شاہین بونیری: شلبانڈی کی گلیوں سے عالمی صحافت تک/محمد امین اسد

انسان کی زندگی میں بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک چھوٹے سے گاؤں کی گلیوں سے شروع ہوتے ہیں مگر وقت کے ساتھ وہ راستے وسیع دنیا کے افق تک جا پہنچتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کہانی دراصل محنت، مطالعے، سوال کرنے کی جستجو اور اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ وابستگی کی کہانی ہوتی ہے۔ شاہین بونیری بھی اسی سلسلے کی ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بونیر کی خاموش وادیوں میں پلنے والا ایک حساس ذہن کس طرح علم، ادب اور صحافت کے میدان میں اپنی ایک الگ پہچان قائم کر سکتا ہے۔

شاہین بونیری کا تعلق ضلع بونیر کے گاؤں شلبانڈی سے ہے۔ اسی گاؤں کی مٹی میں ان کی ابتدائی تربیت ہوئی اور یہیں سے ان کے فکری سفر کی بنیاد پڑی۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول امنور سے حاصل کی اور آٹھویں جماعت تک یہیں زیر تعلیم رہے۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول گاگرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کی طبیعت میں ایک خاص قسم کی فکری بے چینی موجود تھی۔ وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود رہنے والے طالب علم نہیں تھے بلکہ مطالعے، ادب اور شاعری سے فطری دلچسپی رکھتے تھے۔ کم عمری میں ہی کتابوں سے ان کی دوستی قائم ہو گئی تھی اور یہی دوستی آگے چل کر ان کی شخصیت کا بنیادی جوہر بن گئی۔

یہاں ایک ذاتی یاد بھی ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے۔ میرا شاہین بونیری سے تعارف اس زمانے کا ہے جب میں کالج کے تیسرے سال میں تھا اور وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ میں اکثر اپنے دوستوں سے ملنے ان کے گاؤں جایا کرتا تھا۔ ان ملاقاتوں کے دوران ایک کم عمر مگر غیر معمولی شوق رکھنے والا لڑکا ہمیشہ ہمارے پاس آ بیٹھتا۔ وہ شاہین تھے۔ وہ دیر تک گفتگو سنتے، سوال کرتے اور کتابوں کے بارے میں پوچھتے رہتے۔ ان کی آنکھوں میں ایک خاص طرح کی جستجو ہوتی تھی۔ میں جب بھی جاتا تو ان کے لیے بچوں کے رسائل اور کچھ دوسری کتابیں ساتھ لے جاتا۔ اسی زمانے میں مطالعے کے اسی شوق نے انہیں ہم سب کے درمیان نمایاں کر دیا تھا۔

انہی دنوں ہم نے ایک ادبی تنظیم قائم کی تھی جس کا نام “بونیر رائٹرز فورم” رکھا گیا تھا، جس کے سیکریٹری شاہین بونیری تھے۔ اس ادبی سرگرمی کا ذکر میں نے اس زمانے کے اخبار صدائے ملاکنڈ میں ایک تحریر کے ذریعے بھی کیا تھا۔ شاہین بونیری ان نوجوانوں میں شامل تھے جو نہ صرف پڑھتے تھے بلکہ مختلف رسائل اور اخبارات میں لکھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ یہی وہ ابتدائی مشق تھی جس نے آگے چل کر ان کے قلم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

ان کی شخصیت کی تشکیل میں ایک اور اہم عنصر ان کے ننھیال کا ماحول تھا۔ چارسدہ میں واقع ان کے ننھیالی گھرانے میں پشتون ادبی روایت کی ایک خاص فضا موجود تھی۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کے اندر زبان و ادب کی طرف رغبت کو مزید گہرا کر دیا۔ کم عمری ہی میں انہوں نے کتابوں سے ایسی دوستی پیدا کر لی تھی جو آگے چل کر ان کی زندگی کا مستقل سرمایہ بن گئی۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے پشاور کا رخ کیا۔ انہوں نے ماسٹر ان انگلش لٹریچر اور ماسٹر ان جرنلزم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ان کی ادبی اور صحافتی سرگرمیاں مزید وسعت اختیار کرتی گئیں۔ مختلف پشتو رسائل سے ان کا تعلق قائم ہوا اور لکھنے پڑھنے کا سلسلہ باقاعدہ صورت اختیار کرنے لگا۔ اسی دوران انہوں نے روزنامہ مشرق (اردو) اور اسٹیٹس مین (انگریزی) جیسے اخبارات کے ساتھ بھی کام کیا اور صحافت کے عملی میدان میں قدم رکھا۔ غالباً اسی زمانے میں وہ پشاور یونیورسٹی کے سالانہ میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے، جس نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو مزید نکھار دیا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی عملی زندگی کا آغاز تدریس سے ہوا۔ وہ جہانزیب کالج سوات اور بعد ازاں گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سوات میں انگریزی کے لیکچرار رہے۔ تدریس کے اس دور میں بھی ان کا تعلق ادب اور صحافت سے قائم رہا اور مطالعہ و تحریر کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔

