جاتی زوال کو تقویت ملتی ہے۔ مگر ان سب کا کردار بھی قانونی و سیاسی ماحول سے مشروط ہوتا ہے۔
تحقیقی شواہد کے مطابق چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں:
1. پولیس، استغاثہ اور عدالتوں کی صلاحیت میں اضافہ، مقدمات کے بوجھ میں کمی۔
2. محض گرفتاریاں نہیں بلکہ مالیاتی اور انتظامی نظام کی اصلاح۔
3. آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کے بغیر احتساب ممکن نہیں۔
4. عدالتی آزادی کا تحفظ جس میں ججز کی تقرری اور آئینی تشریح کے نظام کو سیاسی اثر سے پاک رکھنا ہوگا۔
5. تعلیم اور انسانی سرمایہ کاری طویل المدتی استحکام کا بنیادی ستون ہے۔
شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان کا بحران بنیادی طور پر ادارہ جاتی، نظامی اور ساختیاتی نوعیت کا ہے۔ اسے عوام کی اجتماعی “بے شعوری” تک محدود کرنا نہ صرف سادہ لوحی ہے بلکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
ذمہ داری تقسیم شدہ ہے، مگر طاقت تقسیم شدہ نہیں۔
جب تک احتساب کے مؤثر، آزاد اور قابلِ اعتماد ادارے مضبوط نہیں ہوتے، ساختیاتی مسائل خود کو دہراتے رہیں گے۔
پاکستان کا اصل سوال یہ نہیں کہ عوام باشعور ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ادارے عوام کی مرضی اور آئینی اصولوں کے تابع ہیں یا نہیں۔


