شمیم شاہد: بارود کے سائے میں سچ کی صحافت کا استعارہ/محمد امین اسد

پاکستان کے شمال مغربی خطے کی صحافت کی تاریخ دراصل ایک ایسے سفر کی کہانی ہے جس میں قلم کو اکثر بارود کی بو، خوف کے سائے اور غیر یقینی حالات کے درمیان اپنا راستہ بنانا پڑا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں خبر صرف ایک اطلاع نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات ایک خطرہ بھی بن جاتی ہے۔ یہاں سچ لکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا، کیونکہ حالات ایسے رہے ہیں کہ صحافی کو طاقت، سیاست اور عسکریت کے درمیان ایک نازک راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے اس خطے کی صحافت میں وہ لوگ زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں جو اپنے پیشے کو محض روزگار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت سمجھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی صحافتی روایت میں چند نام اسی وجہ سے عزت اور احترام کے ساتھ لیے جاتے ہیں، اور انہی معتبر ناموں میں ایک نمایاں نام شمیم شاہد کا بھی ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک اس خطے کے پیچیدہ سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی مسائل کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ انہیں پوری دیانت داری کے ساتھ قلم بند بھی کیا۔

شمیم شاہد کی صحافت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ رہی ہے کہ ان کی تحریریں محض معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ان میں میدان کا مشاہدہ، حالات کی گہرائی اور زمینی حقیقتوں کی جھلک بھی موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ خبر کو دور بیٹھ کر نہیں بلکہ اس ماحول کے اندر جا کر سمجھا جائے جہاں وہ واقع ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی سیاست، قبائلی علاقوں کے مسائل، دہشت گردی کے پیچیدہ حالات اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات جیسے موضوعات پر ان کی رائے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک انہوں نے ان مسائل کو قریب سے دیکھا اور اس پورے خطے کی سیاسی اور سلامتی کی صورت حال کو مسلسل اپنے قارئین تک پہنچایا۔

ان کی زندگی کا آغاز ضلع بونیر کے علاقے طوطالئی سے ہوا جہاں وہ یکم جنوری 1959 کو پیدا ہوئے۔ بونیر کی سرزمین اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے سماجی ماحول کے لیے بھی جانی جاتی رہی ہے جہاں سیاسی شعور اور اجتماعی معاملات پر گفتگو کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی ماحول ان کی ابتدائی تربیت کا حصہ بنا۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو سیاسی اور سماجی لحاظ سے نمایاں رہا ہے۔ ان کے خاندان کے افراد نے مختلف ادوار میں عوامی سیاست اور سماجی خدمت میں کردار ادا کیا۔ ان کے بھائی سردار حسین بابک خیبر پختونخوا کی سیاست کا ایک معروف نام ہیں اور صوبے کے وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔ اسی خاندان میں ان کے چچا محمد کریم بابک کا نام بھی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے جنہوں نے سیاسی اور سماجی میدان میں اپنی شناخت قائم کی۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے شمیم شاہد کو سیاست کے پیچیدہ معاملات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ضرور ملا، مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ خاندانی وابستگیاں ان کی صحافت پر اثر انداز نہ ہوں۔ ان کے نزدیک صحافت کی بنیاد غیر جانبداری اور دیانت داری پر قائم ہونی چاہیے۔

تعلیم کے میدان میں ان کا سفر سوات کے تاریخی ادارے جہانزیب کالج سے شروع ہوا جہاں انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم حاصل کی۔ یہ ادارہ مالاکنڈ ڈویژن میں علم و ادب کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور یہاں کی علمی فضا نے ان کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے جامعہ گومل سے گریجویشن مکمل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں انہیں معاشرتی مسائل اور سیاسی حالات کو سمجھنے کا شوق پیدا ہو چکا تھا۔ یہی شوق آگے چل کر ایک شعوری رجحان میں بدل گیا اور اسی نے انہیں صحافت کے میدان کی طرف مائل کیا۔ اس زمانے میں خطے کی سیاست تیزی سے بدل رہی تھی اور ایک حساس ذہن کے لیے یہ حالات سوالات اور تجسس کا سبب بن رہے تھے۔