سنہ 2005 میں جب شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں ہولناک زلزلہ آیا تو لاکھوں لوگ بے گھر اور بے سہارا ہو گئے۔ اسی سانحے کے دوران شاہین بونیری نے تدریس سے آگے بڑھ کر انسانی خدمت کے میدان میں قدم رکھا اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ساتھ بطور انسانی خدمت کے کارکن وابستہ ہو گئے۔ تدریس اور انسانی خدمات کا یہ زمانہ اگرچہ طویل نہیں تھا مگر اس نے ان کی فکری ساخت میں ایک خاص سنجیدگی پیدا کی۔ تاہم ان کی اصل دلچسپی صحافت اور تحریر کے میدان میں تھی، چنانچہ وہ جلد ہی میڈیا اور صحافت کے شعبے کی طرف متوجہ ہو گئے۔

صحافتی سفر کے ابتدائی مراحل میں وہ ریڈیو پاکستان پشاور سے بھی وابستہ رہے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ کام کیا اور رفتہ رفتہ ان کا نام پشتو صحافت کے معتبر حلقوں میں لیا جانے لگا۔ بعد میں وہ خیبر ٹیلی ویژن کے ساتھ منسلک ہوئے اور اس کے بعد پشاور میں بی بی سی پشتو سروس کے ساتھ کام کیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب ان کی صحافت نے علاقائی دائرے سے نکل کر عالمی سطح پر اپنا اثر پیدا کرنا شروع کیا۔

بعد ازاں وہ ریڈیو مشال (چیک ریپبلک پشتو سروس) کے ساتھ مستقل طور پر وابستہ ہو گئے۔ اس ادارے کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے عالمی سیاست، ثقافت اور سماجی مسائل پر بے شمار پروگرام اور تحریریں پیش کیں۔ ان کی صحافت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ وہ صرف خبروں تک محدود نہیں رہے بلکہ اپنے تجزیوں میں انسانی پہلو، تاریخی شعور اور تہذیبی تناظر کو بھی شامل کرتے رہے۔

ادب سے ان کا تعلق محض صحافتی تحریروں تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے پشتو نثر میں بھی قابل ذکر کام کیا ہے۔ ان کی پہلی معروف کتاب “دیوال سرہ خبرې” کے نام سے شائع ہوئی جس میں ان کے انشائیے شامل ہیں۔ یہ دراصل معاشرے کے مختلف گوشوں سے وابستہ وہ مشاہدات ہیں جو انہوں نے صحافت کے دوران قلم بند کیے۔

ان کی دوسری کتاب “مشالونه” ہے جو ریڈیو پر نشر ہونے والے عالمی تناظر میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر صحافت کے طالب علموں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں عالمی سیاست، صحافتی زاویوں اور معاصر مسائل کو نہایت سادہ مگر فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ان کی تیسری اہم تصنیف ہرمن ہیسے کے ناول “سدھارتھ” کا پشتو ترجمہ ہے جو 2024 میں منظر عام پر آئی۔ اس ترجمے کو پشتو نثر اور پشتو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ادبی حلقوں اور عالمی ادب کے قارئین کے لیے یہ ناول ایک قیمتی تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔

شاہین بونیری بنیادی طور پر نثر کے آدمی ہیں۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں مگر کم لکھتے ہیں۔ ان کی زیادہ توجہ نثر پر رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نثر کے ذریعے انسانی تجربات اور فکری مباحث کو زیادہ وسعت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔

ان کی فکری دلچسپیوں میں ادب اور صحافت کے ساتھ ساتھ تصوف بھی شامل رہا ہے۔ وہ پشتون فلسفی اور شاعر غنی خان بابا سے خاص طور پر متاثر رہے ہیں۔ غنی خان کی فکر میں جو انسانی آزادی، جمالیات اور فکری جرات موجود ہے، اس کی جھلک شاہین بونیری کی تحریروں میں بھی محسوس ہوتی ہے۔

