خیبر پختونخوا کی سیاست میں بعض نام محض افراد نہیں ہوتے بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک مستقل مزاج جدوجہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ سید مختار باچا بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایک نظریاتی وابستگی کے ساتھ گزاری۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک ایسا باب بند ہوا جس میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ مسلسل فکری کاوش، تنظیمی محنت اور سیاسی استقامت کی کہانی رقم ہوئی۔
سید مختار باچا 25 فروری 1944 کو ضلع بونیر کے روحانی و تاریخی مقام پیر بابا میں ایک معزز سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے جامعہ کراچی اور جامعہ پشاور سے نباتیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ سائنسی تعلیم نے ان کے فکر و استدلال میں ایک خاص ترتیب اور منطقی ربط پیدا کیا، جو بعد میں ان کی سیاسی و نظریاتی گفتگو میں بھی نمایاں رہا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے استاد بھی رہے اور وکالت سے بھی وابستہ رہے، مگر اصل شناخت ایک نظریاتی کارکن اور تنظیم ساز کی تھی۔
خیبر پختونخوا میں ترقی پسند اور بائیں بازو کی سیاست کی روایت پہلے سے موجود تھی، جس کی فکری بنیادیں خان عبدالغفار خان، صنوبر حسین مومند اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے استوار کی تھیں۔ مختار باچا اسی روایت کے تسلسل میں آگے بڑھے، مگر انہوں نے اس روایت کو مارکسی فکر کے ساتھ جوڑ کر ایک منظم نظریاتی سمت دینے کی کوشش کی۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ رہے اور مختلف ادوار میں تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بالآخر اس کے سیکریٹری جنرل کے منصب تک پہنچے۔
ان کی سیاست محض جلسوں اور نعروں تک محدود نہ تھی۔ وہ مطالعے کو سیاسی تربیت کی بنیاد سمجھتے تھے۔ مختلف شہروں میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد، کارکنوں کو کتابیں فراہم کرنا اور نظریاتی مباحث کو فروغ دینا ان کا مستقل معمول تھا۔ ان کا یقین تھا کہ سیاسی کارکن اگر فکری طور پر مضبوط نہ ہو تو تحریکیں وقتی جوش کے بعد بکھر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو منظم مطالعے اور نظریاتی شعور کی طرف مائل کرتے رہے۔
انیس سو ستر اور اسی کی دہائی پاکستان کی سیاست میں شدید اتار چڑھاؤ کا زمانہ تھا۔ ریاستی دباؤ، پابندیاں اور گرفتاریاں اس دور کا معمول تھیں۔ مختار باچا نے بھی قید و بند اور زیرِ زمین زندگی کے مراحل دیکھے۔ مگر ان حالات نے ان کے لہجے میں تلخی پیدا نہیں کی۔ وہ اختلاف کو فکری سطح پر رکھتے اور شخصی محاذ آرائی سے گریز کرتے تھے۔ ان کا طرزِ سیاست ایک سنجیدہ اور باوقار انداز کا آئینہ دار تھا۔
افغانستان میں ثور انقلاب، پھر سرد جنگ کی کشمکش اور بعد ازاں سوویت یونین کے انہدام نے پورے خطے کی ترقی پسند سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ بہت سی تحریکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں، نظریاتی انتشار پیدا ہوا اور کارکنوں میں مایوسی نے جگہ لی۔ ایسے حالات میں مختار باچا نے حوصلہ شکنی کے بجائے ازسرنو فکری جائزے پر زور دیا۔ انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ نظریات کو حالات کے آئینے میں سمجھنا اور اپنی حکمتِ عملی کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے بھی کردار ادا کیا، جن میں قوم پرست اور جمہوری جماعتیں شامل تھیں۔ مگر ان کی اصل ترجیح ہمیشہ یہ رہی کہ پسے ہوئے طبقات، کسان، مزدور اور محنت کش طبقہ سیاسی عمل میں باعزت اور مؤثر نمائندگی حاصل کرے۔ وہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنے کے خواہاں تھے جہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو انکساری تھا۔ وہ علمی برتری کے باوجود خود کو عام کارکن کے درجے پر رکھتے۔ ملاقات کے لیے آنے والوں سے تحمل سے گفتگو کرتے، اختلاف کو برداشت کرتے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کے قریب رہنے والے افراد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ نظم و ضبط اور فکری سنجیدگی کو سیاسی زندگی کا لازمی جز سمجھتے تھے۔
ادبی میدان میں بھی انہوں نے اظہار کیا۔ اپنی جماعت اور تحریک کے نشیب و فراز کو انہوں نے تحریری صورت میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا طرزِ نگارش جذباتی خطابت کے بجائے تجزیاتی اور فکری نوعیت کا تھا۔ وہ واقعات کو محض بیان نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے پس منظر اور نتائج پر بھی غور کرتے تھے۔
آخری ایام تک وہ عملی سیاست اور فکری سرگرمیوں سے وابستہ رہے۔ امن کانفرنسیں، مباحثی نشستیں اور نظریاتی نشستیں ان کے معمول کا حصہ تھیں۔ عمر اور صحت کی کمزوری کے باوجود وہ اس یقین کے ساتھ سرگرم رہے کہ معاشروں میں تبدیلی ایک طویل عمل ہے اور اس کے لیے صبر، تنظیم اور مسلسل مکالمہ درکار ہوتا ہے۔
مختار باچا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نظریاتی وابستگی وقتی مفاد سے بالاتر ہو کر ایک مستقل عہد کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ اپنی فکر سے اختلاف رکھنے والوں کے لیے بھی ایک باوقار سیاسی کردار کی مثال ہیں۔ انہوں نے اپنے اصولوں کو حالات کے دباؤ پر قربان نہیں کیا، اگرچہ سیاسی منظرنامہ بارہا تبدیل ہوتا رہا۔
آج جب سیاست میں نظریاتی استقامت کم اور وقتی مصلحتیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں، ایسے میں سید مختار باچا کی زندگی ایک یاد دہانی ہے کہ فکری دیانت اور تنظیمی محنت ہی کسی بھی سیاسی جدوجہد کو دوام بخشتی ہے۔ افراد رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اگر انہوں نے اپنے پیچھے شعور کی ایک لہر چھوڑ دی ہو تو وہ تاریخ کے صفحات میں زندہ رہتے ہیں۔
مختار باچا بھی اسی قبیل کے لوگوں میں سے تھے۔ ان کی جدوجہد سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک نصب العین کے لیے وقف کی اور آخر دم تک اسی راہ پر قائم رہے۔ یہی کسی بھی سیاسی کارکن کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
محمد امین اسد


