آٹھ مارچ محض ایک تاریخ نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا بھر میں عورت کے حقوق، اس کی عزت اور اس کی آزادی پر گفتگو کی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس گفتگو کو صرف نعروں تک محدود رکھتے ہیں، یا اسے اپنے رویّوں میں بھی جگہ دیتے ہیں؟ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں خاندانی نظام مضبوط ہے اور روایت کو بڑی اہمیت حاصل ہے، وہاں عورت کی حرمت کا سوال اور بھی زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں عزت کے نام پر بات بہت ہوتی ہے، مگر عزت کے اصل مفہوم پر غور کم کیا جاتا ہے۔
چند برس قبل ایک فلم منظرِ عام پر آئی تھی، پنک۔ اس میں امیتاب بچن نے ایک وکیل کا کردار ادا کیا اور تپسی پننو نے ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھایا جسے معاشرہ کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ کہانی سادہ تھی، مگر سوال گہرا۔ ایک موقع پر عدالت میں یہ بات پوری شدت سے کہی جاتی ہے کہ اگر ایک عورت “نہ” کہہ دے تو اس کے بعد کسی وضاحت، کسی تاویل اور کسی بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ جملہ فلم کا مکالمہ تھا، مگر درحقیقت یہ ہمارے پورے معاشرے کے لیے آئینہ تھا۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے ہاں کتنی مرتبہ عورت کی “نہ” کو واقعی “نہ” سمجھا جاتا ہے۔ کتنی بار اس کے انکار کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور کتنی بار اس پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے۔ ہم اکثر پوچھتے ہیں کہ وہ وہاں کیوں گئی تھی، اس نے دوستی کیوں کی، اس نے جواب کیوں دیا، وہ خاموش کیوں نہ رہی۔ یہ سوالات بظاہر سادہ لگتے ہیں، مگر دراصل یہ انصاف کی تلاش نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار کا راستہ ہوتے ہیں۔ ہم طاقتور کو بچانے کے لیے کمزور پر انگلی اٹھا دیتے ہیں۔ یہی وہ ذہنیت ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں عورت کے حقوق کی بحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان الجھ جاتی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر آواز کو مغرب زدگی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو روایت کو سراسر ظلم سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ ہمارے دینی اور اخلاقی اصول عورت کو عزت، تحفظ اور اختیار دیتے ہیں۔ مگر مسئلہ اصولوں کا نہیں، عمل کا ہے۔ جب بیٹی کو خاموشی سکھائی جائے اور بیٹے کو اختیار، تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ جب عورت کی تعلیم پر سوال اٹھایا جائے اور مرد کی تربیت کو نظرانداز کر دیا جائے، تو معاشرہ انصاف سے دور ہو جاتا ہے۔
آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ عورت محض کسی کی بیٹی، بہن یا بیوی نہیں، وہ ایک مکمل انسان ہے۔ اس کی رضا، اس کی خواہش اور اس کی حدود کا احترام کرنا صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کا استعمال برتری نہیں، کمزوری ہے۔ بیٹیوں کو یہ یقین دینا ہوگا کہ ان کی آواز کی قدر ہے۔ مدرسوں، اسکولوں اور جامعات میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ عزت لباس یا طبقے سے وابستہ نہیں، بلکہ انسان ہونے سے وابستہ ہے۔
عالمی یومِ خواتین کے موقع پر ہمیں شور سے زیادہ شعور کی ضرورت ہے۔ یہ دن تصادم کا نہیں، اصلاح کا ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے رویّوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم سچ میں انصاف کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، یا صرف اپنے مفاد کے ساتھ؟ کیا ہم مظلوم کی بات سنتے ہیں، یا طاقتور کی حیثیت دیکھتے ہیں؟ اگر ہم ان سوالوں کا دیانت داری سے جواب دے لیں تو شاید ہمیں کسی فلم کے مکالمے کی ضرورت نہ پڑے کہ وہ ہمیں یاد دلائے کہ “نہ” کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
کسی قوم کی عظمت اس کے نعروں سے نہیں، اس کے کمزور ترین فرد کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر ہماری بیٹیاں، بہنیں اور مائیں اپنے ہی معاشرے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو ہمیں جشن سے پہلے احتساب کرنا چاہیے۔ آٹھ مارچ اسی احتساب کا دن ہے۔ اگر ہم نے اس دن کو سنجیدگی سے لے لیا، تو شاید آنے والے برسوں میں ہمیں عورت کی حرمت کے لیے دلیلیں نہیں دینی پڑیں گی، کیونکہ وہ ہمارے کردار کا حصہ بن چکی ہوں گی۔
محمد امین اسد