صحافت کے میدان میں ان کا عملی سفر اس وقت شروع ہوا جب پاکستان اور افغانستان کے حالات پورے خطے کو متاثر کر رہے تھے۔ افغان جنگ کے اثرات، قبائلی علاقوں کی صورت حال اور سرحدی سیاست کی پیچیدگیاں اس زمانے میں عالمی توجہ کا مرکز تھیں۔ شمیم شاہد نے مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے تجربے کو وسعت دی۔ دی نیشن، پاکستان ٹوڈے، ایکسپریس ٹریبیون، روزنامہ آج، فرنٹیئر پوسٹ، پاکستان ٹائمز اور وائس آف امریکہ جیسے اداروں کے ساتھ وابستگی نے انہیں نہ صرف پیشہ ورانہ اعتبار سے مضبوط بنایا بلکہ انہیں ایک وسیع صحافتی افق بھی فراہم کیا۔ خصوصاً دی نیشن کے ساتھ ان کی وابستگی نے انہیں خیبر پختونخوا کی صحافت میں ایک نمایاں مقام دلایا۔ پشاور میں اس ادارے کے بیورو چیف کی حیثیت سے انہوں نے قبائلی علاقوں اور افغانستان سے متعلق متعدد اہم رپورٹس اور تجزیے تحریر کیے جو بعد میں حوالہ جاتی اہمیت اختیار کر گئے۔

شمیم شاہد کی صحافتی زندگی میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کا اثر بھی نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔ صحافت کے ابتدائی دور میں ان کے ساتھ قربت اور مسلسل تبادلۂ خیال نے انہیں خاص طور پر افغان سیاست اور خطے کے پیچیدہ حالات کو سمجھنے میں مدد دی۔ انہیں رحیم اللہ یوسفزئی کے ساتھ چند اہم بین الاقوامی مواقع پر سفر کا بھی موقع ملا، جن میں افغانستان کے لویہ جرگہ میں شرکت کے علاوہ امریکہ اور بنگلہ دیش کے دورے شامل تھے۔ ان اسفار اور مشترکہ تجربات نے شمیم شاہد کی صحافتی بصیرت کو مزید وسیع کیا، اور وہ ہمیشہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ رحیم اللہ یوسفزئی اس خطے کی صحافت میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے جن سے سیکھنے کا موقع ان کے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہوا۔

شمیم شاہد سے میری باضابطہ فقط ایک ہی ملاقات سنہ 2008 کے لگ بھگ اس وقت ہوئی جب میں پہلی مرتبہ پشاور میں دی نیشن کے دفتر گیا۔ اس دور میں پشاور کی صحافتی فضا آج کی طرح ڈیجیٹل شور اور سوشل میڈیا کے ہنگاموں سے بھری ہوئی نہیں تھی۔ اخبارات کے دفاتر میں ایک خاص سنجیدگی، وقار اور فکری سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی ملاقات میں میں نے ان سے دی نیشن کے لیے لکھنے کے بارے میں رہنمائی طلب کی۔ انہوں نے بڑے خلوص اور شفقت کے ساتھ کہا کہ بس لکھتے رہو، قلم کو روکو نہیں۔ ان کی اس حوصلہ افزائی کے بعد میرے کئی خطوط اور رپورٹس دی نیشن میں شائع ہوئیں، جو میرے لیے ایک حوصلہ افزا تجربہ ثابت ہوا۔