آج کل وہ اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہاں رہتے ہوئے بھی وہ پشتو ادب، پشتون ثقافت اور اپنے علاقے کی تہذیبی شناخت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں: ایمل خان، مشال خان، خوشحال خان اور زریاب خان۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بچوں میں بھی مطالعے اور لکھنے پڑھنے کا شوق پایا جاتا ہے، گویا گھر کا ماحول خود ایک چھوٹے سے ادبی مکتب کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

شاہین بونیری کی تحریروں میں ایک خاص طرح کی فکری بے چینی اور سماجی شعور موجود ہے۔ ان کی ایک نثری تحریر کا اقتباس ملاحظہ کیجیے:

“د پښتني ژوند مرګ؟” میں وہ لکھتے ہیں:

“د نولسمې پیړۍ جرمن شاعر هینریخ هین وايي ــــ ؛په کوم ځای چې څوک کتاب سوځولو ته پرېښودل شي یو وخت به داسې راشي چې بیا به دغه خلک د انسانانو له سوځولو هم ډډه ونه کړي.”

یہ اقتباس دراصل اس فکری زاویے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے ذریعے وہ معاشرے میں علم دشمنی کے خطرات کو بیان کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کے مختلف واقعات کو جوڑ کر یہ بتاتے ہیں کہ جب معاشرے میں کتابوں، علم اور سوال کرنے کی روایت کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ صرف فکری زوال نہیں بلکہ انسانی تباہی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی یہ تحریر دراصل پشتون معاشرے کے اندر بڑھتی ہوئی فکری تنگی اور تشدد کے رجحانات پر ایک گہرا تنقیدی تبصرہ ہے۔

ان کی ایک اور نثری سطر میں جلاوطنی اور وطن کی یاد کا درد اس طرح بیان ہوتا ہے:

“مونږ د کلی بانډو خلک خپل خوب او خیال راوړو ـــ او د پردو وطنونو په شور ماشور کې يې لوګې کړو.”

یہ جملہ دراصل ان لاکھوں لوگوں کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے جو اپنے گاؤں، اپنی زمین اور اپنی تہذیبی یادوں کو ساتھ لے کر دنیا کے دوسرے حصوں میں جا بستے ہیں۔ ان کے اندر ایک مستقل کشمکش موجود رہتی ہے۔ ایک طرف نئی دنیا کی حقیقتیں اور دوسری طرف اپنے گاؤں کی یادیں۔ شاہین بونیری نے اس احساس کو نہایت سادہ مگر گہری زبان میں بیان کیا ہے۔

اسی طرح ان کی ایک نظم میں گاؤں کی بدلتی ہوئی فضا کا درد جھلکتا ہے:

“ماته د کلي د رنګونو قیصې ولې کوې؟”

یہ نظم دراصل اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ جدید دور کے سیاسی اور سماجی بحرانوں نے دیہاتی زندگی کی وہ خوبصورتی اور معصومیت ختم کر دی ہے جو کبھی پشتون معاشرے کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ گاؤں کے چشمے، گودر، رباب کی آوازیں اور محبت کی سادگی اب ماضی کی یادیں بن چکی ہیں۔ شاعر اس تبدیلی کو صرف ایک سماجی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے تہذیبی زوال کے استعارے کے طور پر پیش کرتا ہے۔

شاہین بونیری کی زندگی کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے اپنے گاؤں کی سادہ فضا سے نکل کر عالمی صحافت کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی، مگر اس کے باوجود اپنے تہذیبی اور فکری رشتوں کو کبھی نہیں توڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں بونیر کی مٹی کی خوشبو، پشتون معاشرے کی یادیں اور انسانی فکر کی گہرائی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔

بلاشبہ بونیر کی سرزمین کے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ اس نے ایسے لوگ پیدا کیے جو اپنی محنت، مطالعے اور فکری جستجو کے ذریعے نہ صرف اپنی شناخت قائم کرتے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کا نام بھی دنیا کے وسیع افق تک پہنچاتے ہیں۔ شاہین بونیری اسی روایت کے ایک روشن نمائندہ ہیں۔
محمد امین اسد

اپنا تبصرہ لکھیں