ان کی صحافتی زندگی خطرات سے بھی خالی نہیں رہی۔ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں خیبر پختونخوا میں صحافت کرنا ایک مشکل اور خطرناک کام تھا۔ ایسے حالات میں بے باک رپورٹنگ اکثر مختلف گروہوں کی ناراضی کا سبب بن جاتی تھی۔ ایک موقع پر پشاور پریس کلب کے باہر ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا ہدف دراصل شمیم شاہد تھے۔ خوش قسمتی سے بروقت کارروائی کے باعث وہ محفوظ رہے۔ اسی طرح 2013 میں کابل میں بھی ان کے خلاف ایک منصوبے کی اطلاع سامنے آئی۔ ایسے واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اس خطے میں سچ لکھنے کی قیمت کبھی کبھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

صحافت کے ساتھ ساتھ انہوں نے صحافی برادری کی قیادت کا کردار بھی ادا کیا۔ وہ پشاور پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے اور اس حیثیت میں انہوں نے صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ اسی طرح پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے مرکزی صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے میڈیا کے کارکنوں کے مسائل اور آزادی صحافت کے معاملات پر بھرپور جدوجہد کی۔ ان کی یہ سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ ان کے نزدیک صحافت صرف ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔

حالیہ برسوں میں جب پاکستان میں “فیک نیوز” اور “ڈس انفارمیشن” کے خلاف مہم شروع کی گئی تو شمیم شاہد نے اس معاملے پر بھی کھل کر اپنی رائے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط معلومات کا مقابلہ ضرور کیا جانا چاہیے، مگر اس عمل کو اس طرح استعمال نہیں ہونا چاہیے کہ تنقیدی آوازیں دب جائیں۔ ان کے نزدیک ریاست کا کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس پر تنقید نہ کی جا سکے۔ اگر ریاستی ادارے پالیسی سازی اور عوامی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں تو انہیں عوامی احتساب اور تنقید کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو کریک ڈاؤن کے بجائے ذمہ دار اور پیشہ ور مین اسٹریم میڈیا کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ غلط معلومات کا مقابلہ حقائق اور تحقیق کے ذریعے کیا جا سکے۔

شمیم شاہد کی خدمات کو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ وہ متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جہاں سیکیورٹی، دہشت گردی اور علاقائی سیاست جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ برسلز، برلن، نئی دہلی، کابل، نیویارک اور واشنگٹن میں منعقد ہونے والی مختلف کانفرنسوں میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی صحافت کو عالمی سطح پر بھی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔

حال ہی میں جنوری 2026 میں گورنر ہاؤس پشاور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شمیم شاہد کو ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔ یہ ایوارڈ بلوچستان انٹرنیشنل تھنک ٹینک کی جانب سے دیا گیا تھا اور اس تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے صحافی انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں اور شمیم شاہد جیسے لوگ اس پیشے کے لیے ایک مثال ہیں۔ ان کے بقول ایسے صحافی معاشرے میں امید اور اعتماد کی علامت ہوتے ہیں۔

شمیم شاہد کی زندگی اس حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ صحافت اگر اصولوں کے ساتھ کی جائے تو وہ صرف ایک پیشہ نہیں رہتی بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جنگ، دہشت گردی، سیاسی بحران اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کو قریب سے دیکھا، مگر اس سب کے باوجود ان کا قلم خاموش نہیں ہوا۔ بونیر کے ایک نسبتاً خاموش گاؤں سے نکل کر پشاور اور بین الاقوامی صحافتی حلقوں تک پہنچنے والا یہ سفر دراصل ایک ایسے صحافی کی داستان ہے جس نے ہمیشہ سچائی کو اپنی اصل طاقت بنایا۔ آج جب نئی نسل صحافت کے میدان میں قدم رکھ رہی ہے تو شمیم شاہد جیسے لوگوں کی زندگی ایک مثال بن کر سامنے آتی ہے اور یہ یاد دلاتی ہے کہ صحافت کی اصل طاقت نہ شور میں ہے اور نہ شہرت میں، بلکہ اس حوصلے میں ہے جو ہر دباؤ کے باوجود سچ کو بیان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں